Monday, 23 April 2018

شادی سے انکار، مسلمان لڑکے نے مسیحی لڑکی کو آگ لگا دی

مذہب، حملہ 
تصویر کے کاپی رائٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کو ایک مسلمان لڑکے نے جمعہ کے روز آگ لگا دی جس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
آگ لگنے سے 24 سالہ عاصمہ کا 80 فیصد جسم جھلس گیا تھا اور وہ لاہور کے میئو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
سیالکوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو آگ لگانے والے نوجوان محمد رضوان گجر کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ 336 بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ کے والد یعقوب مسیح نے بتایا کہ ملزم عاصمہ سے شادی کا خواہش مند تھا۔
سیالکوٹ پولیس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ طور پر ملزم لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے پر اکسا رہا تھا۔ جبکہ ملزم کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق جواب میں لڑکی اس کو لڑکی کا مذہب اپنانے کا کہہ رہی تھی۔
عاصمہ کے والد یعقوب مسیح نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری بیٹی نے اس کو بتایا دیا تھا کہ وہ مختلف عقائد سے تعلق رکھتے ہیں اوروہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی اور یہ کہ جہاں اس کے والدین چاہیں گے وہ وہیں شادی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ رضوان نے لڑکی کے انکار کے بعد اس کو آگ لگائی۔
ملزم اور لڑکی سیالکوٹ میں محلہ پومن پورہ کے رہائشی ہیں۔ یعقوب مسیح نے بتایا کہ ان کی بیٹی کسی محلہ دار کے گھر پر کام کی غرض سے گئیں تھیں اور جیسے ہی وہ گھر واپس آنے کے لیے لوٹیں تو گلی میں کھڑے رضوان نے ان کو آگ لگا دی۔
محلے کے لوگوں نے عاصمہ کو سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا تاہم ان کا جسم زیادہ جلا ہونے کی وجہ سے بعد میں انہیں میئو ہسپتال لاہور کے برن سنٹر منتقل کر دیا گیا۔
یعقوب مسیح کو خدشہ تھا کہ ان کی بیٹی پر تیزاب سے حملہ کیا گیا ہے جس سے ان کے چہرے سے لے کر پاؤں تک تمام بدن جل گیا ہے۔
تاہم سیلکوٹ میں تھانہ سول لائنز کے انچارج انسپکٹر شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکے نے پولیس کو دیے جانے والے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ لڑکی کو مٹی کے تیل سے آگ لگی۔
گرفتار ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ عاصمہ کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور آگ حادثاتی طور پر لگی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ عاصمہ سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر اصرار کر رہے تھے جس پر دونوں میں رضا مندی نہیں ہوئی۔
انسپکٹر شاہد کے مطابق ملزم نے دعوٰی کیا کہ وہ لڑکی کو آگ نہیں لگانا چاہتا تھا اور محض اسے ڈرانا چاہتا تھا۔ اس نے لڑکے ساتھ کھڑے ہو کر پیروں میں مٹی کے تیل کی بوتل توڑی اور ماچس کی تیلی جلائی جو تیل پر گر گئی جس سے لڑکی کے کپڑوں کو فوراٌ آگ نے لپیٹ میں لے لیا۔
اس کو آگ لگتا دیکھ کر ملزم پیچھے ہٹا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ تاہم بعد میں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لڑکا اور لڑکی دونوں کافی عرصہ سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملزم پر مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

بشکریہ بی بی سی اردو 

انسان بنیں مرد نہ بنیں




میشا
صرف اپنا ظرف اتنا بڑا کر لیجیے کہ اگر ایک عورت اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کا ذکر کر رہی ہے تو اسے بولنے دیں
میشا شفیع کو مبینہ طور پہ علی ظفر نے ہراساں کیا، ان کی ٹویٹ کے بعد چار مزید خواتین نے اس بات کا اظہار کیا کہ علی ظفر نے انھیں بھی ہراساں کیا۔ کچھ بزرج مہر اسے علی ظفر کی آ نے والی فلموں کے لیے مشہوری کا ایک حربہ اور ملی بھگت بتا رہے ہیں، کچھ کے نزدیک یہ دو فنکاروں کے درمیان معاوضے کی جنگ ہے۔
سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ان معاملات میں اکثر نہیں ہو پاتا لیکن ایسے واقعات معاشرے کی قلعی خوب کھولتے ہیں۔ خیر پاکستانی معاشرے میں عورت کے بارے میں سطحی گفتگو کرنے کی آزادی تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ میشا کے اس ٹویٹ نے پنڈورے کا کوئی نیا پٹارا نہیں کھولا۔ وہی پرانے گٹر دوبارہ ابل پڑے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے چھلکے کہ اپنا سارا ہی گند عیاں کر گئے۔
میشا کے چہرے سے لے کر جسمانی خدوخال تک کے بارے میں ایسے گفتگو کی گئی جیسے قصاب بکری کا گوشت ٹٹولتا ہے۔ اسی پہ بس نہیں ہوا تو بہت سے لوگوں کو یہ تکلیف اٹھی کہ مختصر ترین لباس پہننے والی خاتون جو گانے وانے بھی گاتی ہے اور گاتے ہوئے تھرکتی بھی ہے اور علی ظفر کے 'بہت' قریب ہو کر تصاویر بھی بنواتی رہی ہے اسے کسی قسم کی بھی حرکت سے ہراساں کیسے کیا جا سکتا ہے ؟

ہراسانی‘ کیا ہے اس پہ بہت بار بات ہو چکی ہے۔ کچھ حضرات نے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بہت خوش ہوتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ انھیں بھی ان سے بڑی عمر کی خواتین نو عمری میں ہراساں کرتی رہی ہیں۔ یقیناً ان کے ساتھ ایسا ہوا ہو گا اور ایسا ہوتا ہو گا لیکن کیا انھیں نظر انداز کر دیے جانے کی حد تک کم واقعات کے باعث یہ مان لیا جائے کہ خواتین کو ہراساں نہیں کیا جاتا؟ اور اگر کیا بھی جاتا ہے تو اس کے لیے ایک خاص وضع قطع، عمر، شکل اور سماجی حیثیت کی عورت ہی شکار بن سکتی ہے؟
بالکل نہیں ’می ٹو‘ کی تحریک کا مقصد ہی یہ بتانا ہے کہ ہر ماحول، ہر طبقے اور ہر میدان کی عورت کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ میں ایک استاد ہوں، میرے طالب علم نہایت تمیز دار بچے ہیں، لیکن سالہا سال کے اس تجربے میں ایک دو طلبہ ایسے بھی ہیں جن کو تعلیم کے ساتھ تہذیب بھی مجھے ہی سکھانی پڑی، ان کا رویہ ان کی ساتھی طالبات کے ساتھ ایسا تھا جسے ہراسانی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
علی ظفر
میشا شفیع کے ٹویٹ سے جو بحث شروع ہوئی تھی وہ جلدی ختم ہوتی نظر نہیں آرہی
میں ایک ادیب ہوں، میرے ساتھ کے مرد ادیب بہت مہذب ہیں لیکن یہاں بھی سالہا سال کے تجربے میں کچھ احباب ایسے ہیں جن کا رویہ کسی نہ کسی خاتون کے ساتھ ان کی کھینچی ہوئی حد سے آ گے تھا۔ ان افراد میں بہت بڑے نام شامل ہیں۔ میرا تعلق فنونِ لطیفہ سے براہِ راست تو نہیں لیکن فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے لکھنے کی وجہ سے یہاں بھی بہت سے ایسے لوگوں کی کہانیاں سینہ گزٹ کے ذریعے معلوم ہیں جن کو اپنے ساتھ کام کرنے والے ٹیلنٹ کی عزت کرنا کسی نے نہیں سکھایا۔
میں ایک صحافی بھی ہوں اور اس پیشے میں خواتین کی کتنی عزت کی جاتی ہے اس سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ ایک قومی اخبار کے دفتر میں انٹرن شپ کے پہلے روز داخل ہونے والی میری ایک قدرے فربہہ سہیلی نے پہلا جملہ یہ سنا تھا 'یہ پنجاب یونیورسٹی والے اپنی لڑکیوں کو کون چکی کا پیسہ کھلاتے ہیں؟'
کہنے والا ایک بہت بڑا نام ہے۔ اس روز اس لڑکی کو معلوم ہو گیا تھا کہ یہ ہی درحقیقت کیرئیر کی ابتدا ہے۔ ان جملوں کی نہ کوئی پکڑ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ، گندی نظر ناپنے کا نہ کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے اور نہ بد نیتی کسی سکینر کی زد میں آ سکتی ہے، اس لیے ہراسانی کا کوئی ثبوت نہیں دیا جا سکتا۔
مرد عورت کو کیوں ہراساں کرتا ہے؟ اور کیا اس جرم کے لیے کسی عورت کا حسین، پردے دار، کم سن اور شرمیلا ہونا ضروری ہے؟ کیا خواتین کو پریشان کرنے کے لیے کسی قسم کی حسِ لطیف یا جمالیات کا کوئی ذوق چاہیے؟ جی نہیں، ذرا آنکھیں کھولیے اور اپنے چاروں طرف دیکھیے، سگنل پہ بھیک مانگتی ایک میلی، جوئیں پڑی فقیرنی کو بھی آتے جاتے راہ گیر، چٹکی لینے، سہلانے یا گندی نظر ڈالنے سے باز نہیں رہتے۔ حد یہ ہے کہ کئی حال مست فقیرنیاں جو قابلِ رحم حال میں سڑکوں کے کنارے پائی جاتی ہیں، جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔
اس رویے کے طویل تجربات سے کشید کردہ ایک بہت ہی مردانہ وار جملہ، جو ہمارے مرد اکثر استعمال کرتے ہیں کہ’بس نبض چلنی چاہیے۔‘ حالانکہ اصل صورت حال تو اس سے بھی بد تر ہے۔ یہاں تو قبروں سے عورتوں کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرنے کے واقعات بھی ریکارڈ پہ موجود ہیں اس معاشرے میں عورت سے مزید کیا اور کس بات کا ثبوت مانگا جا رہا ہے؟
سچ جھوٹ کا فیصلہ ہم نہیں کر رہے، صرف اپنا ظرف اتنا بڑا کر لیجیے کہ اگر ایک عورت اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کا ذکر کر رہی ہے تو اسے بولنے دیں، اس ایک آواز میں جانے کتنی پسی ہوئی مظلوم خواتین کی آوازیں شامل ہیں۔ وہ جو ابھی تک نہیں بول سکیں اس ایک چیخ میں ان کی پکار بھی شامل ہے، خدارا اس پکار کا گلا نہ گھونٹیں بلکہ اس آواز میں اپنی آواز ملائیں خود کو تبدیل کریں، اپنی غلطی کا عتراف کرنا سیکھیں، معافی مانگنا سیکھیں۔ مرد ہونا اعزاز نہیں اور عورت ہونا کوئی گالی نہیں، انسان ہونا بڑی بات ہے، انسان بنیں، مرد نہ بنیں !


بشکریہ بی بی سی اردو

Monday, 9 April 2018

سیکس سے بچنے کے لیے مجھے بہانے بنانے پڑتے تھے

ایک نوجوان
تصویر کے کاپی رائٹ
اس کہانی میں بالغوں کے لیے معلومات ہیں تاہم اپنی کہانی بیان کرنے والے شخص نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میں نے کئی راتیں روتے ہوئے گزاریں۔
مختلف ڈاکٹروں سے ملنے کے بعد میری تکلیف بڑھ گئی تھی۔ ہر لمحے میری مایوسی اور میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔
اپنے مسئلے کے حل کے لیے میں انڈیا سے چوری چھپے کئی سو پاؤنڈ کی ویاگرا منگوا چکا تھا۔
ایک پیکٹ 20 گولیوں کا آتا تھا اور ایک گولی کی قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی۔
باتھ روم جا کر میں گولی کھاتا اور یہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے۔
گولیوں کا اثر
میری عمر 25 سال ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ مجھے اس عمر میں ہی ان سب کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔
میری گولیاں ختم ہو جاتیں تو میں صدمے میں آ جاتا کیونکہ پھر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے مجھے بہانے بنانے پڑتے۔
یہ گولیاں اپنا اثر دکھاتی تھیں تاہم میں سیکس سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا تھا۔ ہر وقت دماغ پر ایک خوف سا چھایا رہتا تھا۔
ایک نوجوان
تصویر کے کاپی رائٹ
میں جب 16 سال کا تھا اس وقت مشت زنی کرتے ہوئے مجھے اپنی کمزوری کا احساس ہوا تھا۔ صبح کے وقت ایریکشن ہونا بند ہو چکی تھی اور یہ پہلی علامت تھی۔
اگلے 12 ماہ میں صورتحال تیزی سے خراب ہوتی گئی اور مشت زنی اور سیکس میرے لیے مشکل ہوتا گیا۔
میں نے محسوس کیا کہ میری گرل فرینڈ کو بھی میری کمزوری کا علم ہو گیا تھا اور یہ بات میرے لیے بہت ہی تکلیف دہ تھی۔
سب مبالغہ آرائی کرتے تھے
میرا ایسا کوئی بھی نہیں تھا جس سے میں اپنی باتیں بتا سکتا۔ سکول کے دوست میرا مذاق اڑاتے، گھر میں شرم کی وجہ سے والد سے بات نہیں کر پایا۔ بلکہ اپنی جنسی زندگی کے بارے میں دوستوں کے ساتھ ڈینگیں مارا کرتا تھا جیسا کہ وہ سب کرتے تھے۔
میرا خیال تھا کہ جنسی کمزوری صرف بوڑھے لوگوں میں ہوتی ہے۔ لیکن نوجوانوں کے ساتھ بھی یہ مسئلہ بڑا ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں یہ پتہ چلا ہے کہ 40 سال سے کم عمر کے ہر چار افراد میں سے ایک جنسی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔
میری ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ ہر دس مرد میں سے ایک میں یہ زندگی میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ پھر بھی یہ ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں بات کرنے کے لیے آپ کو کم ہی لوگ ملتے ہیں۔ ایسے لوگ جو کہ مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ سن سکیں۔
میرا خیال تھا کہ پورن فلموں سے کچھ مدد ملے لیکن حقیقی زندگی میں اس طرح کا کچھ بھی نہیں ہوتا جو دکھایا جاتا ہے۔
ایک بار میری گرل فرینڈ نے ویاگرا کی گولیاں دیکھ کر مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس کی بات کو نظر انداز کرنے میں ہی میری پیشانی پر پسینہ آ گیا۔
آج ایسا لگتا ہے کہ مجھے اس سے بات کرنی چاہیے تھی لیکن شرمندگی کے باعث ایسا نہیں کر سکا تھا۔
'میں مر جانا چاہتا تھا'
ایک جوڑا
تصویر کے کاپی رائٹ
کچھ سال پہلے میں یہ محسوس کرنے لگا تھا کہ مجھے خودکشی کر لینی چاہیے۔ میرے لیے محبت کرنا اور رشتہ نبھانا مشکل ہو گیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ میرے بچے کبھی نہیں ہوں گے اور میری جنسی کمزوری کے سبب یہ رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ میں یہ شمار نہیں کر سکتا کتنی راتیں میں نے رو کر گزاریں۔ ہر وقت اسی کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔
ذہنی دباؤ سے فرار کے لیے میں نے منشیات لینا شروع کر دیا۔ لیکن پھر یہ خیال آیا کہ جنسی کمزوری کے لیے اپنے جسم کو مزید نقصان پہنچانا درست نہیں۔

ایک دن میں نے اپنے تمام مسائل کے بارے میں اپنی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں مر رہا ہوں۔ یہ کمزوری میری جان لے رہی ہے۔
وہ میری بات سن کر دنگ رہ گئيں۔ لیکن انھوں نے ہی میری مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نئے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے۔ نئے ڈاکٹر نے مجھے مختلف قسم کی گولیاں، جیل اور انجیکشن دیے۔ میں پورے اعتماد کے ساتھ ان سے علاج کروا رہا تھا۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ سب چیزیں سیکس کے دوران پورن سٹارز کی مدد کرتی ہیں۔ یہ علاج انتہائی دردناک تھا۔ چھ ہفتوں میں ہی میں نے ان کو چھوڑ دیا۔
مسئلے کا حل
ایک ماہر نفسیات نے یہ کہا کہ یہ سب چیزیں ذہنی ہوتی ہیں۔ ان کی بات سن کر میں دوبارہ ان سے ملنے نہیں گیا کیونکہ صرف میں ہی جانتا تھا کہ میں کن حالات سے دوچار ہوں۔
میرے ٹیسٹ جاری رہے۔ ایک ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ میرے عضو تناسل کے گرد خون کا بہاؤ معمول پر نہیں ہے۔ اسے وینز لیک کہا جاتا ہے۔
تاہم بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اس وجہ سے نہیں ہوتا۔
بالآخر ایک ڈاکٹر نے کہا کہ آپ عضو تناسل امپلانٹ کروا لیں۔ اس طرح اس کمزوری کو مختلف انداز سے دور کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اس ڈاکٹر کی بات مانی اور ایک بڑا آپریشن کروایا اور آج میں اپنے عضو تناسل کو کنٹرول کر سکتا ہوں۔
لوگوں کو مشورہ
میری نئی گرل کو اس بات کا علم ہے۔ میں نے مذاقاً اسے یہ بات بتا دی۔ اس نے میری بات سمجھی۔ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کاش میں اس سے پہلے ملا ہوتا تو زندگی بہت آسان ہوتی۔
اب میرے دوستوں کو بھی اس کا علم ہے۔ وہ مجھے روبوٹ مین کہہ کر میرا مذاق اڑتے ہیں۔ وہ مجھ سے اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔
ایسے مسئلے سے دوچار لوگوں کو میرا یہ مشورہ ہے کہ جلد از جلد کوئی ایسا شخص ڈھونڈ لیں جس سے آپ اپنی دشواری کے بارے میں بات کر سکیں۔
بات کرنے سے تسکین ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ اس کا علاج ہو سکے۔ اور اگر ممکن ہو تو ایسا پارٹنر تلاش کریں جو آپ کی کیفیت کو سمجھ سکے۔
اور ویاگرا جیسی دیگر ادویات پر اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں کیونکہ ان سے مسئلہ کا حل مشکل ہے۔


بشکریہ بی بی سی اردو

Friday, 16 February 2018

پاکستانیوں کو غصہ کیوں آتا ہے؟

مجھے چین میں آٹھ سال قیام کا موقع ملا اور اس طویل عرصہ میں صرف ایک آدھ مرتبہ ہی چینی لوگوں کو سڑک پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ اور تب میں سوچا کرتی تھی کہ ہم پاکستانیوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے، ہم گھروں میں، سڑکوں پر، کام کی جگہوں پر لڑتے جھگڑتے کیوں رہتے ہیں۔ میں نے سڑکوں پر دو آدمیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ایسے لوگوں کو بھی کودتے اور مار پٹائی میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا ہے جن کا اس جھگڑے سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہوتا۔ شاید ہم موت کی خفیہ خواہش لئے پھرتے ہیں۔ یا بقول منیر نیازی، مرنے کا شوق رکھتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے بقول غصہ ایک نارمل اور صحتمند جذبہ ہے اور بذات خود یہ مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر غصہ کی بدولت آپ آپے سے باہر ہو جائیں اور ہوش و خرد کا دامن چھوڑ بیٹھیں تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے غصے کی وجہ ڈھونڈی جائے اور مسئلے کو حل کیا جائے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر موسےٰ مراد کا کہنا ہے کہ پاکستانی سماج ابھی تک لاشعور یا تحت الشعورکے مرحلے میں رہ رہا ہے اور ہم نے ابھی تک شخصی احترام اور ضمیر کی آواز سننا نہیں سیکھا ہے۔ شیما کرمانی کے بقول ہم ایک قابل نفرت گروہ بن گئے ہیں، ہم میں سے ایک نام نہاد قابل احترام شاعر کراچی یونیورسٹی کی ایک پروفیسر کو جنسی طور پر ہراساں کرتا ہے، پسند کی شادی کرنے پر لڑکیوں کو مارا اور جلایا جاتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل عورت دشمن بیانات جاری کرتی رہتی ہے، اور اب ایک سینیٹر نے ایک ٹی وی شو میں ایک خاتون کو گالیاں دیں اور مارنے کی کوشش بھی کی۔
 پیمرا نے اس چینل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے جب کہ ہماری رائے میں سب سے پہلے سینیٹ کے چیئرمین کو ان صاحب کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنا چاہئیے تھا۔ ان صاحب کی اپنی پارٹی کے قائد کو بھی ان سے جواب طلبی کرنی چاہئیے۔ انہوں نے ایک خاتون کے بارے میں جو غلیظ زبان استعمال کی اور جس طرح ان کو مکے مارنے کی کوشش کی، اس پر ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئیے۔ ہم امتیاز عالم سے اتفاق کرتے ہیں کہ لوگوں کو، میڈیا کو اور سول سوسائٹی کو عورتوں پر تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئیے۔
سوشل میڈیا پر ہمیں اس پروگرام کی جو ویڈیو کلپس دیکھنے کو ملیں،ان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ حافظ صاحب مغلوب الغضب ہو کر ہوش و خرد کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے تھے۔ ماہر نفسیات جیری ڈیفن بیچر کے مطابق یہ لوگ گرم دماغ کے ہوتے ہیں اور ان میں برداشت کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔ یہ لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں، اس کی وجوہات جینیاتی بھی ہو سکتی ہیں اور نفسیاتی بھی۔ کچھ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں اور کچھ ہمارے سماجی اور ثقافتی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ خاندانی پس منظر بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری رائے میں تو ایسے لوگوں کوخاص طور پر جب ان کے روئیے دوسروں کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک بن جائیں، پبلک لائف کی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو کر فوری طور پر سائیکو تھراپی کے لئے کسی ماہر کے پاس جانا چاہئیے۔ حد سے بڑھا ہوا غصہ بائی پولر ڈس آرڈر کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
غصہ اور غیظ و غضب کی کیفیات کا عمرانی تجزیہ بھی ضروری ہے تا کہ ہمیں اپنی سماجی زندگی میں پائے جانے والے تضادات اور تنازعات کا اندازہ ہو سکے۔ ماروی سرمد والے پروگرام کی وڈیو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ سینیٹر صاحب کو اصل میں غصہ بیرسٹر صاحب کی بات پر آیا تھا، ان سے تو وہ نمٹ نہیں سکے اور انہوں نے اپنا سارا غصہ ایک عورت پر اتارا۔ ایک طبقاتی اور پدر سری معاشرے میں اس کے علاوہ اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اسی لئے ماہرین عمرانیات غصہ کی سماجی تشخیص میں صنف، عمر اور سماجی طبقے کو سامنے رکھتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی جو لہر آئی ہوئی ہے ،اس نے سینیٹر صاحب جیسے لوگوں کو میتھیو پال ٹرنر کے بقول تائید کی لت لگا دی ہے یعنی جو بات وہ کہیں، دوسرے اس کی تائید کریں اور تائید نہ کی تو وہ آگ بگولا ہو جائیں گے اور مرنے مارنے پر اتر آئیں گے۔ ویسے بھی ٹی وی ٹاک شوز کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پبلک ڈیبیٹ پر غصہ کا کلچر چھایا ہوا ہے۔ ٹاک شوز کے علاوہ خبریں سن کر بھی یا تو آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہونے لگتا ہے یا آپ کو ڈیپریشن ہونے لگتا ہے۔ ہمارے چینلز کو ضابطہ اخلاق اور پروفیشنلزم کی اشد ضرورت ہے۔
اور جگر تھام کے بیٹھو کہ اب میری باری ہے، یعنی اب ہم اس ساری صورتحال کو فیمنسٹ نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔
میڈیا میں عورت کی تصویر کشی کیسے کی جائے،اس پر پاکستانی فیمینسٹ کئی عشروں سے آواز اٹھا رہی ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اب “چار بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی” جیسی سرخیاں کم لگائی جاتی ہیں اور زنا با لجبر کے کیسز میں اخبارات میں متاثرہ خاتون کا پورا نام نہیں دیا جاتا اور چینلز پر اس کا چہرا نہیں دکھایا جاتا۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے گذشتہ صدی کا اہم ترین واقعہ 1995ء میں بیجنگ میں ہونے والی عورتوں کی عالمی کانفرنس تھی۔ اس میں میڈیا کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔ دنیا بھر میں میڈیا پر فیصلہ سازی کے حوالے سے مردوں کی حکمرانی رہی ہے۔ اور عورتوں کو بجا طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نقطہءنظر کی نمائندگی نہیں ہو پاتی۔
1960ء کے عشرے کی عورتوں کی آزادی کی تحریک جسے فیمینزم کی دوسری لہر بھی کہا جاتا ہے میں عدم مساوات اور امتیازی سلوک کو ختم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اور اب سائبر فیمینزم کا زمانہ ہے۔ اس میں صنفی خطوط پر ڈیجیٹل تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔اس نئے میڈیا کو چلانے والے اداروں میں بھی عورتیں یا تو موجود نہیں ہیں یا ان کی خاطر خواہ نمائندگی نہیں ہے۔ اس لئے اب سائبر فیمینسٹس ایسی ویب سایٹس بنا رہی ہیں، جس میں عورتوں کے کاموں کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے تجربات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ آج کل انٹر نیٹ پر فیمینسٹ صحافی چھائی ہوئی ہیں اور کیوں نا ہو، عورتیں نصف دنیا بھی تو ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت عورت کی آواز آن لائن آ گئی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئیے کہ ماروی کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کتنا زبر دست احتجاج ہوا ہے۔
اب عورت دشمن لوگوں اور میڈیا کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہی ہو گا اپنا غصہ عورت پر نہیں اتارئیے بلکہ اسے جہالت اور غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کیجئے۔ عورت اور مرد مل کر ہی پاکستان کو ایک ترقی یافتہ قوم بنا سکتے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کا کردار



بشکریہ ہم سب

ماہرِ نفسیات کی ڈائری: جنس دوستی اور پیار کا فطری اظہار ہے

’ہم سب‘ پر شادی اور جنس کے بارے میں میرا کالم چھپنے کے بعد مجھے اتنے زیادہ خطوط موصول ہوئے کہ ان سب کا جواب دینا میرے لیے ناممکن تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا میں وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ سے کہوں کہ وہ ’ہم سب‘ پر میرے لیے ON LINE THERAPY WITH DR SOHAIL کا کلینک بنا دیں اور میں اپنے کلینک سے چھٹی لے کر اس کلینک پر کام کرنا شروع کر دوں لیکن پھر مجھے اندازہ ہوا کہ ایسا ممکن نہیں ہے [میرے کلینک میں مریضوں کی فہرست طویل ہے۔ آن لائن کلینک پر بھی قطار لمبی ہو جائے گی] تو سوچا کہ کیوں نہ میں ان سب خطوط کا اکٹھے جواب دوں اور ایک اور کالم لکھوں تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔
میں نے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ نہ تو میں کوئی مولوی ہوں نہ پروہت‘ نہ پنڈت ہوں نہ پادری۔ میں ایک نفسیاتی معالج ہوں اور ماہرینِ نفسیات انسانی مسائل کو طبی اور نفسیاتی حوالے سے سمجھنے کی اور پھر ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
پہلا مسئلہ ـ MASTURBATION خود وصلی
طب کی نگاہ سے جب بچے جوان ہونے لگتے ہیں تو ان کے جسمانی ہارمون بدلتے ہیں چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں اور وہ اپنے جنسی اعضا کو چھو کر خوشی‘ مسرت اور لذت محسوس کرتے ہیں۔ طبی اور نفسیاتی حوالے سے یہ ایک فطری عمل ہے اور نارمل ہے۔ انگریزی میں اسے ماسٹربیشن کہتے ہیں، عام لوگ اسے جلق کہتے ہیں اور ساقی فاروقی اسے خود وصلی کہتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے لیے جو جلق لگاتے ہیں وہ نہیں بلکہ جو جلق نہیں لگاتے وہ فکرمندی کا باعث ہوتے ہیں۔ خود وصلی اپنے جسم کو سمجھنے‘ اس سے دوستی اور پیار کرنے میں ممد ثابت ہوتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ کوئی اچھی چیز بھی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو اچھی نہیں رہتی۔
دوسرا مسئلہ: ORAL SEX دہنی مباشرت
جو لوگ جلق لگانے کو برا یا گناہ نہیں سمجھتے وہ بھی دہنی مباشرت کے بارے میں فکرمند اور پریشان رہتے ہیں اور یہ پریشانی اس لیے نہیں کہ وہ اس سے لذت حاصل نہیں کرتے بلکہ اس لیے کہ ان کی بیویاں اسے پسند نہیں کرتیں۔
دہنی مباشرت کے حوالے سے مشرقی اور مغربی عورتوں کے رویے میں نمایاں فرق ہے۔ میرا ایک پاکستانی مریض ہے جس کی بیوی کنیڈین ہے۔ اس نے مجھے پچھلے ہفتے بتایا کہ اس کی بیوی دہنی مباشرت کے بعد جب اسے بوسہ دینا چاہتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے کیونکہ وہ مادہ منویہ کو ناپاک سمجھتا ہے۔ اس کی کنیڈین بیوی نے اس سے کہا کہ تم پاکستانی مردوں کا SEMEN  کے بارے میں رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ تم منی کو پیشاب کی طرح ناپاک مانتے ہو کیونکہ تم اسے EXCRETION سمجھتے ہو جب کہ وہ دودھ کی طرح ایک SECRETION ہے۔ اسی لیے اسے LOVE MILK کہا جاتا ہے۔ اس مریض کی کنیڈین بیوی نہ صرف دہنی مباشرت کرتی ہے بلکہ کرواتی بھی ہے۔
تیسرا مسئلہ: جنسی خواہش کی کمی
میں نے اپنے پچھلے کالم میں جنسی خواہش کی کمی کی صرف ایک وجہPTSD  بتائی تھی۔ اس کا مقصد جوڑوں کا ایک دوسرے کے بارے میں ہمدردی پیدا کرنا تھا تا کہ ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو سکے۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ جنسی خواہش کی کمی کی جو اور وجوہات ہیں میں ان کے بارے میں بھی کچھ لکھوں۔ چونکہ وجوہات بہت سی ہیں اس لیے اس کالم میں صرف چند ایک کا ذکر کروں گا۔
بعض جوڑوں کی شادی کے چند مہینوں یا سالوں کے بعد جنس میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے کیونکہ انہیں اس کی عادت سی ہو جاتی ہے۔ بعض کے لیےMONOGAMY LEADS TO MONOTONY  ۔
بعض جوڑوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کا ہے۔ انہیں رومانوی موڈ میں آنے کے لیے تخلیہ چاہیے ہوتا ہے جہاں وہ FOREPLAY  کر سکیں۔ اگر ایسا وقت یا جگہ نہ ملے تو موڈ خراب ہو جاتا ہے اور جنسی خواہش آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
بعض جوڑوں میں شوہر یا بیوی شادی کے باہر ایک محبوب تلاش کر لیتے ہیں جس کے بعد محبوب سے جنسی خواہش زیادہ اور شوہر یا بیوی سے جنسی خواہش کم ہونے لگتی ہے۔ کنیڈا میں جوڑے کہتے ہیں
WHEN THERE IS A MARRIAGE WITHOUT LOVE, THERE IS ALSO A LOVE WITHOUT MARRIAGE.
میں اپنے کلینک میں ایسے جوڑوں سے ملا ہوں جن کے لیے صفائی ایک بڑا مسئلہ ہے اگر ان کا شریکِ حیات روزانہ غسل نہیں کرتا اور اپنے جسم کو صاف ستھرا اور خوشبودار نہیں رکھتا تو وہ اس کے ساتھ مباشرت نہیں کر سکتے۔ عدنان کاکڑ نے ہم سب پر ایک مضمون کا لنک چھاپا تھا جس میں ایک شوہر نے اس لیے اپنی بیوی کو طلاق دی کیونکہ اس نے ایک سال سے غسل نہیں کیا تھا۔
بعض جوڑوں میں جنسی خواہش بچے پیدا کرنے کے بعد کم ہونے لگتی ہے۔ میں ایسی عورتوں سے ملا ہوں جو ماں بننے کے بعد شوہر سے زیادہ اپنے بچوں میں دلچسپی لیتی ہیں۔ بعض دفعہ شوہر اپنے ہی بچوں سے حسد کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان بچوں نے ان کی محبوبہ ان سے کھو لی ہوتی ہے۔ بچوں اور شوہر کی محبت میں توازن قائم رکھنا ایک مشکل فن ہے۔
بعض جوڑوں میں جنسی تعلقات اس لیے کم ہوتے ہیں کیونکہ یا تو شوہر گے ہوتا ہے یا بیوی لیسبین اور انہوں نے خاندان کے دبائو کی وجہ سے شادی تو کر لی ہوتی ہے لیکن وہ جنسی تعلقات سے محظوظ نہیں ہوتے کیونکہ وہ جنسِ مخالف میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنس صرف جوانی کا مشغلہ ہے۔ وہ جوں جوں عمر رسیدہ ہوتے ہیں توں توں جنس میں ان کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔۔ کینیڈا میں مرد اور عورتیں ستر کی دہائی میں بھی جنس سے محظوظ ہوتے ہیں [ضرورت پڑے تو مرد VIAGARA اور عورتیںBIO-IDENTICAL HORMONES استعمال کرتی ہیں] جبکہ مجھے کئی مشرقی شوہر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ’میں اور میری بیوی دس برس سے بہن بھائی کی طرح رہ رہے ہیں‘
میں نے یہ واقعات اس لیے لکھے تا کہ قارئین کو اندازہ ہو کہ جنسی خواہش کی کمی کی بہت سی وجوہات ہیں۔
ہم اپنے کلینک میںGREEN ZONE THERAPY  کا استعمال کرتے ہوئے ہر جوڑے کا خصوصی انٹرویو لیتے ہیں اور پھر ہر جوڑے کے لیے ایک خاص علاج تجویز کرتے ہیں۔ خصوصی مشوروں کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دو عمومی مشورے بھی دیتے ہیں جس سے سارے جوڑے استفادہ کر سکتے ہیںْ۔ وہ دو مشورے یہ ہیں
۱۔ ہفتے میں ایک دن آدھ گھنٹے کی میٹنگ کریں‘ اس ہفتے کے مسائل پر تبادلہِ خیال کریں اور ان مسائل کا مل جل کر حل تلاش کریں
۲۔ ہر ہفتے میں ایک دن ڈیٹ پر جائیں۔ لنچ کریں‘ ڈنر کھائیں‘ فلم دیکھیں‘ کونسرٹ سنیں ‘باغ میں سیر کو جائیں‘ آئس کریم کھائیں‘ ہنسیں کھیلیں مسکرائیں ‘لطیفے سنائیں اور محبت بھری باتیں کریں۔ میری نگاہ میں ڈیٹ صرف غیر شادی شدہ لوگوں کے لیے ہی نہیں شادی شدہ جوڑوں کے لیے بھی بہت سود مند ہے۔ جوڑے جب ڈیٹ کرتے ہیں تو ان کی رومانوی زندگی کامیاب ہوتی ہے اور انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ جنس ایک شجرِ ممنوعہ نہیں ہے بلکہ دوستی اور پیار کا فطری اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔


ماہرِ نفسیات کی ڈائری : میاں بیوی جنس سے بیزار کیوں ہو جاتے ہیں؟



بشکریہ ہم سب