وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: پاکستان خدانخواستہ پائیدار جمہوریہ بن گیا تو؟

 

گذشتہ چند برس سے جب بھی سیاست میں فوجی قیادت کی جلی یا خفی مداخلت کی بحث سر اٹھاتی ہے تو ایک جملہ ضرور سنائی دیتا ہے۔

’خدانخواستہ فوج کمزور ہوئی تو پاکستان بھی شام، لیبیا، عراق، صومالیہ بن سکتا ہے۔ یہ فوج ہی ہے جس نے اس ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔‘

گرامر کے اعتبار سے یہ جملہ بالکل درست ہے مگر کیا حقائق کے اعتبار سے بھی مستند ہے؟

کسی بھی ناپسندیدہ بحث کو گدلا کرنے کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ دلائل کی کمی دھول اڑا کر پوری کی جائے۔ مثلاً اسی ملک میں چند برس پہلے تک منطقی استدلال کے ساتھ مذہبی بحث ہو سکتی تھی۔ آج جیسے ہی آپ نے کوئی بات شروع کی، فوراً کسی نہ کسی کے جذبات مجروح ہو جائیں گے اور وہ توہین کا نعرہ لگا دے گا۔

صنفی مسائل و صنفی آزادیوں پر کچھ عرصے پہلے تک مکالمہ ممکن تھا۔ اب نہیں۔ کوئی نہ کوئی زن و مرد ڈنڈا پکڑ لے گا کہ یہ بات آپ نے منہ سے نکالی کیسے؟

آپ آج اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کریں، فوراً شور مچ جائے گا کہ یہ بندہ ’اینٹی سیمائٹ‘ یعنی یہود دشمن ہے۔ آپ حکومت کے خلاف بات کریں، کہیں سے کوئی چیخ پڑے گا کہ یہ شخص ملک دشمن اور بیرونی ایجنٹ ہے۔ کچھ یہی معاملہ فوج کے ادارے کے ’غیر فوجی کردار‘ کی بحث کو بھی درپیش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’فوج آئین کے مطابق حکومت کی حمایت جاری رکھے گی‘

نواز شریف کے علاوہ دیگر رہنماؤں کے نام ایف آئی آر سے حذف

‏آئی ایس آئی کو پتہ ہے میں کیسی زندگی گزار رہا ہوں: وزیر اعظم عمران خان

عمران خان: ’میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اسے فارغ کر دیتا‘

سب جانتے ہیں کہ جب بھی سیاست اور دیگر ریاستی اداروں کے معاملات میں فوج کی مبینہ دخل اندازی کی بات ہوتی ہے تو اس سے مراد کسی صوبیدار، کیپٹن یا میجر کے ریکارڈز کا تذکرہ نہیں ہوتا بلکہ بالائی قیادت کے چند عہدیداروں کے ممکنہ یا حقیقی ایڈونچر ازم کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔

آپ ایوب خان سے پرویز مشرف تک کے ساتھ کام کرنے والے کسی بھی ریٹائرڈ فوجی جرنیل سے کبھی گفتگو کریں، ان کے مضامین پڑھیں یا سوانح حیات میں جھانکیں، سب ایک ہی بات کرتے آ رہے ہیں۔ جو کچھ بھی ہوا، اوپر کے چند لوگوں نے اپنے طور پر کیا۔ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہمیں تو اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔ مگر ہم نے جو کیا وہ حکم کی تعمیل تھی۔ ذاتی طور پر ہم کبھی بھی سول معاملات میں فوج کی دخل اندازی کے حق میں نہ تھے نہ ہیں۔

مگر یہ باتیں تب کہی جاتی ہیں جب حال ماضی بن چکا ہو۔ اگر حال کی تنقید حال میں کی جائے تو اسے غداری سمجھا جاتا ہے۔

رہی بات شام، عراق، لیبیا، صومالیہ کی مثالوں کی، تو ان میں سے کوئی بھی ملک اس لیے نشانِ عبرت نہیں بنا کہ وہاں کی فوج کمزور تھی یا اسے جان بوجھ کر کمزور کر دیا گیا تھا۔

