Thursday, 20 July 2017

سامعہ شاہد قتل

عومر کریم بلوچ
پاکستان میں ہر دن یا ہر مہینے میں عورت کو عزت کے نام قتل کیا جاتا ہے چائے وہ 15 جولائی میں کئی گئی قندیل بلوچ کی گئی قتل ہو یا سامعہ شاہد کی قتل ہو ۔
ﺳﺎﻣﻌﮧ ﺷﺎﮨﺪ 28 ﺳﺎﻟﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ گزشتہ برس 20 جولائی ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺿﻠﻊ ﺟﮩﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﺎﻇﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻌﮧ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
1. برطانوی نژاد سامعہ شاہد کو اس لئے قتل کیا گیا کہ انہوں نے اپنی خاندان سے باہر شادی کئی تھی ۔
2. اب بات یہ ہہکہ آج اکیسویں صدی میں یہ جہالت پن زندہ ہے اور آج بھی اس کے بھیڑ ھزاروں سامعہ شاہد چڑھ رہے ہیں

ﺻﺎﺋﻤﮧ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﯿﺪ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﻘﺘﻮﻟﮧ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺎﺋﻤﮧ ﮐﯽ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮐﮭﯿﻠﺘﯽ 28 ﺳﺎﻟﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻮﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﻣﺪﻋﯽ ﺳﯿﺪ ﻣﺨﺘﺎﺭ
افسوسناک بات یہ ہیکہ یہ قتل ہورہے ہیں مگر اس سے زیادہ افسوسناک شے یہ ہیکہ آج ہم بھی ان قتلوں کے بعد خاموش رہتے ہیں بس وقتی طور پر میری طرح آواز اٹھاتے ہیں یا پنوں کو استعمال کرتے ہیں اور چند دنوں بعد خاموشی اختیار کرتے ہیں چائے وہ میڈیا ہو یا ہم ۔
اب آخر میں میں بس یعی کہوں گا کہ اگر آج بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہر دن ہر گھر میں ایک جنازہ عزت کے نام پہ نکلے گا اور پھر ہمارے پاس رونے کیلئے آنسوؤں نہیں ہونگیں اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو ورنہ ہم کو ہماری جہالت مبارک ۔۔۔

Must Visited

فیس بک کا ٹکر فیچر ختم کردیا گیا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے ایک اہم فیچر ٹکر کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ فیچر ہے جو کہ نیوز فیڈ کے دائیں جانب نظر آتا تھا ا...