Thursday, 23 November 2017

پاکستان میں انٹرنیٹ آزادی کی حالت انتہائی ابتر: رپورٹ

امریکہ میں قائم ’فریڈم ہاؤس‘ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ، ’فریڈم آن دی نیٹ‘ میں 65 ملکوں میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لیا گیا ہے؛ جو عدد دنیا میں آن لائن صارفین کا 87 فی صد ہے

اسلام آباد — 

ایک غیر جانبدار مطالعاتی رپورٹ پاکستان کو برازیل، میکسیکو اور شام کے چار ملکوں میں شامل شمار کرتی ہے، جہاں گزشتہ تین برسوں کے دوران انٹرنیٹ پر حساس موضوعات کے بارے میں تحریر پر لوگ قتل ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں قائم ’فریڈم ہاؤس‘ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ، ’فریڈم آن دی نیٹ‘ میں 65 ملکوں میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لیا گیا ہے؛ جو عدد دنیا میں آن لائن صارفین کا 87 فی صد ہے۔

یہ حالیہ مطالعہ بنیادی طور پر جون 2016ء سے مئی 2017ء کے عرصے کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔

تحقیق میں اعلان کیا گیا ہے کہ لگاتار چھ برسوں سے، پاکستان اس ضمن میں ’’آزاد نہیں ہے‘‘۔ اس جانب دھیان مبذول کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سماجی میڈیا کے کارکنان کو تشدد اور ڈانٹ ڈپٹ کے نتیجے میں انٹرنیٹ فریڈم میں بگاڑ آیا ہے۔

رپورٹ میں توجہ دلائی گئی ہے کہ ’’انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن، مسئلے کی جڑ سائبرکرائیم قانون، اور حکومتی ناقدین کے خلاف سائبر حملوں کے باعث صورت حال میں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے میں جب پاکستان 2018ء کے انتخابات کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، آن لائن سیاسی تقریر پابندی عیاں ہے‘‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا زیادہ تر ہدف آن لائن صحافی اور بلاگر بنتے ہیں، جو سیاست، بدعنوانی اور جرائم پر لکھتے ہیں؛ ساتھ ہی وہ لوگ جو اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کرتے ہیں، جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوں یس جس سے اکثریتی آبادی کی رائے کو چیلنج لاحق ہوتا ہو۔

مطالعہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ردِ عمل میں حملوں پر اتر آنے والے نامعلوم رہتے ہیں۔ ’’تاہم، اُن کے اکثر اقدامات طاقت ور افراد یا اکائیوں کے سیاسی مفادات سے ملتے جلتے ہیں‘‘۔

رپورٹ میں تحقیق کی میعاد کے دوران پُرتشدد کارروائی یا دھمکیوں پر مشتمل واقعات کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ تاہم، حکومتِ پاکستان نے رپورٹ سے متعلق ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

بشکریہ VOAاردو 

Saleh Muhammad is playing Benjo in Mubarak Village.

https://youtu.be/HgHb8CgGJgQ

اسرائیل، فیس بک اور گوگل پر ٹیکس لگائے گا

اسرائیلی قوانین کے تحت ملک کے اندر مستقل بنیادوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو اپنے منافعوں کا 24 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے، تاہم ملک کے اندر سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں کافی چھوٹ مل جاتی ہے۔

واشنگٹن — 

مالی أمور سے متعلق ایک اسرائیلی اخبار’ دی مارکر‘نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل گوگل اور فیس بک جیسی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں پر ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہا ہے اور ایک سال کے اندر انہیں واجب الادا ٹیکس کا بل بھیج دیا جائے گا۔

بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرح یورپی یونین اور کئی دوسرے ملک بھی انٹرنیٹ پر منافع حاصل کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ٹیکس نیٹ ورک کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں۔

دی مارکر نے اسرائیل کی ٹیکس اتھارٹی کے چیئر میں موشے اشعر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ٹیکس کے بل کی تیاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ اور اب ٹیکس حکام یہ طے کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس کا تعین کیسے کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس حکام اس بارے میں غور و خوض کررہے ہیں کہ انٹرنیٹ کی بڑی عالمی کمپنیاں اسرائیلی صارفین سے کتنا منافع کماتی ہیں جن پر ٹیکس عائد کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو اس خبر کی تصدیق کی، تاہم اتھارٹی کے چیئر مین اشعر نے بات کرنے سے معذرت کر لی۔