تاریخی طور پر چاروں ممالک فسطائی و شخصی آمریت کے مسلسل شکنجے میں رہے ،حتی کہ کوئی روشندان تک نہیں تھا کہ جس سے روشنی کی کچھ بھولی بھٹکی کرنیں ہی اندر آ سکیں۔

ان تمام ممالک میں فوج، حکومت و ریاست محض ایک آمر در آمر کا نام تھا، چنانچہ جیسے ہی عوامی جذبات کے پتیلے کا ڈھکن اڑا تو حکومت سمیت ریاست ہی تحلیل ہوگئی۔ اس خلا کو جنگجو سرداروں اور بیرونی طاقتوں نے پر کیا۔

پاکستان کی تاریخ، اس کا نوآبادیاتی پس منظر، یہاں کے باشندوں کا مزاج اور سیاسی قیادت کا خمیر مذکورہ چاروں ریاستوں سے بالکل مختلف ہے۔ ان چاروں بے چاروں نے تو کبھی جمہوریت کی جیم بھی نہیں دیکھی۔

ہمارے منہ کو پچھلے سو برس کے دوران محدود آزادیوں کا ذائقہ بہرحال لگ چکا ہے، ہم جانتے ہیں کہ جمہوری دوا اور آمرانہ جُلاب میں کیا فرق ہے۔ ادارے کیسے بنتے اور بگڑتے ہیں۔ آئین کیسے لکھا اور مٹایا ہے۔ بکاؤ، نیم بکاؤ اور غیر بکاؤ اشرافیہ کس چڑیا کا نام ہے، آزاد اور غلام صحافت میں کیسے تمیز ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان کی آزادی کسی مسلح جدوجہد کے نتیجے میں نہیں ملی بلکہ سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ اب تک جو تین آئین نافذ ہوئے ان میں سے دو آئین منتخب سویلین قانون سازوں نے بنائے۔ پاکستان کا جتنی بھی بڑی جنگوں سے پچھلے 74 برسوں میں سامنا ہوا ان میں سے صرف پہلی جنگِ کشمیر ہی سویلین دور میں ہوئی۔

وسعت اللہ خان کے مزید کالم

تو کیا نواز شریف لینن ہیں؟

وسعت اللہ خان کا کالم: ڈاکٹر ہیرو نہیں زیرو ہیں!

وسعت اللہ خان کا کالم: کیا ہم پنجرے میں بند مرغیاں ہیں؟

جب کوئی کہتا ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی بحث دراصل فوج کو کمزور کرنے اور پھر پاکستان کو شام، عراق، لیبیا یا صومالیہ میں بدلنے کی سازش ہے، تو اس قوم اور فوج کے لیے اس سے زیادہ توہین آمیز جملہ شاید ہی ممکن ہو۔ آپ آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟

کیا پاکستان کوئی زنجیر میں بندھا وفاق ہے جس میں کوئی قوم یا صوبہ اپنی مرضی سے نہیں رہنا چاہتا اور اس زنجیر کا سرا فوج کے ہاتھ میں ہے؟ اگر یہ زنجیر کھل گئی تو ملک ٹوٹ جائے گا؟ کیا پہلے ایک بار جو ملک ٹوٹا اس کا سبب یہی تھا؟

ملک اس لیے کمزور نہیں ہوتے کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے ہیں، بلکہ اپنے دائرے سے تجاوز کرنا ہی ملک کو رفتہ رفتہ کمزور کرتا ہے۔ اس اصول کا کسی ایک ادارے کے کمزور یا طاقتور ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

موجودہ بے یقینی کے سبب ہماری نفسیات رفتہ رفتہ یہ بنتی جا رہی ہے کہ ہر رسی سانپ ہے۔ نجات دہندگان کے منتظر یہ تصور تو کر سکتے ہیں کہ پاکستان کل کلاں کو شام، عراق اور لیبیا نہ بن جائے مگر یہ سوچنے سے عاری ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں رہنے کی عادت پڑنے کے نتیجے میں اگر پاکستان خدانخواستہ ایک دن پائیدار جمہوریہ بن گیا تو ڈر اور خوف کے ان تاجروں کا کیا ہوگا؟