ڈیٹا پرائیویسی کی حدود اور خطرات


شیخوپورہ کے میٹرنٹی ہسپتال میں زچگی کے لمحات کو فلمانا اور پھر متعلقہ خواتین اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرنے جیسا عمل تمام ذی شعور ہم وطنوں کے لئے دکھ اور افسوس کا باعث بنا۔ زندگی اور موت سے لڑتے انسان کو بھی معافی نہیں ملی تو بچے گا کون۔ یہ اندوہناک احساسات جگانے والا سادہ سا عمل تھا۔ ٹیکنالوجی میں جس رفتار سے جدت آرہی ہے اسی رفتار سے انسان کی پوشیدگی کو لاحق خطرات گہرے ہو رہے ہیں۔

چند ہفتے پہلے فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جو کہ خود سافٹ انجینئرنگ کی طالبعلم رہی ہے ایک بھیانک ڈیجیٹل سکینڈل کا شکار ہوئی۔ ہمارے ملک میں ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین موجود ہیں۔ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے ان قوانین کا ترجیحی اطلاق ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی بہت احتیاط برتنی ہو گی۔

اس ضمن میں مشاہدے کی بنیاد پے چند گزارشات ذیل ہیں۔

جب بھی آپ کوئی ویڈیو یا تصویر بناتے ہیں تو یاد رکھیں یہ ڈیلیٹ نہیں ہوتی۔ کہنے کو ہم اسے ڈیلیٹ کر دیتے ہیں لیکن یہ وہیں موجود رہتی ہے۔ اگرچہ ہمارا سسٹم اسے دکھانے سے قاصر رہتا ہے لیکن اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ یہ حقیقت پچاس کی دھائی میں سائینسدانوں کو معلوم تھی لیکن چونکہ اس وقت ڈیٹا کا ہماری انفرادی زندگیوں میں اتنا کردار نہیں تھا اور کچھ کارپوریٹ مفادات کی وجہ سے یہ بات مخفی رہی۔

کمپیوٹر اور بعد میں سمارٹ فون کی ایجاد نے معاملات کو یکسر بدل دیا۔ مغربی ممالک سے استعمال شدہ کمپیوٹر افریقہ سمیت دوسرے کئی اور غریب ممالک میں گئے تو ڈیٹا ریکوری ماہرین نے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وہ پرانے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے ڈیلیٹڈ ڈیٹا ریکور کرتے اور اسے استعمال کرنے لگے۔ ان واقعات نے ڈیٹا سینیٹائزیشن (Data Sanitization) کی سائنس متعارف ہوئی، جو فی الحال ہمارے ہاں عام نہیں ہے۔

لہذا اپنے فون یا کمپیوٹر پے کوئی بھی ڈیٹا سٹور یا تخلیق کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ یہ ڈیلیٹ نہیں ہوگا۔ اپنا فون کسی کو مت بیچیں۔ بلکہ استعمال کے بعد ضائع کردیں۔ بہت دفعہ ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے فون میں کیا کچھ ایسا ہے جس کی تشہیر ہمیں نقصان دے سکتی ہے۔ فون کی خرابی کی صورت میں بہتر یہی ہے کہ فون کسی مکینک کے حوالے نہ کیا جائے۔ اگر آپ کی موجودگی میں کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے اور آپ کو فون سے متعلق کچھ ضروری تکنیکی معلومات ہیں تو پھر بھی احتیاط لازم ہے۔ یہی معاملہ کمپیوٹر کا ہے۔

اکثر سرکاری دفاتر میں داخلے کے وقت فون لے لیا جاتا ہے۔ کسی بھی ایسے دفتر جاتے ہوئے اپنا فون گاڑی یا گھر پے رکھ کر جائیں۔ بہت ضروری ہو تو سمارٹ فون قطعی طور پے ساتھ مت لے کر چلیں۔ بہت ساری باتیں یہاں واشگاف الفاظ میں کہنا ممکن نہیں، اتنا کافی ہے کہ آپ کا فون آپ کے بارے میں وہ کچھ بتا سکتا ہے شاید ووہ کچھ آپ باوجود کوشش کے بھی فاش نہ کر سکیں۔ یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ کی زندگی کے معاملات اتنے سادہ ہوں کہ ان کے آشکار ہونے سے کوئی پشیمانی نہ ہو۔ لیکن یہ کافی ناممکن امر ہے۔

