Sunday, 21 January 2018

لندسے لوہن کا سعودی عرب میں فلم بنانے کا اعلان



کراچی :سعودی عرب ،سینما گھروں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد ہالی وڈ کے فلم میکرز اور آرٹسٹوں کی توجہ کا مرکزبن گیا ہے ۔
اس بات کا ایک تازہ ثبوت یہ بھی ہے کہ امریکی اداکارہ، ماڈل ،سنگر اور فیشن ڈیزائنر لندسے لوہن نے اپنی نئی فلم سعودی عرب میں بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ٹی وی شو ’وینڈی ولیمز ‘میں لندسے نے بتایا کہ ان کی آنے والی فلم ’فریم‘ ایک امریکی فوٹو گرافر کی کہانی ہے جو اپنے شوہر کو امریکا میں چھوڑ کر خود سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض منتقل ہو جاتی ہے اور وہاں کے کلچر کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتی ہے۔
ریاض میں اس کی ملاقات خواتین کے ایک گروپ سے ہوتی ہے جن میں سے ہر ایک کی زندگی کے رنگ دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ان خواتین کی مدد سے اسے مقامی کلچر اور روایات کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔
لندسے لوہن نے گزشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب میں سینما گھروں پر پابندی کے خاتمے کے حق میں ٹوئٹ بھی کیا تھا اور لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔

دبئی میں جزیرہ خرید رہی ہوں

انٹرویو کے دوران لندسے لوہن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ دبئی میں اپنا ایک جزیرہ ڈیزائن کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے لندسے لوہن نے کا کہنا تھا کہ جزیرہ ڈیزائن کرنے سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اب تک بہت سے جزیرے دیکھ چکی ہیں اور سوچتی ہیں کہ ان کا اپنا بھی ایک جزیرہ بھی ہونا چاہئے ۔
انہوں نے اس آئی لینڈ یا جزیرے کا نام ’لوہن آئی لینڈ‘ تجویر کیا ہے۔

بشکریہ اردوVOA

بچوں کو جنسی مجرموں سے کیسے بچائیں


یاسمین جمیل


واشنگٹن :بچوں کو جنسی مجرموں سے کیسے بچائیں؟ وہ کیا علامات ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی جنسی مجرم یا ذہنی مریض بچے کی زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر کوئی بچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بن جائے تو والدین فوری طور پر کیا کریں اورزیادتی کے شکار بچوں کو نفسیاتی اور ذہنی دباؤ سے نکال کر معمول کی زندگی پر واپس کیسے لائیں۔
یہ تھے وہ سوال جن کے جوابات دیے ہر دم رواں ہے زندگی میں فلوریڈا کی ایک پاکستانی امریکی چائلڈ سائکیٹرسٹ روبینہ عنایت ، اسلام آباد میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں ایک ریسورس سینٹرروزن کی ماہر نفسیات صاعقہ اشرف، بچوں کے حقوق کے ایک علمبردار ادارے ساحل کے سینیر پروگرام آفیسر ممتاز گوہراور بچوں کے حقوق کے تحفظ پر ریسرچ سے متعلق پاکستان کے ایک ممتاز ادارے سپارک کے مینیجر ریسرچ اینڈ کمیونی کیشنز فرشاد اقبال نے جوپاکستان بھر میں بچوں کے حقوق کے لیے کوشاں ساڑھے چار سو غیر سرکاری فلاحی ا داروں اور سر گرم کارکنوں کے ایک نیٹ ورک چائلڈ رائٹس موومنٹ یا سی آر ایم نیشنل کے رابطہ کار بھی ہیں۔
قصور کی زینب کے واقعے کے تناظر میں ترتیب دئے گئے اس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرشاد اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف زیادتیوں کےواقعات کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن اس بارے میں اعداد و شمار اکٹھا کرنے والے پاکستان کےایک ممتاز غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق2016 میں ملک بھر میں اس بارے میں 4139 کیس رپورٹ ہوئے جب کہ 2015 میں یہ تعداد 3738 تھی اور 2017 کے پہلے چھ ماہ میں 1764 کیس رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ بہت سے لوگ سماجی وجوہات کی بنا پر اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ نہیں کراتے۔
فرشاد اقبال نے، جن کا ادارہ اس موضوع پر ریسرچ سے وابستہ ہے،بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قانونی نظام کمزور ہے ، اسپتالوں میں اس قسم کے متاثرین کی طبی رپورٹس کے اندراج کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے، معاشرے میں عمومی طور پر ایسے واقعات کو باعث شرم سمجھا جاتا ہے جب کہ جب کہ بہت سے دیہی علاقوں میں ایسی زیادتیوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ بچوں کے خلاف زیادتیوں کے یہ مجرم قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں اوراپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں، جب کہ متاثرین کےلواحقین اپنی نیک نامی پر حرف آنے کے خوف اور عدالتوں اور پولیس کچہریوں کے چکروں سے بچنے کے لیے یا تو ان کی رپورٹنگ نہیں کراتے یا پھر عدالت سے باہر ہی ان معاملات کو طے کرتے ہیں۔
فلوریڈا کی چائلڈ سائیکیٹرسٹ روبینہ عنایت نے کہا کہ امریکہ میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں اور ہر سال لگ بھگ 90 ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں اور یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ بہت سے کیس رجسٹر نہیں کرائے جاتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی گھرانے اور اسکول بچوں کو زیادتی کے واقعات سے بچانے کے لیےانہیں اپنی حفاظت خود کرنے کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اور شروع ہی سے لوگوں کی جانب سے انہیں چھونے کے اچھے اور برے انداز کے بارے میں سمجھا دیا جاتا ہےجسے گڈ ٹچ ، بیڈ ٹچ یا سیکرٹ ٹچ کا نام دیا جاتا ہے جب کہ انہیں اجنبیوں سے دور رہنےکی تلقین کی جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کا ارتکاب صرف اجنبی ہی نہیں بلکہ اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں بھی ہوتا ہے۔
صاعقہ اشرف نے کہا کہ پاکستان میں غریب گھرانوں کے وہ بچے جو اسکول نہیں جا پاتے یا گھروں سے باہر معمولی ملازمتیں کرتے ہیں اکثر جنسی مجرموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جب کہ عام گھرانوں کے بچےاپنے گھروں میں اکثر آنے والےکسی قریبی عزیز یا دوست کے ہاتھوں بھی زیادتی کا نشانہ بنتےہیں اوریوں بچپن کے یہ واقعات ساری عمر ان کی شخصیت پر اثر اندازرہتے ہیں۔
روبینہ عنایت نے کہا کہ اگر کسی بچے کےمعمول کے رویئے میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع ہو، وہ اچانک چڑ چڑا یا الگ تھلگ رہنے لگے ، یا پڑھائی میں اس کے گریڈز کم آنے لگیں یا وہ قریبی حلقے کے کسی ایسے فرد سے بچنے لگےجس سے وہ پہلے قریب تھا تو والدین کو چاہیے کہ وہ اس سے بہت پیار سے اصل بات کا پتہ لگانے کی کوشش کریں اور اگر بچہ کسی جنسی زیادتی کا شکار ہوا ہو یا ہو رہا تو اسے یہ یقین دلائیں کہ اس واقعے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہےاور بچے کی کونسلنگ کرائیں اورمجرم کو سزا دلانے کے اسباب کریں۔
پاکستان میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں کے لیے قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے والے ادارے ساحل کے سینئر پروگرام آفیسر ممتاز گوہر نے کہا کہ اگر خدانخواستہ کسی کا بچہ یا بچی زیادتی کا شکار ہو جائے تو مجرم کو انصاف کے کٹہرے تک لانےا ور انصاف حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ بچے کو 12 سے 24 گھنٹے کے اندر کسی غسل کے بغیر قریبی سرکاری ہسپتال میں لے جا کر میڈیکل رپورٹ حاصل کریں اور پھر قریبی پولیس اسٹیشن میں اس کی رپورٹ درج کرائیں ۔ اور اگر کسی مالی یا قانونی مشکل کی وجہ سے وہ عدالتی چارہ جوئی میں کوئی رکاوٹ محسوس کریں تو وہ ان کے ادارے ساحل سے رابطہ کر سکتے ہیں جو پاکستان بھر میں اپنے چھ ہزار وکلا کی مدد سے ایسے بچوں کے لییے مفت قانونی مدد فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان بھر سے کسی بھی متاثرہ بچے کے لواحقین یہ مدد حاصل کرنے میں راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور بچے کی نفسیاتی بحالی کے لئے مفت کونسلنگ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

