معتدل اسلام اور انتہا پسندی باہر سے آئے



اطہر کاظمی
 بی بی سی اردو ، لندن

 انڈونیشیا
تصویر کے کاپی رائٹ
حالیہ دہائیوں میں انڈونیشیا میں اسلامی انتہا پسندی نے سر اٹھایا ہے
آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں اسلام کی طویل تاریخ ہے۔ اگرچہ تاریخ میں اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ عرب تاجر آٹھویں صدی میں خطے میں آنا شروع ہوگئے تھے لیکن اس خطے میں بڑے پیمانے پر اسلام نے چودہویں صدی میں قدم جمائے۔
یہ بات بھی بحث کا حصہ رہتی ہے کہ سب سے پہلے اس خطے میں اسلام کون لے کر آیا لیکن اکثریت اس بات سے متفق ہے کہ انڈونیشیا میں اسلام پھیلانے کا سہرا عرب تاجروں کے سر ہے۔
حال ہی میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا مقصد اس خطے میں مذہب اور معاشرتی ترقی کے تناظر میں عربوں کے کردار پر روشنی ڈالنا تھا۔ کانفرنس میں انڈونیشیا اور اس خطے پر گہری نظر رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین اور محقیقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کانفرنس میں شریک پروفیسر ڈاکٹر فرید اطلس کا انڈونیشیا میں اسلام کی تاریخ اور حالیہ دہائیوں میں سامنے آنے والے چیلنجز کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کر تے ہوئے کہنا تھا کہ اس خطے میں عربوں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ 'اس خطے میں اسلام دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ایک مختلف انداز میں پہنچا ہے۔ یہاں لانے اور اس کے پھیلاؤ میں یمن کے علاقے حضراموت کے لوگوں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ یمن سے تعلق رکھنے والے تاجر، جو صوفی مسلمان تھے، انڈونیشیا میں اسلام لے کر آئے۔ یہ لوگ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں آباد ہوئے اور ان میں سے اکثر کی نسلیں ابھی بھی اس خطے میں آباد ہیں۔'
ڈاکٹر فرید کا مزید کہنا تھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ گجراتی اور مالابریوں کا کردار ابھی اہم رہا ہے لیکن یہ بھی وہ لوگ تھے جو حضراموت سے آ کر بھارت میں آباد ہوئے تھے یا پھر حضراموت کے لوگوں کی وجہ سے ہی انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔'

ڈاکٹر فرید اطلس
ڈاکٹر فرید اطلس نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور سے وابستہ ہیں
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید نے بتایا اس خطے میں اسلام اور مسلمان معاشرتی اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں سے مختلف رہے ہیں۔' آپ کو یہاں اسلام 'نوسنتارا' کی اصطلاح سننے میں ملے گی، نوسنتارا اس خطے کو کہا جاتا ہے اور اسلام نوسنتارا سے مراد اس خطے میں اسلام کا خاص مزاج ہے، جس سے مقامی معاشرت جھلکتی ہے۔'
ڈاکٹر فرید کے بقول 'اسلام نوسنتارا دراصل وہابی اور سلفی اسلام کے برعکس مقامی رسم ورواج کو مسترد نہیں کرتا۔ انڈونیشیا میں اسلام پھلینے کی ایک بڑی وجہ یہاں آنے والے صوفی مسلمانوں کا معتدل رویہ تھا۔'
حالیہ دہائیوں میں انڈونیشیا میں اسلامی انتہا پسندی نے سر اٹھایا ہے جس کے باعث ملک میں دہشت گردی کے متعدد واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ دورِ حاضر میں انڈونیشیا میں اسلام کو کن چیلنجز کا سامنا ہے، اس حوالے سے میں نے محقق اور اسلامی سکالر ڈاکٹر احمد نجیب برھانی سے بات کی جو انڈونیشیا کے سب سے معتبر ریسرچ سینٹر 'لیپی' سے وابستہ ہیں۔ لیپی ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس کا مقصد مقامی مذاہب، سماج اور ثقافت پر تحقیق کرنا ہے۔
نجیب برھانی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا 'اگر ہم دیکھیں تو بظاہر انڈونیشیا میں ہمیں اسلام کے حوالے سے جو مسائل نظر آتے ہیں ان میں سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال، مختلف عقائد رکھنے والوں کے بارے میں عدم برداشت اور اقلیتی مسلکی گروہں سے نفرت سب سے واضح ہیں۔'
'لیکن اصل مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسے گہرائی میں دیکھنا ہوگا، اگرچہ مسلمان انڈونیشیا میں اکثریت میں ہیں لیکن معاشی اعتبار سے وہ سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔ دیگر مذاہب کے افراد سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس صرف ایک ہتھیار ہے اور وہ ہے مذہب، اسی لیے وہ اسلام کی من مانی تشریح کرکے اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لہذا آپ کو اسلامی انتہاپسندی کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔'
احمد نجیب برھانی کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں انتہاپسندی کو روکنے کے لیے گزشتہ چند دہائیوں سے اسلام نوسنتارا کے نظریے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد اسلام کو مقامی رسم و رواج کے مطابق ڈھالنا ہے۔
جکارتہ کانفرنس
اس کانفرنس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کے علاوہ بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی
'اسلام نوسنتارا بنیادی طور پر انڈونیشیا میں اسلام کی مخصوص شکل ہے، جس کا مقصد خطے کے مسلمانوں میں مقامی شناخت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ یہاں بسنے والے مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں سے اختلاف کے باوجود رواداری، برداشت کا مظاہرہ کریں۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام نوسنتارا ایک ایسا نظریہ ہے جو دہشت گردی اور انتہاپسندی کا شکار دیگر ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔'
کانفرنس میں شریک انڈونیشیا کی این یو یونیورسٹی سے وابستہ سکالر اور محقق وردہ آغادیری کا اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ' دراصل اسلام نوسنتارا کو میں سرکاری اسلام کہوں گی، یہ ریاست کی جانب سے لوگوں کے مذہبی عقائد کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ ہے۔ انڈونیشیا میں حکومت معاشرے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے مذہب کو استعمال کر رہی ہے۔'
ملک میں انتہا پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے، جس طرح مختلف نظریات، زبانیں اور کلچر ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اسی طرح مختلف مذہبی نظریات کو بھی روکا نہیں جا سکتا۔
وردہ آغادیری جو خود عرب نژاد انڈونیشیائی شہری ہیں کا کہنا تھا کہ 'میں سمجھتی ہوں کہ مذہب اور اس سے منسلک مسائل کے پھیلنے میں عالمگریت کا یقیناً عمل دخل ہے، لیکن میرا یہاں ہونا اور کئی صدیوں پہلے اسلام کا یہاں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمگریت کا عمل بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'انڈونیشیا میں اسلام آیا بھی باہر سے تھا اور اس سے منسلک دورِ حاضر کے مسائل جیسے انتہا پسندی وغیرہ بھی باہر سے ہی آ رہے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو