Friday, 16 February 2018

پاکستانیوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

مجھے چین میں آٹھ سال قیام کا موقع ملا اور اس طویل عرصہ میں صرف ایک آدھ مرتبہ ہی چینی لوگوں کو سڑک پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ اور تب میں سوچا کرتی تھی کہ ہم پاکستانیوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے، ہم گھروں میں، سڑکوں پر، کام کی جگہوں پر لڑتے جھگڑتے کیوں رہتے ہیں۔ میں نے سڑکوں پر دو آدمیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ایسے لوگوں کو بھی کودتے اور مار پٹائی میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا ہے جن کا اس جھگڑے سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہوتا۔ شاید ہم موت کی خفیہ خواہش لئے پھرتے ہیں۔ یا بقول منیر نیازی، مرنے کا شوق رکھتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے بقول غصہ ایک نارمل اور صحتمند جذبہ ہے اور بذات خود یہ مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر غصہ کی بدولت آپ آپے سے باہر ہو جائیں اور ہوش و خرد کا دامن چھوڑ بیٹھیں تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے غصے کی وجہ ڈھونڈی جائے اور مسئلے کو حل کیا جائے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر موسےٰ مراد کا کہنا ہے کہ پاکستانی سماج ابھی تک لاشعور یا تحت الشعورکے مرحلے میں رہ رہا ہے اور ہم نے ابھی تک شخصی احترام اور ضمیر کی آواز سننا نہیں سیکھا ہے۔ شیما کرمانی کے بقول ہم ایک قابل نفرت گروہ بن گئے ہیں، ہم میں سے ایک نام نہاد قابل احترام شاعر کراچی یونیورسٹی کی ایک پروفیسر کو جنسی طور پر ہراساں کرتا ہے، پسند کی شادی کرنے پر لڑکیوں کو مارا اور جلایا جاتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل عورت دشمن بیانات جاری کرتی رہتی ہے، اور اب ایک سینیٹر نے ایک ٹی وی شو میں ایک خاتون کو گالیاں دیں اور مارنے کی کوشش بھی کی۔
 پیمرا نے اس چینل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے جب کہ ہماری رائے میں سب سے پہلے سینیٹ کے چیئرمین کو ان صاحب کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنا چاہئیے تھا۔ ان صاحب کی اپنی پارٹی کے قائد کو بھی ان سے جواب طلبی کرنی چاہئیے۔ انہوں نے ایک خاتون کے بارے میں جو غلیظ زبان استعمال کی اور جس طرح ان کو مکے مارنے کی کوشش کی، اس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئیے۔ ہم امتیاز عالم سے اتفاق کرتے ہیں کہ لوگوں کو، میڈیا کو اور سول سوسائٹی کو عورتوں پر تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئیے۔
سوشل میڈیا پر ہمیں اس پروگرام کی جو ویڈیو کلپس دیکھنے کو ملیں،ان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ حافظ صاحب مغلوب الغضب ہو کر ہوش و خرد کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے تھے۔ ماہر نفسیات جیری ڈیفن بیچر کے مطابق یہ لوگ گرم دماغ کے ہوتے ہیں اور ان میں برداشت کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔ یہ لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں، اس کی وجوہات جینیاتی بھی ہو سکتی ہیں اور نفسیاتی بھی۔ کچھ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں اور کچھ ہمارے سماجی اور ثقافتی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ خاندانی پس منظر بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری رائے میں تو ایسے لوگوں کوخاص طور پر جب ان کے روئیے دوسروں کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک بن جائیں، پبلک لائف کی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو کر فوری طور پر سائیکو تھراپی کے لئے کسی ماہر کے پاس جانا چاہئیے۔ حد سے بڑھا ہوا غصہ بائی پولر ڈس آرڈر کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
غصہ اور غیظ و غضب کی کیفیات کا عمرانی تجزیہ بھی ضروری ہے تا کہ ہمیں اپنی سماجی زندگی میں پائے جانے والے تضادات اور تنازعات کا اندازہ ہو سکے۔ ماروی سرمد والے پروگرام کی وڈیو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ سینیٹر صاحب کو اصل میں غصہ بیرسٹر صاحب کی بات پر آیا تھا، ان سے تو وہ نمٹ نہیں سکے اور انہوں نے اپنا سارا غصہ ایک عورت پر اتارا۔ ایک طبقاتی اور پدر سری معاشرے میں اس کے علاوہ اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اسی لئے ماہرین عمرانیات غصہ کی سماجی تشخیص میں صنف، عمر اور سماجی طبقے کو سامنے رکھتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی جو لہر آئی ہوئی ہے ،اس نے سینیٹر صاحب جیسے لوگوں کو میتھیو پال ٹرنر کے بقول تائید کی لت لگا دی ہے یعنی جو بات وہ کہیں، دوسرے اس کی تائید کریں اور تائید نہ کی تو وہ آگ بگولا ہو جائیں گے اور مرنے مارنے پر اتر آئیں گے۔ ویسے بھی ٹی وی ٹاک شوز کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پبلک ڈیبیٹ پر غصہ کا کلچر چھایا ہوا ہے۔ ٹاک شوز کے علاوہ خبریں سن کر بھی یا تو آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہونے لگتا ہے یا آپ کو ڈیپریشن ہونے لگتا ہے۔ ہمارے چینلز کو ضابطہ اخلاق اور پروفیشنلزم کی اشد ضرورت ہے۔
اور جگر تھام کے بیٹھو کہ اب میری باری ہے، یعنی اب ہم اس ساری صورتحال کو فیمنسٹ نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔
میڈیا میں عورت کی تصویر کشی کیسے کی جائے،اس پر پاکستانی فیمینسٹ کئی عشروں سے آواز اٹھا رہی ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اب “چار بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی” جیسی سرخیاں کم لگائی جاتی ہیں اور زنا با لجبر کے کیسز میں اخبارات میں متاثرہ خاتون کا پورا نام نہیں دیا جاتا اور چینلز پر اس کا چہرا نہیں دکھایا جاتا۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے گذشتہ صدی کا اہم ترین واقعہ 1995ء میں بیجنگ میں ہونے والی عورتوں کی عالمی کانفرنس تھی۔ اس میں میڈیا کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔ دنیا بھر میں میڈیا پر فیصلہ سازی کے حوالے سے مردوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اور عورتوں کو بجا طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نقطہءنظر کی نمائندگی نہیں ہو پاتی۔
1960ء کے عشرے کی عورتوں کی آزادی کی تحریک جسے فیمینزم کی دوسری لہر بھی کہا جاتا ہے میں عدم مساوات اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اور اب سائبر فیمینزم کا زمانہ ہے۔ اس میں صنفی خطوط پر ڈیجیٹل تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔اس نئے میڈیا کو چلانے والے اداروں میں بھی عورتیں یا تو موجود نہیں ہیں یا ان کی خاطر خواہ نمائندگی نہیں ہے۔ اس لئے اب سائبر فیمینسٹس ایسی ویب سایٹس بنا رہی ہیں، جس میں عورتوں کے کاموں کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے تجربات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ آج کل انٹر نیٹ پر فیمینسٹ صحافی چھائی ہوئی ہیں اور کیوں نا ہو، عورتیں نصف دنیا بھی تو ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت عورت کی آواز آن لائن آ گئی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئیے کہ ماروی کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کتنا زبر دست احتجاج ہوا ہے۔
اب عورت دشمن لوگوں اور میڈیا کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہی ہو گا اپنا غصہ عورت پر نہیں اتارئیے بلکہ اسے جہالت اور غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کیجئے۔ عورت اور مرد مل کر ہی پاکستان کو ایک ترقی یافتہ قوم بنا سکتے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کا کردار



