Sunday, 23 July 2017

قندیل بلوچ خوابوں کی سیر سے بستر مرگ تک

عوﻣﺮ ﮐﺮﯾﻢ ﺑﻠﻮﭺ

یہ تحریر میں نے 15 جولائی 2017 کو لکھا تھا جو(حال احوال) میں شائع بھی ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺣﻮﺍ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ، ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﮟ ﻟﻔﻆ ﺑﮯ ﺣﯿﺎ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎ ﻋﺰﺕ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﮐﻮ ﻣﺬﮨﺐ ﯾﺎ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ﯾﻌﻨﯽ ﻓﻮﺯﯾﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺳﺎﺳﺎﻣﻌﮧ ﺷﺎﮨﺪ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ، ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ﯾﻌﻨﯽ ﻓﻮﺯﯾﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺽٰ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻭﺳﯿﻢ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺁﺝ ﮨﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ، ﺟﻮﻻﺋﯽ 2016 ﮐﻮ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﮕﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﺍﺕ ﮔﺌﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻭﺳﯿﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺗﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﺟﻮ ﻭﯾﮉﯾﻮﺯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻟﻮﮒ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻃﻌﻨﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺐ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﻧﮯ ﻣﻠﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﻮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﻠﻔﯽ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺳﭩﺎﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭩﺲ ﮐﻮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻔﺘﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ۔
ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﻣﻔﺘﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺎﮈﻟﺰ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﻼﻗﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
20 ﺟﻮﻥ ﮐﻮ ﻣﻔﺘﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﺠﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺑﻨﯿﮟ۔ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺘﯽ ﻗﻮﯼ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﭘﺮ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ، ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﺋﺮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺭﻭﯾﺖ ﮨﻼﻝ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻣﻔﺘﯽ ﻗﻮﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﯾﺖ ﮨﻼﻝ ﮐﻤﭩﯽ ﮐﯽ ﺭﮐﻨﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻄﻞ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔
ﺷﻮﺍﮨﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﺘﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﺳﯿﻠﻔﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﮐﺎ ﺑﮪﺎﺋﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺰﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺮﺍﺭ ﮨﻮﺍ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻣﻔﺘﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﻮﯼ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻞ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﻨﭧ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔

Thursday, 20 July 2017

سامعہ شاہد قتل

عومر کریم بلوچ
پاکستان میں ہر دن یا ہر مہینے میں عورت کو عزت کے نام قتل کیا جاتا ہے چائے وہ 15 جولائی میں کئی گئی قندیل بلوچ کی گئی قتل ہو یا سامعہ شاہد کی قتل ہو ۔
ﺳﺎﻣﻌﮧ ﺷﺎﮨﺪ 28 ﺳﺎﻟﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ گزشتہ برس 20 جولائی ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺿﻠﻊ ﺟﮩﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﺎﻇﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻌﮧ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
1. برطانوی نژاد سامعہ شاہد کو اس لئے قتل کیا گیا کہ انہوں نے اپنی خاندان سے باہر شادی کئی تھی ۔
2. اب بات یہ ہہکہ آج اکیسویں صدی میں یہ جہالت پن زندہ ہے اور آج بھی اس کے بھیڑ ھزاروں سامعہ شاہد چڑھ رہے ہیں

ﺻﺎﺋﻤﮧ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﯿﺪ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﻘﺘﻮﻟﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺎﺋﻤﮧ ﮐﯽ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮐﮭﯿﻠﺘﯽ 28 ﺳﺎﻟﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻮﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻣﺪﻋﯽ ﺳﯿﺪ ﻣﺨﺘﺎﺭ
افسوسناک بات یہ ہیکہ یہ قتل ہورہے ہیں مگر اس سے زیادہ افسوسناک شے یہ ہیکہ آج ہم بھی ان قتلوں کے بعد خاموش رہتے ہیں بس وقتی طور پر میری طرح آواز اٹھاتے ہیں یا پنوں کو استعمال کرتے ہیں اور چند دنوں بعد خاموشی اختیار کرتے ہیں چائے وہ میڈیا ہو یا ہم ۔
اب آخر میں میں بس یعی کہوں گا کہ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہر دن ہر گھر میں ایک جنازہ عزت کے نام پہ نکلے گا اور پھر ہمارے پاس رونے کیلئے آنسوؤں نہیں ہونگیں اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو ورنہ ہم کو ہماری جہالت مبارک ۔۔۔