گوگل اور فیس بک کے نمائندے اس بارے میں بات کرنے کے لیے فوری طور پر دست یاب نہیں ہو سکے۔

اسرائیلی قوانین کے تحت ملک کے اندر مستقل بنیادوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو اپنے منافعوں کا 24 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے، تاہم ملک کے اندر سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں کافی چھوٹ مل جاتی ہے۔

پچھلے سال اگست میں یورپی کمشن نے الیکٹرانکس کی ایک بڑی کمپنی ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ آئرلینڈ کو 13 ارب یورو ٹیکس ادا کرے۔

بشکریہVOAاردو

ایرانی شخص پر ایچ بی او کیبل نیٹ ورک میں ہیکنگ کا الزام

بہزاد مصری نے مبینہ طور پر گیم آف تھرون کے ایپی سوڈز کی چرائی گئی ویڈیوز اور پانچ اسکرپٹس کے کچھ حصے اس ویب سائٹ پر پوسٹ کر دیئے تھے جسے وہ کنٹرول کرتا تھا۔

واشنگٹن — 

امریکی پراسیکیوٹرز نے ایک ایرانی پر اس سال کے شروع میں کیبل ٹی وی چینل ایچ بی او کے مقبول پروگرام گیم آف تھرونزکے بارے میں معلومات چرانے اور کمپنی سے لاکھوں ڈالر غصب کی کوشش کرنے کی بنا پر اس کے خلاف چینل کے کمپیوٹر سسٹمز میں در اندازی کا الزام لگا یا ہے۔

منگل کے روز 29 سالہ بہزاد مصری پر عائد کی جانے والی فرد جرم پراسیکیوٹرز کی جانب سے اس کے لیے اور ان دوسروں کے لیے جو امریکی کمپنیوں یا افراد کا استحصال کر سکتے ہیں، ایک انتباہ کے ساتھ سامنے آئی۔

نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے قائم مقام اٹارنی جون ایچ کم کہتے ہیں کہ مصری کو اور انٹر نیٹ پر ہیکنگ اور اس سے متعلقہ دوسرے جرائم کرنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ دنیا بھر میں کہیں بھی بیٹھے ہوں اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر کوئی بھی سائبر جرم کرنے کے بعد محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ ہمارے لوگوں کو ہیک کریں گے تو ہم آپ کا پتا لگانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور آپ پر الزام عائد کریں گے اور کسی نہ کسی مرحلے پر ہم آپ کو گرفتار کریں گے اور آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے۔

جب ایچ بی او نے مصری کی اس ای میل کو مسترد کر دیا جس میں اس نے کمپنی سے لاکھوں ڈالر ز غصب کرنے کی کوشش کی تھی، تو اس نے مبینہ طور پر گیم آف تھرون کے ایپی سوڈز کی چرائی گئی ویڈیوز اور پانچ اسکرپٹس کے کچھ حصے اس ویب سائٹ پر پوسٹ کر دیئے تھے جسے وہ کنٹرول کرتا تھا۔

مصری کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور اسے متعدد الزامات کا سامنا ہے جن میں وائر فراڈ کا ایک الزام شامل ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا بیس سال قید ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر کمپیوٹر کی ایک بار ہیکنگ کا الزام بھی شامل ہے جس پر اس پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ فرد جرم ان متعدد واقعات میں سے ایک ہے جن میں ایرانی ملوث ہیں۔ جولائی میں محکمہ انصاف نے ورمونٹ میں قائم سافٹ ویئر کی ایک کمپنی کی ہیکنگ پر دو ایرانی شہریوں کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔

بشکریہ VOAاردو

Must Visited

پاکستان میں انٹرنیٹ آزادی کی حالت انتہائی ابتر: رپورٹ

امریکہ میں قائم ’فریڈم ہاؤس‘ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ، ’فریڈم آن دی نیٹ‘ میں 65 ملکوں میں انٹرنیٹ کی آزادی کا جائزہ لی...