بشکریہ ہم سب

ماہرِ نفسیات کی ڈائری: جنس دوستی اور پیار کا فطری اظہار ہے

’ہم سب‘ پر شادی اور جنس کے بارے میں میرا کالم چھپنے کے بعد مجھے اتنے زیادہ خطوط موصول ہوئے کہ ان سب کا جواب دینا میرے لیے ناممکن تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا میں وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ سے کہوں کہ وہ ’ہم سب‘ پر میرے لیے ON LINE THERAPY WITH DR SOHAIL کا کلینک بنا دیں اور میں اپنے کلینک سے چھٹی لے کر اس کلینک پر کام کرنا شروع کر دوں لیکن پھر مجھے اندازہ ہوا کہ ایسا ممکن نہیں ہے [میرے کلینک میں مریضوں کی فہرست طویل ہے۔ آن لائن کلینک پر بھی قطار لمبی ہو جائے گی] تو سوچا کہ کیوں نہ میں ان سب خطوط کا اکٹھے جواب دوں اور ایک اور کالم لکھوں تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔
میں نے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ نہ تو میں کوئی مولوی ہوں نہ پروہت‘ نہ پنڈت ہوں نہ پادری۔ میں ایک نفسیاتی معالج ہوں اور ماہرینِ نفسیات انسانی مسائل کو طبی اور نفسیاتی حوالے سے سمجھنے کی اور پھر ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
پہلا مسئلہ ـ MASTURBATION خود وصلی
طب کی نگاہ سے جب بچے جوان ہونے لگتے ہیں تو ان کے جسمانی ہارمون بدلتے ہیں چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں اور وہ اپنے جنسی اعضا کو چھو کر خوشی‘ مسرت اور لذت محسوس کرتے ہیں۔ طبی اور نفسیاتی حوالے سے یہ ایک فطری عمل ہے اور نارمل ہے۔ انگریزی میں اسے ماسٹربیشن کہتے ہیں، عام لوگ اسے جلق کہتے ہیں اور ساقی فاروقی اسے خود وصلی کہتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے لیے جو جلق لگاتے ہیں وہ نہیں بلکہ جو جلق نہیں لگاتے وہ فکرمندی کا باعث ہوتے ہیں۔ خود وصلی اپنے جسم کو سمجھنے‘ اس سے دوستی اور پیار کرنے میں ممد ثابت ہوتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ کوئی اچھی چیز بھی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو اچھی نہیں رہتی۔
دوسرا مسئلہ: ORAL SEX دہنی مباشرت
جو لوگ جلق لگانے کو برا یا گناہ نہیں سمجھتے وہ بھی دہنی مباشرت کے بارے میں فکرمند اور پریشان رہتے ہیں اور یہ پریشانی اس لیے نہیں کہ وہ اس سے لذت حاصل نہیں کرتے بلکہ اس لیے کہ ان کی بیویاں اسے پسند نہیں کرتیں۔
دہنی مباشرت کے حوالے سے مشرقی اور مغربی عورتوں کے رویے میں نمایاں فرق ہے۔ میرا ایک پاکستانی مریض ہے جس کی بیوی کنیڈین ہے۔ اس نے مجھے پچھلے ہفتے بتایا کہ اس کی بیوی دہنی مباشرت کے بعد جب اسے بوسہ دینا چاہتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ مادہ منویہ کو ناپاک سمجھتا ہے۔ اس کی کنیڈین بیوی نے اس سے کہا کہ تم پاکستانی مردوں کا SEMEN  کے بارے میں رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ تم منی کو پیشاب کی طرح ناپاک مانتے ہو کیونکہ تم اسے EXCRETION سمجھتے ہو جب کہ وہ دودھ کی طرح ایک SECRETION ہے۔ اسی لیے اسے LOVE MILK کہا جاتا ہے۔ اس مریض کی کنیڈین بیوی نہ صرف دہنی مباشرت کرتی ہے بلکہ کرواتی بھی ہے۔
تیسرا مسئلہ: جنسی خواہش کی کمی
میں نے اپنے پچھلے کالم میں جنسی خواہش کی کمی کی صرف ایک وجہPTSD  بتائی تھی۔ اس کا مقصد جوڑوں کا ایک دوسرے کے بارے میں ہمدردی پیدا کرنا تھا تا کہ ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو سکے۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ جنسی خواہش کی کمی کی جو اور وجوہات ہیں میں ان کے بارے میں بھی کچھ لکھوں۔ چونکہ وجوہات بہت سی ہیں اس لیے اس کالم میں صرف چند ایک کا ذکر کروں گا۔