Wednesday, 17 February 2016

مجھے معاف کر دینا مجاہد غلام جان

(مجھے معاف کر دینا مجاہد غلام جان )
تحریر:عومر کریم بلوچ
زندگی گزارنے کیلئے طرح طرح کے کام کرنے پڑتے ہیں_بلکیں اگر آپ کہیں سمندر میں ڈوب رہے ہیں اگر آپ کے ساتھ کوئی اور بهی ہے جو آپ ہی کی طرح سمندر میں تیرنے کی کوشش کررہا ہے مگر وہ دل ہی دل میں سوچ رہا ہے کہ میں ڈوب گیا،میں ڈوب گیا آپ بهی یہی سوچ رہے ہو جو وہ سوچ رہا ہے_اور اچانک آپ کو کوئی ایسی چیز نطر آئے جسے دیکھنے کے بعد آپ کو امید کی کرن نظر آئے_تو آپ اس پر خود بیٹهیں گے یا اپنے ساتھ ڈوبتے ہوئے دوسرے شخص کو احترام سے کہیں گیں کہ جناب آپ بیٹھ جاہیں..میرے لئے اللہ مالک ہے.؟؟
آج عصب معمول میں اپنے دکان پر بیٹھا تها کہ اچانک مجہے ایک گاڑی کی ہارن اپنے کانوں میں سنائی دی تو میں جلدی جلدی اٹھ کے باہر کی جانب دوڑا کہ کوئی سودا لینے والا(گراک)ہوگا_(کیونکہ اکثر و بیشتر خریدار آتے ہیں وہ جلدی جلدی سودا سلف  لیکے نکل جاتے ہیں_)میں نے دروازے سے باہر قدم رکھا ہی نہیں تها کہ وہ کہنے لگا عومر جلدی سے ایک گیلن پٹرول لیے آو کہ مجھے میت قبرستان لے جانا ہے_میں حیران ہوگیا کہ آج نا کوئی اعلان ہوا ہے نہ کسی نے اس مطلق بات کی کہ آ ج کوئی شخص  اس بے رحم دنیا یا دنیا والوں کو چوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ہے_ تو میں نے  اپنے دکان کے لڑکے(جو میرے دکان پہ کام کرتا ہے) سے کہا کہ جلدی جلدی ایک گیلن پٹرول لیکر آو_اور میں اس گاڑی والے سے پوچھنے لگا کہ آج کون فوت ہوا ہے؟ تو اس نے مجھے دہمی دہمی لہجے سے کہا کہ غلام شاہ_میں نے سوالیہ انداز میں کہا غلام شاہ؟اس نے کہا جی غلام شاہ_میں نے کہا غلام شاہ کون ہے ؟اس نے کہا (غلام شاہ استاد مجاہد غلام ) تبلہ والے کا باپ  اور کون_ یہ خبر سن کہ میں حیران و پریشان سا رہ گیا_
اس نے مجھے جلدی جلدی پانچ سو کا نوٹ دیا اور کہا کہ جلدی سے اپنے پیسے لیکر مجھے میرے پیسے دو کیونکہ میت گهر میں ہے، جنازے کا وقت ہے اور مجھے میت قبرستان پوچانا ہے_ میں نے جلدی جلدی اسے اس کے بقیہ رقم دیے اور وہ چلا گیا_اب میں بیٹھا من ہی من میں پریشانی کی عالم میں سوچ رہا تھا کہ کیا زندگی ہے جو ہم گزار رہے ہیں؟ہم کہتے ہیں کہ انسانوں نے آج بانسبت پہلے کے ترقی کی ہے اور آج ہم ہر کسی کے ساتھ لمعہ بالمعہ انہی انسانوں کی بنائی گئی ٹیکنالوجی سے دنیا کے اس کونے سے اس کونے تک کے خبر سے آشنا ہیں،مگر آج میرے اپنے محلے میں ایک شخص فوت ہوا ہے اورمجھے پتہ بهی نہیں_اور وہ شخص بهی کوئی پرایا شخص نہیں تها کوئی اپنا تها_ گیروں کی خبر اگر کسی کو نہیں بهی ہوتا تو بات سمجھ آجاتا ہے مگر کوئی اپنوں کی خبر اس ٹیکنالوجی و ترقی کی دور میں نہیں رکھتا ہو تو یہ بہت دکھ و شرم  کی بات ہے_میرے اورمجاہدکے بیچ خونی رشتے تو نہیں ہیں،مگر میرے اور مجاہد کے درمیان وہ رشتہ ہے جو خونی رشتے سے بهی بڑه کر ہے_جی آں خونی رشتے سے بھی بڑھ کر''کیونکہ میں مجاہد کو پچھلے اٹھارہ سالوں سے جانتا ہوں،اور میں نے اپنے زندگی کے بہت سے خوشگوار لمعے اس کے ساتھ بہتائے ہیں_اپنے گهر سے لیکر اس کے گهر تک،استاد خورشید کے پہلے میوزک کلب سے لیکر مهر میوزک کلب تک اور میری بے سریلی آواز سے لیکر مجاہد کے تبلے تک کہ جس نے میرے بے سریلی آواز کو اپنے تبلے سے خوش نور بنایا تها_مگر،مگر افسوس سد افسوس کہ میں نے انہیں اپنے بے سریلی آواز کو خوش الہاں بنانے کے عوض ،یا ان بہتائے ہوئے خوشگوار لمعوں کے عوض انہیں کچھ نا دیا اگر دیا تو بس ایک انجان آدمی کی طرح اس کے بابا کے جنازے میں گیا وہ بهی نظریں چراتے ہوئے_!
مجھے معاف کر دینا مجاہد غلام جان

Wednesday, 17 July 2013

How to Make Money Blogging with a Google AdSense Account?


About AdSense for your blog
Blogger provides a simple way for you to make money with your blog. AdSense is Google's content-targeted advertising program. If you use AdSense, you don't have to select keywords or categories for your ads. Instead, Google's servers determine what your posts are about and display the most relevant ads to your readers. For example, if you blog about baseball, you might see ads for “Major League Baseball memorabilia” next to your post. If you blog about painting, you might see ads for “Art Supplies.”
Blogger requests access to your AdSense account so that we can automatically create and place ad code on your page through our layouts and template tools. As a result of this, you might notice that Blogger is receiving "0%" of yourAdSense earnings - this means that you will receive the same amount for clicks or impressions as you would creating the ad code from your AdSense account.
To view any partners that have requested access to your AdSense account, and their associated revenue shares, please log in to your AdSense account, click the Home tab, choose the Account settings sub-tab and go to “3rd-party access.” If you see an "enable access" link next to blogger.com, you must click this link in order to create ads with Blogger tools.
To take full advantage of other AdSense options and settings, such as managing the types of ads that appear on your blog, you can sign in to the AdSense site and have a look around. That's where you can see how much money your ads are earning and manage your account.

The error message above can occur when 3rd-party Access has been disabled in your AdSense account. To re-enable access to your AdSense account by Blogger, please log in to your AdSense account, and click the Account Settings link. You'll see an enable access link next to blogger.com, you must click this link in order to create ads with Blogger tools. You will then be able to log back into blogger.com and continue setting up AdSense from the Earnings tab.
See also: What's AdSense? 

For more info contact me. 
Email: Aomarkb@ymail.com
Faceebook
Twitter