ایران میں سکارف اتارنے والی خاتون کو رہا کر دیا گیا

ایران
تصویر کے کاپی رائٹUNKNOWN
انسانی حقوق کی ایک وکیل کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی خاتون جسے اپنا سکارف اتارنے اور اسے چھڑی پر رکھنے کے جرم میں حراست میں لے لیا گیا تھا ،ان کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ایرانی خاتون جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کی تصاویر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد گذشتہ برس دسمبر میں ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
انسانی حقوق کی وکیل نصرین ستودهکا کہنا ہے کہ انھوں نے سرکاری دستاویزات میں دیکھا ہے کہ مذکورہ خاتون کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے اس مسئلے پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ایران کی سابقہ سیاسی قیدی نصرین ستودهنے اتوار کو اپنے فیس بک صفحے پر (فارسی زبان میں) ایک پوسٹ میں لکھا ’خیابانِ انقلاب کی لڑکی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
نصرین ستودہ اس خیابانِ انقلاب کا حوالہ دے رہی تھیں جہاں مذکورہ خاتون نے اپنے سر سے سکارف اتارا تھا جو ایران میں قابلِ سزا جرم ہے۔
خاتون وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وہ مذکورہ خاتون کے کیس کی پیروی کرنے کے لیے گذشتہ روز پراسیکیوٹر کے دفتر گئیں تو انھیں معلوم ہوا کہ انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔
نصرین ستودهنے لکھا ’مجھے امید ہے کہ حکام اسے نقصان پہچانے کے لیے کوئی مقدمہ نہیں گھڑیں گے۔ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس پر مقدمہ چلانے کی ضرورت ہو۔
اس خاتون کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کی عمر 31 سال ہے اور وہ ایک چھوٹے بچے کی والدہ ہیں۔
ایران میں گذشتہ سال اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہروں کے دوران 20 افراد کی ہلاکت کے بعد مذکورہ خاتون ایران کی سوشل میڈیا مہم کا موضوع رہی تھیں۔



بشکربی بی سی اردو