بعض جوڑوں کی شادی کے چند مہینوں یا سالوں کے بعد جنس میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے کیونکہ انہیں اس کی عادت سی ہو جاتی ہے۔ بعض کے لیےMONOGAMY LEADS TO MONOTONY  ۔
بعض جوڑوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کا ہے۔ انہیں رومانوی موڈ میں آنے کے لیے تخلیہ چاہیے ہوتا ہے جہاں وہ FOREPLAY  کر سکیں۔ اگر ایسا وقت یا جگہ نہ ملے تو موڈ خراب ہو جاتا ہے اور جنسی خواہش آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
بعض جوڑوں میں شوہر یا بیوی شادی کے باہر ایک محبوب تلاش کر لیتے ہیں جس کے بعد محبوب سے جنسی خواہش زیادہ اور شوہر یا بیوی سے جنسی خواہش کم ہونے لگتی ہے۔ کنیڈا میں جوڑے کہتے ہیں
WHEN THERE IS A MARRIAGE WITHOUT LOVE, THERE IS ALSO A LOVE WITHOUT MARRIAGE.
میں اپنے کلینک میں ایسے جوڑوں سے ملا ہوں جن کے لیے صفائی ایک بڑا مسئلہ ہے اگر ان کا شریکِ حیات روزانہ غسل نہیں کرتا اور اپنے جسم کو صاف ستھرا اور خوشبودار نہیں رکھتا تو وہ اس کے ساتھ مباشرت نہیں کر سکتے۔ عدنان کاکڑ نے ہم سب پر ایک مضمون کا لنک چھاپا تھا جس میں ایک شوہر نے اس لیے اپنی بیوی کو طلاق دی کیونکہ اس نے ایک سال سے غسل نہیں کیا تھا۔
بعض جوڑوں میں جنسی خواہش بچے پیدا کرنے کے بعد کم ہونے لگتی ہے۔ میں ایسی عورتوں سے ملا ہوں جو ماں بننے کے بعد شوہر سے زیادہ اپنے بچوں میں دلچسپی لیتی ہیں۔ بعض دفعہ شوہر اپنے ہی بچوں سے حسد کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان بچوں نے ان کی محبوبہ ان سے کھو لی ہوتی ہے۔ بچوں اور شوہر کی محبت میں توازن قائم رکھنا ایک مشکل فن ہے۔
بعض جوڑوں میں جنسی تعلقات اس لیے کم ہوتے ہیں کیونکہ یا تو شوہر گے ہوتا ہے یا بیوی لیسبین اور انہوں نے خاندان کے دبائو کی وجہ سے شادی تو کر لی ہوتی ہے لیکن وہ جنسی تعلقات سے محظوظ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جنسِ مخالف میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنس صرف جوانی کا مشغلہ ہے۔ وہ جوں جوں عمر رسیدہ ہوتے ہیں توں توں جنس میں ان کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔۔ کینیڈا میں مرد اور عورتیں ستر کی دہائی میں بھی جنس سے محظوظ ہوتے ہیں [ضرورت پڑے تو مرد VIAGARA اور عورتیںBIO-IDENTICAL HORMONES استعمال کرتی ہیں] جبکہ مجھے کئی مشرقی شوہر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ’میں اور میری بیوی دس برس سے بہن بھائی کی طرح رہ رہے ہیں‘
میں نے یہ واقعات اس لیے لکھے تا کہ قارئین کو اندازہ ہو کہ جنسی خواہش کی کمی کی بہت سی وجوہات ہیں۔
ہم اپنے کلینک میںGREEN ZONE THERAPY  کا استعمال کرتے ہوئے ہر جوڑے کا خصوصی انٹرویو لیتے ہیں اور پھر ہر جوڑے کے لیے ایک خاص علاج تجویز کرتے ہیں۔ خصوصی مشوروں کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دو عمومی مشورے بھی دیتے ہیں جس سے سارے جوڑے استفادہ کر سکتے ہیںْ۔ وہ دو مشورے یہ ہیں
۱۔ ہفتے میں ایک دن آدھ گھنٹے کی میٹنگ کریں‘ اس ہفتے کے مسائل پر تبادلہِ خیال کریں اور ان مسائل کا مل جل کر حل تلاش کریں
۲۔ ہر ہفتے میں ایک دن ڈیٹ پر جائیں۔ لنچ کریں‘ ڈنر کھائیں‘ فلم دیکھیں‘ کونسرٹ سنیں ‘باغ میں سیر کو جائیں‘ آئس کریم کھائیں‘ ہنسیں کھیلیں مسکرائیں ‘لطیفے سنائیں اور محبت بھری باتیں کریں۔ میری نگاہ میں ڈیٹ صرف غیر شادی شدہ لوگوں کے لیے ہی نہیں شادی شدہ جوڑوں کے لیے بھی بہت سود مند ہے۔ جوڑے جب ڈیٹ کرتے ہیں تو ان کی رومانوی زندگی کامیاب ہوتی ہے اور انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ جنس ایک شجرِ ممنوعہ نہیں ہے بلکہ دوستی اور پیار کا فطری اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔


ماہرِ نفسیات کی ڈائری : میاں بیوی جنس سے بیزار کیوں ہو جاتے ہیں؟



بشکریہ ہم سب

کیا یہ موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا شرعی طریقہ ہے؟

جس معاشرے نے جنما ہو، اس کے اصولوں کی پاس داری نہ جانے کیوں لوگوں کے لیے واجب ٹھہر جاتی ہے۔ عوام کی اکثریت معاشرے کے بنائے ہوئے ریت رواجوں کو بلاچوں و چرا تسلیم کر کے ساری زندگی اپنی پیدائش کا قرض اتارتی رہتی ہے، جب کہ اندرونی گھٹن کا شکار کچھ افراد ان بے اصل اصولوں کے آگے سر اٹھانے کے جرم میں نہ صرف باغی قرار پاتے ہیں بلکہ ہر سطح پر ناپسند قرار دے کر رد کر یے جاتے ہیں۔ یہ اٹھنے والی آواز بدقسمتی سے اگر کسی عورت کی ہو، تو وہ نہ صرف باغی بلکہ بے حیا بھی قرار پاتی ہے۔ افسوس کہ تیسری دنیا کے ممالک میں معاشرے کی غیرحقیقی رسومات اور طور طریقوں کا ایک بڑاہدف عورت ہی کی ذات ہے۔ کچھ ظالمانہ قوانین تو وہ ہیں جو عورتوں کو موت کے دروازے سے اندر بھی دھکیل دیتے ہیں پھر بھی ان قوانین کے لیے معاشرتی آمادگی کا در بن نہیں کیا جاتا۔ ان دشمن قوانین کے سامنے گھٹنے ٹیک ٹیک کر صنفِ نازک کا اس قدر استحصال ہو چکا ہے کہ اب تو شاید کھودینے کو بھی بہت کچھ نہیں بچا۔ بھلا میں کیسے اس معاشرے کے انصاف پر نوحہ نہ لکھوں، جس میں مردانہ بیڑیاں نازک قدموں میں ڈال کر من مانی راہیں متعین کردی جاتی ہیں، جن پر چلنے کے لیے عورت کو یوں مجبور کیا جاتا ہے گویا وہ ریت رواج کوئی شرعی حکم ہو۔ ہمیشہ معاشرہ ہی بتاتا ہے کہ اے عورت! تجھے چلنا کیسے ہے؟ بولنا کیسے ہے؟ سہنا کیسے ہے اور سہہ کر پھر چپ رہنا کیسے ہے؟
اس خاموشی کو توڑنے کے لیے میرا موضوع بہت اہم ہے۔ مجھے خالص زنانہ مسئلے پر مردانہ توجہ درکار ہے۔ موضوع کی طرف آنے سے پہلے میں چاہوں گی کہ ایک لمحے کے لیے سب بھول جائیے۔ بھول جائیے کہ آپ ایک مرد ہیں، عورتوں پر اپنی صلاحیتوں اور طاقت کے بل پر قوام بنائے گئے ہیں، ذرا سی دیر کو بھول جائیے کہ معاشرہ اور مذہب آپ کو عورتوں سے زیادہ اختیارات سونپتا ہے۔ بس اتنا یاد رکھیے کہ آپ ایک انسان ہیں اور آپ کے سینے میں ایک دردمند دل ہے۔ میں آپ سے لٹنے پٹنے واؒ لی عورتوں کا غم بیان کرنے نہیں جا رہی، نہ مختاراں مائی سے لے کر ننھی زینب تک اور سمیرا سے لے کر اسما کے قتل تک کے واقعات دوہرا کر ہم دردیاں سمیٹوں گی، بلکہ میں اس مسئلے کی بات کروں گی جس کا سامنا آپ میں سے تقریباً ہر ایک کے گھر کی خواتین کرتی ہیں، مستقل بنیادوں پر اسے جھیلتی ہیں اور وہ ہے موٹر سائیکل پر خواتین کے بیٹھنے کا خالص پاکستانی اور خطرناک ترین زاویہ۔
افسوس کا مقام ہے کہ یہاں لڑکی کا قد بچپن کی حدود توڑ کر نکلتا نہیں وہاں اس پر بہت ساری پابندیوں کے ساتھ یہ پابندی بھی عائد کردی جاتی ہے کہ اب وہ مردوں کی طرح موٹر سائیکل پر دونوں طرف قدم جماکر محفوظ طریقے سے سفر نہیں کرسکتی بلکہ دونوں پاؤں ایک طرف، آدھی سیٹ پر ٹکی ہوئی، ہر جھٹکے پر پھسلتی ہوئی، خود کو بچاتی ہوئی وہ زندگی اور موت کے درمیان معلق ہوکر سفر طے کرنے کی پابند ہے۔ میرے نزدیک یہ عورت کو عورت ہونے کے جرم میں دی جانے والی ایک بھیانک پاکستانی سزا ہے۔
آج دنیا کا کون سا کونا ایسا ہے جہاں موٹرسائیکل کا سفر عام نہیں، لیکن مجھے پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک نظر نہیں آتا جہاں موٹر سائیکل جیسی خطرناک سواری کو خواتین کے لیے مزید خطرناک بنا دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا یہ نسوانی طریقہ دنیا میں کہیں بھی محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ شرم و حیا کی جو اوور ڈوز پلا کر یہاں لڑکیاں جوان کی جاتی ہیں، اس کے زیراثر وہ موٹر سائیکل پر سفر کے دوران باپ یا بھائی کو پکڑ کر بیٹھنے کے تصور سے ہی پانی پانی ہوجاتی ہیں۔ دونوں گھٹنے جوڑے، ایک طرف سارا بوجھ ڈالے اور موٹر سائیکل کی سیٹ پکڑ کر بیٹھنے والی یہ عورتیں کسی بھی حادثے کی صورت میں زیادہ نقصان سے دوچار ہوتی ہیں اور بہت سی تو معلوم منزل سے ان جانے سفر پر بھی روانہ ہوجاتی ہیں۔
پاکستانیوں کی اکثریت کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے۔ ذرائع آمدورفت کے لیے، خواتین کے پاس ذاتی گاڑیوں کا ہونا یا رکشے اور ٹیکسیوں کے اخراجات اٹھانا ممکن ہی نہیں۔ ایسے میں موٹر سائیکلوں کے ذریعے سفر کو سہل بنانا پاکستانی خواتین کے لیے نسبتاً آسان ہے۔ کوئی عورت اگر چاہے بھی کہ وہ محفوظ سفر کی خاطر مردوں کی طرح موٹر سائیکل پر بیٹھ جائے، تو مرد ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہیں اپنی عزت کے خراب ہونے اور رسوائی کا اندیشہ ہوگا اور وہ تماشا بن جانے کے ڈر سے اپنے گھر کی عورتوں پر اس سواری کو حرام تو کر دیں گے پر کسی بھی قیمت پر ان کے لیے یہ سفرمحفوظ نہیں بنائیں گے۔ میرے آس پاس کتنی ہی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ خواتین غیرمحفوظ طریقے سے بیٹھ کر اپنا توازن قائم نہ رکھ سکیں اور ذرا سے جھٹکے میں ہی موٹر سائیکل سے گر کر جاں بحق ہوگئیں یا پھر شدید زخمی ہوگئیں۔ حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ بیٹھنے کا یہ طریقہ نہ صرف عورتوں کی بلکہ ان کی گود سے چمٹے ہوئے ننھے بچوں کی جانوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے، لیکن سلام ہے مرد کی عزت اور غیرت کو! جو انسانی جان سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
عورتوں کی جان کی اہمیت تو ریاست کی نظر میں بھی کچھ زیادہ نہیں۔ اگر ہوتی تو کم از کم دورانِ سفر عورتوں کی حفاظت کے لیے ان کے ہیلمٹ پہننے کو بھی مردوں کی طرح لازمی قرار دیا جاتا، اگرچہ ہیلمٹ پہننے کا قانون سب کے لیے یکساں ہے، لیکن میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اسے استعمال نہ کرنے پر کسی عورت پر جرمانہ عاید ہوا ہو یا روک کر تنبیہ بھی کی گئی ہو۔ کچھ نہیں تو لمبی لمبی چادروں اور عبایا کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرنا ممنوع قرار دیا جاتا، جس کی وجہ سے آئے دن سڑکوں پر خوف ناک حادثات رونما ہوتے ہیں یا پھر موٹرسائیکل پر بیٹھنے کے اس زنانہ طریقے پر سخت پابندی عائد کردی جاتی۔ لیکن ریاست بھی عام افراد کی طرح شاید عورتوں کے لیے معین کردہ اس طریقۂ سفر کو کو شرعی سمجھ کر تسلیم کرچکی ہے۔
اس مسئلے کا میرے نزدیک واحد حل یہی ہے کہ اپنی خواتین کو موٹر سائیکل چلانا سکھائیے۔ اس ٹیبو کو توڑیے۔ اپنے پیچھے غیرمحفوظ طریقے سے بٹھا کر سفر کرنے کے بجائے انہیں نقل و حرکت کے آزادانہ مواقع فراہم کیجیے کہ وہ بھی آپ مردوں کی طرح اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بنا سفر کرسکیں۔ مجھے یقین ہے اس تجویز پر تمام مرد حضرات ضرور غور کریں گے، کیوں کہ یہاں معاملہ مختاراں مائی یا ننھی زینب کا نہیں بلکہ آپ کی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کا ہے۔

