باغی سے قندیل بلوچ کے والدین کا کیا بھلا ہوا؟

تحریم عظیم 

پچھلے سال کے شروع کی بات ہے، خبریں گردش کرنے لگیں کہ قندیل بلوچ کی زندگی پر ایک ڈرامہ بنے گا۔ کچھ دن بعد قندیل بلوچ کے کردار میں ڈھلی صباء قمر کی تصاویر سوشل میڈٰیا پر گردش کرنے لگیں جنہوں نے عوام کی اس ڈرامے میں دلچسپی مزید بڑھا دی۔ 27 جولائی 2017ء کو قندیل کی زندگی پر بننے والے اس ڈرامے ’باغی‘ کی پہلی قسط آن ائیر ہوئی اور 2 فروری 2018ء کو یہ ڈرامہ تمام ہوا۔ دیکھا جائے تو یہ ڈرامہ بہت مقبول ہوا اور اس مقبولیت کی واحد وجہ اس کی کہانی کا قندیل بلوچ کی زندگی سے تعلق ہونا تھا۔ گو ڈرامے کے شروع میں ڈسکلیمر دے دیا گیا ہے کہ یہ ڈرامہ حقیقی واقعات سے متاثر ہونے کے باوجود کسی بھی شخص کی زندگی کی کہانی نہیں ہے۔ اس ڈسکلیمر کے باوجود سب جانتے ہیں کہ یہ ڈرامہ قندیل کی زندگی ہی دکھائی گئی تھی۔
کچھ روز قبل ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی بانی نگھت داد نے ایک فیس بک پوسٹ میں انکشاف کیا کہ باغی کی ٹیم نے قندیل کے والدین کو بتایا کہ وہ قندیل کی زندگی پر ایک کتاب لکھنا چاہتے ہیں اور حقیقت میں ایک ڈرامہ بنا ڈالا۔ اس سب کے عوض قندیلہ کے والدین کو بس پچاس ہزار کی قلیل رقم ادا کی۔
اب تک تو سب ہی جان گئے ہیں کہ قندیل بلوچ اپنے بوڑھے والدین کا اکلوتا سہارا تھی۔ ایک ایسا ملک جہاں لڑکوں کو لڑکیوں پر صرف اسی لیے فوقیت دی جاتی ہے کہ وہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے، اسی ملک میں قندیل کے والدین کے لیے ان کے بڑھاپے کا سہارا ان کی بیٹی فوزیہ بنی جسے پوری دنیا قندیل بلوچ کے نام سے جانتی ہے۔ اس بڑھاپے کو سہارے کو ان سے چھین لیا گیا کیونکہ مجھ سے اور آپ سے ایک عورت کی آزادی اور اپنا نام بنانے کے لیے کی جانے والی جدوجہد برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ ہم سب کی غیرتیں اتنی اونچی ہوگئیں کہ ہم نے اس کے بھائی کو ہی اس کے خلاف لا کھڑا کیا جس نے قندیل کو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر قتل کر دیا۔
ہم نے اپنی نام نہاد غیرت کو جب قندیل کے خون سے بجھا لیا تو واپس اپنے گناہوں کی طرف لوٹ گئے، دوسری طرف قندیل کے والدین کو قندیل کا دلایا ہوا کرائے کا گھر چھوڑ کر واپس اپنے آبائی گھر آنا پڑا جہاں قندیل تو نہیں تھی مگرغربت اور بھوک ان کی منتظر تھی۔ ہماری طرح قندیل کے بھائیوں کی بھی غیرت سیراب ہو چکی تھی، وہ مطمعن تھے کہ اب ان کی عزت ایک قبر کے اندر محفوظ ہے۔ وہ واپس اپنی زندگی میں مصروف رہ گئے، پیچھے رہ گئے تو بوڑھے ماں باپ جن کا احساس صرف قندیل کو تھا۔
یہ بھی پڑہیں۔

قندیل بلوچ خوابوں کی سیر سے بستر مرگ تک


باغی کے حوالے سے نگھت داد کے کیے گئے انکشافات کے بعد ڈرامے کی پروڈیوسر نینا کاشف نے فیس بک پر ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے ان سارے الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔ اپنی فیس بک پوسٹ میں نینا کاشف نے لکھا ہے کہ اس ڈرامے کے لیے قندیل بلوچ کے والدین سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی، گو اس ڈرامے میں قندیل کی زندگی سے بہت کم واقعات لیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کے اور قندیل کے والدین کے درمیان ہونے والا معاہدہ اردو میں تھا تاکہ سب اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔ قندیل کے والدین نے ایک مخصوص رقم طلب کی جو انہیں دے دی گئی۔ جب نگھت داد نے ان سے کہا کہ وہ یہ ساری قانونی کارروائی پبلک کریں تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے قندیل کے والد اعظم بابا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے تھے مگر وہ قندیل کی زندگی پر کتاب لکھنا چاہتے تھے، ڈرامے کا ان سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
باغی بنانے والوں نے قانونی لحاظ سے خود کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ یہ ڈرامہ ان کی ملکیت ہے، اس سے حاصل ہونے والے نفع پر بھی ان کا ہی حق ہے لیکن اگر انہیں قندیل کے قتل نے اتنا متاثر کیا ہے کہ انہوں نے اس کی زندگی پر مبنی ایک ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کر ڈالا تو اس محنت کے پھل میں سے تھوڑا سا حصہ قندیل کے والدین کو بھی دے دیں تو کیا حرج ہے؟ یا اس ڈرامے کا مقصد بس قندیل کی شہرت سے فائدہ اٹھا کر اپنی جیبیں بھرنا تھا؟

بشکریہ ہم سب