اب آتے ہیں انٹرنیٹ کی طرف۔ یہ سمندر ہے۔ اس میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جو سینکڑوں کوسوں دور سے آپ کے ڈیوائس کو آپ سے بھی ل لاکھوں گنا بہتر انداز میں دیکھ سکتی ہیں اور بسا اوقات آپ کو بھی دیکھ سکتی ہیں، سن سکتی ہیں، ریکارڈ کر سکتی ہیں۔ پرانے زمانے میں کھوجی زمین پے آپ کے پاؤں کے نشان سے میلوں دور تک بھی آپ کا پیچھا کر سکتا تھا۔ ڈیجیٹل فٹ پرنٹ (Digital Footprint) اس سے کروڑوں گنا طاقتور بلا ہے۔

جدید سائنس انسان کو ایک ایلگورتھم (Algorithm) سمجھتی ہے۔ اور اب اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے بھی مصنوعی ایلگورتھم بنا رہی ہے۔ تمام بڑی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز ان ہتھیاروں کو بہتر بنانے کے لئے اربوں ڈالر کے اخراجات کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ ض ضروری چیز ہے۔ اس سے ہم روز مرہ زندگی میں بہت فائدے اٹھاتے ہیں لیکن احتیاط لازم ہے۔ کچھ بھی لکھنے، شئیر کرنے یا سٹور کرتے وقت یاد رکھیں کہ یہ مکمل محفوظ نہیں۔ شرارت سے بھی گریز کریں۔ انٹرنیٹ سے ضروری کام لیں اور یاد رکھیں آپ کا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ قیامت تک رہے گا۔

اب سیلولر کمیونیکیشن کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونکیکیشن ایکٹ کی دفعہ 54 سمیت متعدد دیگر قوانین میں حکومت پاکستان کو سرویلینس کا استشنا حاصل ہے۔ نہ صرف آپ کی کالز اور ٹیکسٹ میسیجز غیر محفوظ ہیں بلکہ دوسری ایپلیکیشنز کے ذریعے ہونے والی ابلاغ بھی سرکاری دسترس سے مبرا نہیں۔ نیٹ ورک آپریٹر زبھی ایک خاص حد تک آپ کے ریکارڈ تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہ ہائبرڈ وار کا زمانہ ہے۔ راقم اس کو ایک لطیفہ سمجھتا رہا ہے۔ لیکن ذاتی مشاہدے اور معلومات کی بنیاد پر آپ کی گوش گزار کرتا چلوں یہ کافی گھمبیر معاملہ ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کی تیاری بھی برابر ہے۔ واقعی جس قسم کے خطرات ہیں ان سے بچنے کے لئے اعلی درجے کی انٹرنیٹ انٹیلیجنس درکار ہے۔

ڈبلیو ایم ایس اور انٹرنیٹ فلٹرنگ بہت معمولی چیزیں ہیں۔ اس وقت پاکستان میں جدید ترین سافٹ وئیر اور ڈیٹا انیلیٹکس سے لیس الیکٹل، ارکسن، ہواوے، ڈبل ایس ایٹ، اوٹیماکو سمیت دنیا کی صف اول کی کمپنیوں کا ایکویپمنٹ موجود ہے جو تمام قسم کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باوجود سرویلینس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ ہمارے ملک کے پاس یہ صلاحیت ہے لیکن باعث تشویش بھی ہے کہ بہت سے لوگ جانے انجانے میں ایلیوزن آف پرسیوڈ آئی سولیشن (lIussion Of Percieved Isolation) میں انٹرنیٹ یا فون پے وہ کچھ بھی لکھ جاتے ہیں جو شاید وہ عام زندگی میں کرنے یا لکھنے سے باز رہیں۔

ٹوئٹر، فیس بک، وٹس ایپ اور جی میل سمیت سب کچھ استعمال کریں لیکن یاد رکھیں یہ آزادی قانون اور اخلاق کے دائرے سے باہر جانے پے غیر ضروری پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ اپنی پرائیویسی کا آپ خود خیال رکھیں۔ معاملات کو سادہ رکھنے کی کوشش کریں اور ٹیکنالوجی پے اندھا اعتماد مت کریں کیونکہ بات کی بورڈ یا ٹچ پیڈ سے نکلی بات شہر سے نکلی۔