کیا آپ محبت بھرے گرین زون خاندان میں رہتے ہیں؟

 
گرین زون فلسفے کے مطابق انسانوں اور رشتوں کی طرح سسٹم بھی گرین ’ییلو اور ریڈ زون میں رہتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ تین سسٹمز میں رہتے ہیں :
پہلا سسٹم خاندان کا ہے
دوسرا سسٹم کام کا ہے
تیسرا سسٹم سماج کا ہے۔
ہم اپنے مریضوں سے کہتے ہیں کہ وہ اس حقیقت پر غور کریں کہ ان کے سسٹم کس زون میں رہتے کیونکہ نظام انسان سے نفسیاتی طور پر زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگر سسٹم ریڈ زون میں ہو تو کسی انسان کا گرین زون میں رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ہر انسان کے لیے خاندانی نظام ایک اہم نظام ہوتا ہے۔ ہم اپنے کلینک میں ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو ییلو یا ریڈ زون میں رہتے ہیں تا کہ وہ اپنے سسٹم کو پرسکون گرین زون میں لا سکیں۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ بہت سے میاں بیوی اپنے بچوں کی نگہداشت کے بارے میں اتفاق رائے نہیں رکھتے کیونکہ وہ مختلف خاندانوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں جب کے نظریات اور خیالات مختلف ہوتے ہیں۔
اگر کسی خاندان میں کوئی بچہ حکم عدولی کرتا ہے تو اکثر اوقات بچے کا باپ اس کی سرزنش کرتا ہے۔ اس وقت اکثر اوقات ماں بچے کے ساتھ مل جاتی ہے اور باپ کو برا بھلا کہنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف بچے کی باپ میں عزت میں کمی آتی ہے بلکہ ماں باپ میں بھی ناچاقی بڑھ جاتی ہے۔ میں جب ایسے جوڑوں کی مدد کر رہا ہوتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ کسی ماں کا بچے کے سامنے اپنے شوہر کی بے عزتی کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ اس سے بچے کی نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے۔ میں ماں سے کہتا ہوں کہ وہ کمرے سے باہر چلی جائیں اور شام کے وقت اپنے شوہر سے تنہائی میں بات کریں اور انہیں اپنا موقف سمجھائیں۔ بچے کی پرورش کے لیے ماں باپ کا مکالمہ بہت ضروری ہے۔ جب ماں باپ ایسا ہوم ورک کرتے ہیں تو اس با بچوں کی صحت پر مثبت اثر ہوتا ہے۔
میں والدین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ہفتے کی ایک شام اپنے خاندان کے لیے وقف کر دیں اور ہفتہ وار گرین زون میٹنگ کریں تاکہ پچھلے ہفتے کے بارے کوئی اہم بات رہ نہ جائے اور اگلے ہفتے کے لیے پلیننگ کریں تا کہ ریڈ زون میں جانے کے امکانات کم ہوں اور گرین زون میں رہنے کے امکانات بڑھ جائیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ مل جل کر فیصلہ کریں کہ انہوں نے اپنے خطوط پہ خاندانی زندگی گزارنی ہے۔ پہلے ماں باپ اپنے خاندان کے اصول لکھتے ہیں پھر ان پر عمل کرتے ہیں اور اگر کوئی بچہ کسی اصول پہر عمل نہ کرے تو اس کو تنبیہہ بھی کرنا ہے تا کہ آئندہ وہ ایسا نہ کرے۔
والدین کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کا جن اصولوں سے تعارف کروانا چاہتے ہیں اس پر خود بھی عمل کریں۔ اعمال کا بچوں پر باتوں سے کئی گنا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ جو ماں باپ اپنے اصولوں پر خود عمل نہیں کرتے وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ عارف عبدالمتین کا شعر ہے
؎ عمر گزری ہے تری اوروں کو دیتے ہوئے درس
کیا کبھی خود کو بھی سمجھانا ہے تو نے عارف
میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ ایک دفعہ جب میری چھوٹی بہن عنبر نے شام کے کھانے کے دوران میرے والد سے شکایت کی تھی کہ سہیل بھائی نے مجھے جب دھکا دیا تھا تو میں گر گئی تھی اور مجھے چوٹ آئی تھی تو میرے والد نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگوں۔ میں نے جب معافی مانگی تو اباجان نے عنبر سے پوچھا تھا ”کیا آپ نے سہیل بھائی کو معاف کر دیا ہے؟“
عنبر نے کہا ’جی معاف کر دیا ہے‘ اس عمل سے میں نے نہ صرف عنبر کا بلکہ لڑکیوں اور عورتوں کا احترام کرنا بھی سیکھا۔
یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح خطوط پر تربیت کریں کیونکہ تمام بچوں نے کل کا شہری بننا ہے۔ جو بچے والدین کا احترام نہیں کرتے وہ بڑے ہو کر اساتذہ اور پرنسپل کا احترام بھی نہیں کرتے اور ایک دن قوانین کا احترام بھی نہیں کرتے۔ جب خاندان اور سکول بچوں کی صحیح تربیت کرتے ہیں تو وہ بچے جوان ہو کر گرین زون شہری بنتے ہیں اور ایک پرامن معاشرہ قائم کرتے ہیں۔