بشکریہ اردوVOA

خواتین کا امریکہ میں اپنے حقوق کے لیے بڑا مظاہرہ


واشنگٹن میں پچھلے سال خواتین کے مظاہرے کا ایک منظر۔ فائل فوٹو
واشنگٹن میں پچھلے سال خواتین کے مظاہرے کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

واشنگٹن :صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر پچھلے سال دارالحکومت واشنگٹن ، امریکہ اور دنیا بھر کے سینکڑوں شہروں میں لاکھوں خواتین نے شاہراہوں اور گلی کوچوں میں خواتین کے خلاف نظریات رکھنے اور ان کے حقوق پامال کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے کیے تھے۔
ایک سال بعد 20 کو ہفتے کے روز ایک بار پھر امریکہ بھی میں خواتین اپنے حقوق اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کے خلاف اکھٹی ہوئیں۔
اس بار خواتین کا مظاہرہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب امریکی وفاقی حکومت سینیٹ سے اخراجات کے لیے فنڈز کی منظوری نہ ملنے کے باعث جزوی طور پر معطل ہے۔
خواتین کا یہ اجتماع امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے کئی مہینے پہلے ہوا ہے۔ترقی پسند خواتین کو توقع ہے کہ ان کی تحریک اس سال عام انتخابات میں کامیابیاں لے کر آئے گی۔
پچھلے سال امریکہ بھر سے آنے والے لاکھوں خواتین نے جنہوں نے گلابی رنگ کے ہیٹ پہن رکھے تھے، صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔
پچھلے سال مظاہرے میں شامل ہونے والی حیدر ٹوسی کا کہنا ہے کہ اس سال ان کا ارادہ احتجاج سے الگ تھلگ رہنے اور یہ دیکھنے کا تھا کہ حکومت کیا کرتی ہے لیکن اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہم ایک بار پھر باہر نکلیں اور ان رویوں کے خلاف آواز اٹھائیں جو بنیادی اخلاقیات،انسانیت اور آئین کے خلاف ہیں اور جن کے خلاف جمہوریت کو کھڑا ہونا چاہیے۔
کیلی روبنسن کا کہنا ہے کہ پچھلے سال جن عورتوں نے سڑکوں پر مارچ کیا تھا، ان میں سے اب کئی خود انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ رہی ہیں تاکہ ایوانوں میں پہنچ کر وہ خواتین کے حقوق کا تحٖفظ کر سکیں۔
اے بی سی نیوز نے بتایا کہ شکاگو میں خواتین کے دوسرے سالانہ مظاہرے میں تقریباً تین لاکھ عورتوں نے حصہ لیااور گرینٹ پارک سے فیڈرل پلازہ تک مارچ کیا۔ اس سال ان کا نعر ہ تھا ووٹ کے لیے مارچ۔ خواتین نے یہ عہد کیا کہ وہ نہ صرف ان امیدواروں کو ووٹ دیں گی جو ان کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کریں گے بلکہ وہ خود بھی الیکشن کے میدان میں اتریں گی۔
دنیا کے کئی اور شہروں میں بھی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کیے۔

بشکریہ اردوVOA

بروقت کارروائی سے زینب جیسی بچیوں کو بچایا جا سکتا تھا


زینب (فائل فوٹو)