ایمان کو ویلنٹائن ڈے سے خطرہ؟ کچھ حیا چاہیے!

آج ویلنٹائن ڈے تھا، گذشتہ برسوں کے برعکس اِس سال، اِس ممنوعہ دن کے حوالے سے بکثرت تنبیہی پیغامات موصول ہوئے۔ اِن پیغامات کی کثرت اُن ویڈیوز اور پیغامات پر مشتمل تھی جو اِس دن کو یومِ حیا و بے حیائی سے منسوب کئے ہوئے تھی۔ پیغامات میں اِس بات کی تکرار کی گئی تھی کہ:
” اِس دن کی نحوست سے ہمارا شخصی واجتماعی ایمان تباہ و برباد ہو رہا ہے نیز ہماری قوم، (جو ہماری نظر میں تو پہلے ہی شدید بے راہ روی کا شکار ہے) اب اُسے دل جیسی شکل کے غباروں، سرخ پھولوں ، معصوم بھالوﺅں اور جابجا تحائف کی شکل میں بے راہروی کی نئی جہات و خرافات میسر آ گئی ہیں، سو اپنے پیاروں کو، (جو ہمارے نزدیک اس طوفانِ بلا خیز میں کود پڑنے کو بے تاب و بے قرار ہیں) بچانے کے لیے اس دن کا بائیکاٹ کیجیے۔ کچھ حیا خود کیجئے اور کچھ اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو آج مستعار دے دیجئے وغیرہ وغیرہ۔ “
سچ بتاﺅں تو مجھے ویلنٹائن ڈے منانے یا نہ منانے جیسے مباحث میں کبھی دلچسپی نہیں رہی، ہاں البتہ میرے لیے اچنبھے کی بات وہ دُہائیاں ضرور ہیں جو سارا سال میں صرف اِس ایک دن، ایمان کے خراب ہونے پہ دی جاتی ہیں۔ مجھے اُس خستہ ایمان پر ترس آنے لگتا ہے جو بات بے بات ڈولنے لگتا ہے۔ یقین مانیے کچھ عرصے سے مجھے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ہمارا ایمان ہی ہے، سیاست ہے تو وہ ایمان کے نعروں کے ساتھ جڑی ہے، جہالت ہے تو وہ ایمان کے نام پہ پھیلائی جا رہی ہے، آمریت ہے تو وہ ایمان کے پردے میں جلوہ افروز ہے، طاقتور کی اطاعت ہے تو وہ بھی براہِ راست ہمارے ایمان سے منسوب کی جاتی ہے، تجارت ہے تو اُس میں بھی ایمان کی رنگ ہا رنگ قسموں پر سادہ لوحوں کو لوٹ لیاجاتا ہے، محبت ہو یا نفرت ہر چیز ایمان ماپ کر کی جاتی ہے۔ کوئی دن ہو، کوئی موقع ہو، کوئی تہوارہو، ہر چیز ہمارے لیے ایمان شکن ہوئے جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کا قد ماپنے کے لیے بھی بوزنے اور بالشتیے اپنے اپنے پست ایمانی پیمانے لیے دوڑے چلے آتے ہیں۔
 مجھے لگتا ہے ہم بڑے ہی عجیب لوگ ہیں، آدابِ عشق و مروت سے قطعاَ لاعلم، اپنی حقیقی ثقافت سے روٹھے ہوئے روکھے لوگ، جو ہر اُس جھوٹی بات پر بھی آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس سے ہمارے زنگ آلود ایمان کو ذرا سا بھی دھچکا لگنے کا خطرہ ہو۔ سچ جاننے اوراپنا ایمان ماپنے کی تگ تو بہت دور کی بات ہے ہم اپنے ہی فرمودہ بیانات اور فراہم کردہ معلومات پر فریقِ ثانی کا موقف تک سننے کے روادار نہیں ہوتے۔ منافقت، ہٹ دھرمی اور عدم برداشت سے بھرے ہم لوگ، اپنے متشدد اور متعصب رویوں کا چولا کبھی اتارتے ہی نہیں، اور نہ ہی کبھی یہ سوچتے ہیں کہ اَب اِن بوسیدہ چولوں اور بیمار رویوں سے جبر اور خون کی بو آتی ہے۔ ہم نام نہاد غیرت مند لوگ، مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں کو تقدس کے ہار پہناتے ہیں، اُن کی شان میں قصائد پڑھتے ہیں۔ اُن کے شاندار مقبرے تعمیر کرتے ہیں اور اُن کی تکریم سے نہال ہوئے جاتے ہیں، اور جب ، وہ لوگ جو عمر بھر انسانیت کا بوجھ ڈھو کر رخصت ہوتے ہیں، تو اُن کو کفرو غداری کے فتووں اور الحاد کے نعروں تلے رخصت کرتے ہیں۔ زندہ لوگوں کو کبھی عزت نہ دینے والی قوم، لاشوں کی تکریم کے تمام آداب سے بھی قطعاَ ناواقف ٹھہرتی ہے۔ غالب نے شاید اسی لیے کہا تھا
 ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سارا سال اپنا ایمان گروی رکھنے والی، جھوٹ، بد دیانتی، منافقت کو پروان چڑھانے والی ، لاشوں پہ سیاست کرنے والی، اپنے اثاثوں کے ضیاع پہ شکر بجا لانے والی، خواتین کو خوف زدہ اور معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والی، نڈر اور بےباک قوم کو سال میں محض ایک دن یومِ حیا مبارک ہو۔

