آج بھی منٹو کا پاکستان اور ”کھول دو“ کی سکینہ کا کھلا ازار بند

 
یہ وہی پاکستان ہے نا، جس کا مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کے تحفظ کے لیے جناح صاحب نے مطالبہ کیا تھا؟
یہ وہی پاکستان ہے نا جس کا وعدہ تھا کہ یہاں بسنے والی تمام قوموں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے؟
یہ وہی پاکستان ہے نا، جو طاقتور شہنشاہیت کی غلامی سے آزادی کا دعویدار تھا؟
مگر شاید ہم ہی کو اس پاکستان کی طرف جاتا راستہ نہیں مل رہا!
ہم بار بار یو ٹرن لے کر وہاں لوٹ آتے ہیں، جہاں ابھی تک منٹو کا پاکستان چل رہا ہے!
جہاں آج بھی منٹو کی کہانی ”کھول دو“ کے سراج الدین کی بیٹی سکینہ جیسی کئی بیٹیاں کُچلی لاشوں کی مانند پڑی ہیں، جن کے ازار بند، عبائے میں بھی کھول دیے جاتے ہیں اور منٹو کے پاکستانی رضاکاروں کی طرح آج بھی رضاکار تسلیاں دیتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
جہاں آج بھی منٹو کے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کے پاگل خانے کا ہجوم مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے اور بقول منٹو ”جن کے دماغ ابھی پوری طرح ماؤف نہیں ہوئے وہ اس مخمصے میں گرفتار ہیں کہ وہ پاکستان کہاں ہے! “
”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کے پاگل خانے میں دو پاگلوں کے بیچ منٹو کا لکھا مکالمہ بھی ابھی تک ہندوستان اور پاکستان میں چل رہا ہے!
منٹو لکھتا ہے :
”ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قائدگی کے ساتھ ‘زمیندار’ پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا، مولبی ساب، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے، تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا، ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں“
آج تک ہم اور ہندوستان ”استرے“ بنا رہے ہیں اور استرے تلے ہم وطنوں کی گردنیں رکھ رہے ہیں۔
آج بھی 1947 کی طرح زندہ لاشوں جیسا، لٹے پٹے انسانوں کا ایک انبوہ ہے جو سروں پر بھوک، بیماریوں اور تباہ حال نسلوں کی گٹھڑیاں اٹھائے مارا مارا پھر رہا ہے اور پوچھتا پھر رہا ہے کہ وہ پاکستان کہاں ہے، جو ہماری نسلوں کے کامیاب مستقبل کے لیے بنایا گیا تھا؟
اب بتاؤ ہم یہ دولے شاہ کے چوہوں جیسی نسلیں لے کر کہاں جائیں؟
آج بھی افراتفری کا وہی 1947 والا عالم ہے۔ لوگ جانوں اور عزت کا تحفظ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں، اور اب تو وہ کنویں بھی نہیں رہے کہ جن میں جان اور عزت سمیت کود جائیں!
آج بھی جناح صاحب کے وعدوں والے ”اصلی پاکستان“ کی خواہش کرنے والوں پر کفر کے فتوے جاری و ساری ہیں اور مولوی آج بھی دھڑلے سے طاقتور کے منبر پر کھڑا ہے اور لوگوں کو مذہب کے نام پر بہکا رہا ہے کہ مسلمانو! طاقتور کے سامنے سرجھکاؤ۔ یہی دین کا حکم ہے اور اسی میں تمہاری فلاح ہے۔ آؤ اور طاقتور کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ حوروں کی گارنٹی میں دیتا ہوں۔
آج بھی پاکستان گویا مالِ غنیمت ہے!
جو اصل مالکان کے مال پر پنجے گاڑے بیٹھے ہیں وہی معتبر اور طاقتور ہیں اور اصل مالکان حقوق کی بھیک مانگتے اور پناہ گاہیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں!
آج بھی جناح صاحب کی پیٹرول سے خالی کھٹارا ایمبولنس ”ناپسندیدہ مریضوں“ کو اٹھائے، سنسان سڑک پر اس انتظار میں کھڑی رہتی ہے کہ کب مریض کا دم نکلتا ہے اور کب جان چھوٹتی ہے!
آج بھی ہر اس شخص کو تاریک ”پاگل خانے“ میں دھکیل کر منظر سے غائب کردیا جاتا ہے، جس پر بیباک ”منٹو“ کا گمان ہوتا ہے۔
منٹو آج بھی خون تھوک رہا ہے اور پاکستان ابھی تک بن رہا ہے۔
کبھی نیا بنتا ہے اور کبھی پرانا۔