اسلام آباد :پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے صوبہ پنجاب کے شہرقصور میں سات سالہ زینب سے زیادتی اور قتل کے واقعہ کی تفیتش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معصوم لڑکی کےخلاف نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا اور اگر پولیس نے ماضی میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بروقت کارروائی کی ہوتی تو زینب جیسی کئی بچیوں کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔
زینب کو رواں ماہ کے اوائل میں نامعلوم شخص نے اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش اغوا کے پانچ روز بعد کچرے ایک ڈھیر سے برآمد ہوئی تھی۔
اس واقعے پر پاکستان میں نہ صرف عوامی سطح پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس سے اس واقعہ پر رپورٹ طلب کی تھی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے اتوار کو لاہور میں اس معاملے کی دوبارہ سماعت کی ۔
پنجاب پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے واقعے کی اب تک ہونے والے تفتیش سے عدالت کو آگاہ کیا۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے ملتان ڈویژن کی پولیس کے سربراہ محمد ادریس نے بینچ کو بتایا کہ 2015ء سے لے کر اب تک قصور میں آٹھ لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا جن میں زینب بھی شامل ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والے تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے ان واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔ محمدادریس نے عدالت کو بتایا کہ اس کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر پولیس نے 2015ء میں بروقت کارروائی کی ہوتی تو آٹھ بچیوں کی زندگی کو بچایا جا سکتا تھا۔
پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں اور بچوں کے حقوق کےتحفظ کے لیے سرگرم کارکنان ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اور معاشرتی سطح پر وسیع تر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔
پنجاب حکومت کے بچوں کے تحفظ اور فلاح سے متعلق ادارے کی سربراہصبا صادق نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زینب کا واقعہ ایک امتحان ہے کہ بچوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کی تشکیل کیسے کرنی ہے۔
" بچوں کے تحفظ کے سلسلے میں ہم آئی جی پولیس سے بھی ملتے رہے ہیں اور انہیں بتایا کہ بچوں کے معاملات انتہائی حساس ہیں اور انہیں روٹین میں نا دیکھا جائے ۔ اب ہم ایسے بچوں کی تلاش کے لیے ایمبر الرٹ سسٹم پر ہم نے کام مکمل کر لیا ہے اور جلد ہی پنجاب میں یہ سسٹم قائم کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی بچے کے لاپتا ہونے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے اور ان کی جان بچائی جا سکے۔ "
صبا صادق نے کہا کہ اب اسمارٹ فون پر ایسے ایپ متعارف کروا رہے ہیں تاکہ لاپتا ہونے والے بچوں سے متلق متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آگا ہ کیا جاسکے۔
" موبائل فون پر ہم ایک ایسے ایپ متعارف کروارہے جس پر کسی بھی لاپتا ہونے والے بچے کی تصویر اور دیگر معلومات پوسٹ کی جا سکیں گی تاکہ اس بچے کی تلاش کے لیے یہ معلومات فوری طورپر تمام متعلقہ اداروں تک پہنچ پائیں۔"
پاکستان میں بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو نہایت مشکل صورت حال کا سامنا رہتا ہے اور ان میں سے کئی ایک کو جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگرچہ حالیہ سالوں میں حکومت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کئی قوانین بھی وضع کیے ہیں تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر موثر عمل درآمد کروا نا حکومت کے لیے اب بھی ایک چیلنج ہے۔