بشکریہ ہم سب

اچھی فصل کی سنی لیونی محافظ

اپنے کھیت میں اداکارہ سنی لیونی کا پوسٹر لگانے والا ایک کاشتکار آج کل خبروں میں ہے جس کا نام ہے چینچو ریڈی۔ ریاست آندھر پردیش کے ایک گاؤں میں رہنے والے ریڈی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنی کا یہ پوسٹر اپنی شاندار فصل کو بری نظر سے بچانے کے لیے لگایا ہے۔ان کے پاس دس ایکڑ زمین ہے جس پر وہ بینگن ، گوبی، مرچ اور بھنڈی جیسی سبزیوں کی کاشت کرتے ہیں۔

ریڈی کا خیال ہے کہ لوگوں کی توجہ اب انکی فصل کے بجائے سنی کے پوسٹر پر ہے

ان کا کہنا ہے کہ اس سال فصل بہت اچھی ہوئی ہے اور وہاں سے گزرنے والے تمام لوگ ان کی فصل کو دیکھ رہے ہیں انہوں نے لوگوں کی توجہ اپنی فصل سے ہٹانے کے لیے سنی کا پوسٹر لگایا ہے تاکہ لوگ ان کی فصل کے بجائے سنی کو دیکھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریڈی نے کہا کہ ان کا یہ فارمولہ کام کر رہا ہے اور لوگوں کی بری نظر اب ان کی فصل سے ہٹ گئی ہے۔
جنوبی بھارت میں یہ عقیدہ عام ہے کہ گھر کے باہر کوئی ڈراؤنی مورتی یا نظر بٹو لگانے سے ‘بری نظر ‘نہیں لگتی اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ’بری نظر’ لگنے سے فصل خراب ہو جاتی ہے۔
ریڈی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس میں تھوڑی تبدیلی کی اور سنی کی خوبصورت تصویر لگا دی اور یہ طریقہ کام کر رہا ہے۔
اس طرح کے عقائد کی تنقید کرتے ہوئے ایک اور کسان گوگی نینی بابو کا کہنا ہے کہ اس سب بے بنیاد ہے کسی کی نظر سے فصل کیسے خراب ہو سکتی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ سب اندھے عقائد کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پوسٹر کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین مزدور بھی پریشان ہوں گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

آج جنازہ ہم پڑھائیں گی


ایک نا محرم مرد، ایک نا محرم عورت کا جنازہ پڑھ بھی سکتا ہے اور پڑھا بھی سکتا ہے۔ ایک عورت دوسری عورت کا جنازہ نہیں پڑھ سکتی۔ بیٹی ماں کا، بہن دوسری بہن کا، سہیلی، سہیلی کا جنازہ نہیں پڑھ سکتی۔ اس بحث کا آغاز محترمہ عاصمہ جہانگیر کے جنازے سے ہوا۔
 کسی اور کا جنازہ اس سوال کو جنم دے بھی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ سوالوں کو جنم دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ وہی کر سکتا ہے جو بے خوف و خطر سماج کے بو سیدہ اور گھسے پٹے اصولوں اور روایتوں سے لڑ کر اپنی آواز بلند کرنا جانتا ہو۔ عاصمہ جہانگیر نے مرنے کے بعد بھی اس سماج کے بیچوں بیچ ایک لکیر کھینچ دی۔ ایک جانب دایاں بازو ہے تو دوسری جانب بایاں۔ ایک جانب ایسی آوازیں جو کسی جنازے میں اتنی بہت سی ماڈرن بے پردہ خواتین کو دیکھ کر سانس پھلائے زبان لٹکائے اس بات پر واویلا کر رہی ہیں کہ اس عورت کو حق کس نے دیا کہ مرد کی جگہ لے لے۔ تو دوسری جانب وہ آوازیں جو للکار رہی ہیں کہ آج تو ہم پیچھے کھڑے تھے۔ ہو سکتا ہے کل تمھارا جنازہ ہم ہی پڑھائیں۔
گویا جنازوں پر سیاست کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا کہ جس کی گواہی بھی پوری نہیں وہ بنا پوچھے، بغیر کسی سے اجازت لئے کھلے سر، سر عام مولوی صاحب کے پیچھے آکر کھڑٰی ہو گئی۔ آج تک جنازوں میں شلوار ٹخنوں تک چڑھائے، لمبی قمیض لمبی داڑھی اور سر پر ٹوپی جمائے مردوں کو دیکھا تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ مرد کی پسلی سے پیدا ہونے والی ایک مخلوق نے مری ہوئی عورت پر اپنا حق جتانے کے لئے رسم و رواج کی تمام دیواریں گرا دیں۔ اگر آپ غور کریں تو مدعا صرف یہ نہیں کہ جنازہ مخلوط ہو گیا۔ مرد و خواتین اکٹھے کیسے ہو گئے۔ مدعا صرف یہ ہوتا تو حج اور عمرے کو بھی مرد اور عورت کے خانوں میں بانٹا جاتا۔ آو مل کر نماز پڑھیں۔
اس ایک فقرے سے احساس مسلمانی کو تسکین اور قلب کو سکون ملنا چاہیے۔ کیونکہ نماز پڑھنے کی تلقین کا آغاز بچپن سے ہی ہو جاتا ہے۔ حج میں سب لوگ مل کر نماز پڑھتے ہیں۔ عمرے کے دوران بھی نماز پڑھتے ہوئے عورت مرد سے آگے سجدے میں ہے یا پیچھے۔ اس بات کی کس کو پرواہ ہوتی ہے۔ حتی کہ حجر اسود کو چھونے جیسے مشکل مرحلے پر بھی مرد و عورت اکٹھے ہی یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جھگڑا کچھ اور ہے۔
جھگڑا یہ ہے کہ ہماری آنکھوں نے یہ پہلی باردیکھا کہ ڈھیروں پڑھی لکھی، بے خوف، ہندو، مسلم سکھ، عیسائی، دوپٹے، بغیر دوپٹے، چادر، بغیر چادر، اونچے، درمیانے اور نچلے طبقے کی عورتوں کو بنا کسی مرد یا بغیر مولوی کی اجازت کے اس مقام پر قبضہ جماتے دیکھ لیا تھا۔ جو مقام مرد نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ جنازہ بھی ایسی خاتون کا جس پر زندگی بھر انڈین ایجنٹ، یہودی جاسوس اور عورتوں کو بے باک بنانے کے الزام لگائے گئے تو ظاہر ہے کہ اس کا آخری دیدار کرنے والیاں بھی ایسی ہی ناہنجار، سیدھی راہ سے بھٹکی ہوئی معاشرے کو الٹے رستے پر ڈالنے والی قابل دھتکار عورتیں ہی ہوں گی۔
ایدھی صاحب بھی تو ملحد و ملعون قرار پائے تھے۔ ان کے جنازے کو سرکاری اعزاز دیا گیا تھا تو بہت سوں کے کلیجے چھلنی ہو گئے تھے۔ کہ ایک کافر، حرامیوں کی تربیت کرنے والے کو اتنے اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔
آپ کلیجے چھلنی کرتے رہیے اور اپنا جگر آگ پر تاپتے رہیے۔ آئندہ بھی جب کوئی عاصمہ جہانگیر اپنی جان سے گئی تو خواتین اسی طرح دھڑلے سے جنازے میں شریک ہوں گی۔ بلکہ ڈریے اس وقت سے جب وہ آپ سے کہیں۔ پیچھے ہٹ جائیے۔ آج جنازہ ہم پڑھائیں گی۔

بشکریہ ہم سب

Must Visited

پاکستانیوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