بشکریہ اردوVOA

خط غربت سے نیچے رہنے والے بچوں کے جنسی استحصال کا زیادہ امکان

فائل فوٹو
 اسلام آباد :وفاقی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ بچے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے جنسی استحصال اور تشدد کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
عہدیدار نے یہ بات اسلام آباد میں وفاقی محتسب کے زیر اہتمام ایک مشاورتی نشست کے دوران بتائی جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ قابل ذکر قانون سازوں نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس میں رواں ماہ کے اوائل میں قصور میں ایک کم سن بچی زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دینے کے واقعے پر بھی غور کیا گیا اور بچوں کو ایسے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قصور کے اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے بھی ایسے ہی مزید چند واقعات سامنے آئے جس کے بعد ایسے مطالبات میں شدت آئی کہ حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدام کرے۔
وزارت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ گو کہ حکومت نے اس ضمن میں قانون سازی کی ہے لیکن ان پر عملدرآمد ایک چیلنج ہے۔
اجلاس میں شریک نیشنل کمیشن برائے خواتین کی سربراہ خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے میں جینیاتی (ڈی این اے) تجزیہ لازمی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اخراجات حکومت برداشت کرے نہ کہ متاثرہ خاندان۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ پر 30 سے 50 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کے رکن ممتاز گوہر کہتے ہیں کہ ایسے واقعات میں تفتیش اور پھر عدالتی کارروائی کو سہل اور تیز رفتار بنانے سے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں اس نوعیت کے بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں اور ان پر کارروائی شروع ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے اکثر لوگ عدالت کے باہر ہی آپس میں معاملات طے کر لیتے ہیں۔
ممتاز گوہر نے کہا کہ ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات کو زیادہ سے زیادہ ایک سال میں نمٹایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو مزید تکلیف سے بچایا جائے۔

بشکریہ اردوVOA

مشال ریڈیو کی بندش کی مذمت اور فوری بحالی کا مطالبہ

شمیم شاھد


پشاو :خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے بھی پاکستانی حکومت کی طرف سے ریڈیو فری یورپ کے پشتو ریڈیو 'مشال' کے اسلام آباد میں واقع دفتر کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔
جمعہ کو وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی 'آئی ایس آئی' کی سفارش پر اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ مشال ریڈیو پر پابندی لگائیں جس کے بعد حکام نے ریڈیو کے کارکنان کو گھر بھیجتے ہوئے دفتر کو سیل کر دیا تھا۔
انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے اس ریڈیو پر پاکستان کے مفاد کے منافی سرگرمیاں انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیف اللہ سیفی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محض انٹیلی جنس رپورٹ پر اس قدر سخت اقدام ناقابل قبول ہے اور اگر حکومت کو اس ریڈیو کی سرگرمیوں پر اعتراض تھا وہ کوئی وضاحت طلب کر کے مسئلے کو حل کر سکتی تھی۔
"جمہوریت کا راگ بھی الاپتے ہیں اور حکومتیں کہتی ہیں ہم جمہوری اقدام کا دفاع کرتی ہیں لیکن پھر ایسے اقدام کر کے وہ یہ بھی ثبوت دیتی ہیں کہ جمہوریت قائم نہیں یہ رجحان اصل میں آزادی صحافت کے لیے خطرناک ہے۔۔۔اس سے آزادی صحافت پر بھی کاری ضرب لگتی ہے اور ہمارے صحافی جو ہیں وہ بھی بے روزگار ہوتے ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ مشال ریڈیو میں کام کرنے والے صحافی محب وطن پاکستانی ہیں اور اگر ان کے کام سے متعلق کسی ادارے کو کوئی اعتراض ہے تو اسے انتظامیہ سے بات کرنی چاہیے نا کہ ادارے کو ہی بند کر دیا جائے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی طرف سے جاری ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ریڈیو کے دفاتر کو فی الفور کھولتے ہوئے اس کی نشریات میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔
قبل ازیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور دیگر صحافتی تنظیمیں بھی مشال ریڈیو کے دفتر کو بند کیے جانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس کی بحالی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
امریکی حکومت کے مالی وسائل سے جمہوریہ چیک میں قائم ریڈیو فری یورپ نے 2010ء میں مشال ریڈیو کے نام سے پشتو سروس کا آغاز کیا تھا۔

بشکریہ اردوVOA

زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے

نادیہ جمیل
تصویر کے کاپی رائٹNADIA JAMIL/FACEBOOK
زینب کے قتل کے بعد پاکستان نے پہلی بار ایسی جانی مانی ہستیاں سامنے آئی ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور #MeToo کے ہیش ٹیگ کی مدد سے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔ ان مشہور شخصیات میں سب سے پہلا نام اداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل کا ہے۔ ہماری ساتھی فیفی ہارون نے نادیہ جمیل سے ان موضوعات پر بات کی۔
ہر روز اخباروں میں پانچ سے چھ چھوٹی چھوٹی خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ بچی کی لاش ملی ہے جنسی تشدد کے بعد پھینک دی گئی۔
یہ نئی چیز نہیں ہے، لیکن اب ان بچیوں کے نام نکل رہے ہیں، زینب، اسما، کائنات بتول، یہ نام سامنے آ رہے ہیں۔ جن وکیلوں کے ساتھ میں نے کام کیا ہے، انھوں نے مجھے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں کیس آئے ہیں۔ ساڑھے سات سو کیس تو 2015 کے بعد سے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

اماں میں بھی تو زینب ہوں

اس پر میڈیا میں شور مچا تھا اور میڈیا اپنی ریٹنگ کے لیے واہیات طریقے سے بچوں سے جا کر پوچھتا تھا کہ 'بیٹا آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے؟' یہ نہیں سوچا کہ بچوں پر تو پہلے ہی صدمہ گزرا ہے، ان لوگوں کے نام بھی سامنے آئے، لیکن پھر سب کچھ دب گیا، نصاف نہیں ملا۔
میری نظروں میں زینب شہید ہیں کیونکہ ان تمام واقعات کو زینب کے چہرے کی وجہ سے ایک نام ملا ہے۔ لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ ہماری خاموشی کی وجہ سے یہ معاملہ پھیل رہا ہے۔
اس بارے میں میڈیا اور سوشل میڈیا کب تک بات کرتے رہیں گے، کام ہونا چاہیے۔
ایک تو یہ کہ انصاف ملنا چاہیے۔ ان بچوں کو بھی اور ان ک گھر والوں کو بھی۔ دوسری چیز تعلیم ہے، آپ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم دیں کہ اس طرح کے آدمی ہمارے معاشرے میں پیدا ہی نہ ہو اس کینسر کو روکنا ہے۔ آپ کتنے لوگوں کو پھانسی لگائیں گے، کتنے لوگوں کو ماریں گے؟ کروڑوں اور نکل آئیں گے۔
کوئی آدمی برا پیدا نہیں ہوتا، معاشرہ اسے سکھاتا ہے۔ یہ چیز صدیوں سے چلتی آ رہی ہے، اس لیے ایسا نہیں کہ یہ چٹکیوں میں ختم ہو جائے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مردانگی کا ایک چہرہ بنا لیا ہے، مولا جٹ، جبر، ڈنڈا، بندوق۔ آپ کو یہ مردانگی کا چہرہ بدلنا پڑے گا۔ یہ ہمارے مردوں سے بھی ان کی حساسیت چرا رہا ہے، یہ مردوں پر بھی تشدد ہے۔ مرد کیوں نہ روئے؟ مرد حساس کیوں نہ ہو؟
نادیہ نے کہا کہ جن خواتین کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے وہ اس لیے خاموش رہتی ہیں کہ عزت نہ لٹ جائے۔ 'تو یہ جو کہا جاتا ہے کہ عزت لٹ گئی، تو اول تو یہ کہ میری عزت میری ہے کوئی مجھے چوٹ پہنچائے اور میں ہی شرمندہ ہوں؟ نہیں! شرمندہ تو اسے ہونا چاہیے جس نے مجھے چوٹ پہنچائی ہے۔
'جب بچہ اس طرح برداشت کرتا رہے گا اور اگر سزا ہوتے ہوئے نہیں دیکھے گا تو وہ بچی جب عورت بنے گا، وہ بچہ جب مرد بنے گا تو وہ اپنے بالغ تعلقات بھی درست طریقے سے قائم نہیں رکھ سکے گا۔'
نادیہ نے بتایا کہ ان کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں نے بچپن میں جنسی زیادتی کی، لیکن اس کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے ان مردوں پر غصہ نہیں ہے جنھوں نے میرے ساتھ زیادتی کی، کیونکہ وہ خود معاشرے کا نشانہ ہیں۔'
جو بچے زیادتی کا نشانہ بن گئے ہیں ان کی کونسلنگ کیسے کی جائے؟
'ہمیں چاہیے کہ ہم تشدد کا شکار بچوں کو سکھائیں کہ زندگی ابھی بھی تمہارے لیے ایک آپشن ہے، غصہ، تکلیف ایک طاقت ہے۔ اسی طاقت کو اپنے سہارے کے لیے استعمال کریں۔'
جو بچے زندہ نہیں رہے جیسے زینب، ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
'زینب میں ہوں، تم ہو، اور ساری عورتیں ہیں جن کے ساتھ یہ واقعات پیش آئے، اور تمام چھوٹے بچے اور تمام خواتین، اگر وہ نہ بولے آپ کو پتہ ہے کہ یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں صرف لڑکیاں ہی مظلوم نہیں ہیں، لڑکوں کے ساتھ بھی بہت برے برے حادثے ہوئے ہیں۔
لاہور
تصویر کے کاپی رائٹ
اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے ضروری چیز انصاف ہے، ان والدین کے لیے، معاشرے کے لیے اور معاشرے کی تسلی کے لیے۔ ریپ کرنے والے کو دکھانے کے لیے کہ اس معاشرے میں ابھی بھی انصاف باقی ہے۔
دوسری چیز والدین کی کونسلنگ بہت ضروری ہے اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ بھولنا مت، اسے ہمیشہ یاد رکھنا۔
'ہم اتنا گھٹیا معاشرہ بن چکے ہیں کہ بچوں کی موت ہمیں ہمیں سکھاتی ہے۔ میں نے کبھی کسی بچے کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر نہیں کی لیکن زینب کی تصویر کو شیئر کرنا لازمی تھا۔ اس کے مسکراتے ہوئے پر اعتماد شرارتی چہرے کے ساتھ گلابی کوٹ میں۔ ضروری تھا کہ میں اس کی ٹوٹی ہوئی لاش کی تصویر کوڑے کے ڈھیر پر دکھاؤں۔ لازمی تھا کہ میں دکھاؤں کہ یہ اپنا مستقبل ہے جو تم لوگ بنا رہے ہو۔
'مجھے لوگوں نے کہا کہ یہ بےادبی ہے، ضرور ہے، مگر اتنی نہیں جتنا وہ حادثہ ہے جس نے اس بچی کے جسم کو اس کوڑے کے ڈھیر تک پہنچایا، اور یہ دیکھ کر ہل جاؤ کہ اگر ہم ابھی بھی باشعور نہ ہوئے تو یہ ہمارا مستقبل ہے۔'

بشکریہ بی بی سی اردو

گاڑی کی سیٹوں پر خون نہ لگے‘، پولیس کا زخمیوں کی مدد سے انکار

انڈین پولیس
تصویر کے کاپی رائٹ فائل فوٹو
اطلاعات کے مطابق انڈیا میں دو نوجوان ٹریفک حادثے کے بعد اس وقت ہلاک ہو گئے جب پولیس نے مبینہ طور پر انھیں قریبی ہسپتال لے جانے سے انکار کر دیا۔
ریاست اترپردیش کے علاقے سہارنپور کی پولیس پر الزام ہے کہ انھوں نے ان نوجوانوں کو اس لیے اپنی گاڑی میں نہیں بٹھایا کہ کہیں اس کی سیٹوں پر خون کے دھبے نہ لگ جائیں۔
اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ بات اس وقت منظرِ عام پر آئی جب اس واقعے کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں خون میں لت پت نوجوانوں کو سڑک پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے اور ایک راہگیر پولیس سے درخواست کر رہا ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔

Saharanpur: 2 youth dead after their bike rammed into an electric pole & they fell into a canal. Police say, ''on reaching the spot Police officials refused to take victims for medical help.'' A video of the incident has also surfaced & Police is taking disciplinary action on it. pic.twitter.com/tqPxGvlr3p
— ANI UP (@ANINewsUP) 20 جنوری، 2018
@ANINewsUP کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں
اترپردیش کی پولیس کو حال ہی میں نئی گاڑیاں ملی ہیں جن کا مقصد ہنگامی سروس میں بہتری لانا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو