ارتقائی عمل: انسانوں میں دم کی ہڈی ہونے کے باوجود دم کیوں نہیں؟

 

کیا کبھی آپ نے اپنی پشت کو دیکھ کر یہ سوچا ہے کہ ہماری دم کہاں ہے؟

ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ لطیفہ یا کوئی ایسا سوال لگے جو کوئی بچہ معصومیت سے پوچھتا ہے۔ مگر سائنسدانوں کے لیے یہ سنجیدہ بات ہے۔

کیونکہ اگر بائیولوجی کے اعتبار سے انسان اور بندر ایک دوسرے سے اتنے مماثل ہیں تو کیوں بندروں کی دمیں ہوتی ہیں پر ہماری نہیں؟

نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین سکول آف میڈیسن میں سٹیم سیل بائیولوجی کے طلب علم بو شیا کے مطابق 'دیکھا جائے تو یہ بہتر حکمتِ عملی ہے۔'

جانوروں کی دنیا میں دم کے متعدد فوائد ہو سکتے ہیں۔

تقریباً 50 کروڑ سال قبل دمیں جانداروں میں پہلی مرتبہ ظاہر ہوئی تھیں اور تب سے ان کے متعدد کردار رہے ہیں۔ مچھلیوں کو یہ تیرنے میں مدد دیتی ہیں، پرندوں کو اڑان میں اور ممالیہ جانوروں کو توازن برقرار رکھنے میں۔

اس کے علاوہ یہ بچھوؤں کی طرح ایک ہتھیار یا پھر ریٹل سنیک سانپوں کی طرح خبردار کرنے والی چیز بھی ہو سکتی ہیں۔ پرائمیٹس یعنی بندروں، لنگوروں اور اسی قسم کے جانوروں میں دم ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ میں ہاؤلر بندروں کی دمیں لمبی ہوتی ہیں اور یہ بندر اپنی دم سے چیزیں پکڑ بھی سکتے ہیں۔

مگر انسان، چمپینزی اور گوریلا وغیرہ پر مشتمل پرائمیٹس کے خاندان ہومینیڈز میں دمیں ناپید ہیں۔

کیوں اور کیسے کے سوالات نے سائنسدانوں کو کئی دہائیوں سے الجھا رکھا ہے۔

بظاہر اس کا جواب حال ہی میں دریافت ہوئے ایک جینیاتی تبدیلی میں چھپا ہے جس سے ڈھائی کروڑ سال قبل ہومینیڈز کی دم بنانے والے جینز متاثر ہوئے۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ تبدیلی برقرار رہی اور نسل در نسل چلتا رہا جس سے ہومینیڈز کی نقل و حرکت پر بھی فرق پڑا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ انسان دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔

شیا کہتے ہیں کہ 'یہ سب بظاہر ایک دوسرے سے منسلک ہے اور ایک ہی ارتقائی وقت میں ہوا ہے لیکن ہم ترقی اور ارتقا کے اس مرحلے میں جینیات کے کردار کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔'

'جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ ارتقا کے اہم ترین نقطوں میں سے ایک ہے جو ہمیں انسان بناتا ہے۔'

دم

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

کچھ جانوروں مثلاً بلیوں کو دم کے ذریعے توازن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے

اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے شیا نے یہی جینیاتی تبدیلی چوہوں میں متعارف کروائی۔

اُنھوں نے دیکھا کہ چوہوں میں مختلف طرح کی دمیں پیدا ہونی شروع ہو گئیں۔ کچھ کی دمیں چھوٹی تھیں تو کچھ میں دمیں تھی ہی نہیں۔

دم اور ٹانگوں کا معمہ

چارلس ڈارون نے یہ پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ جدید انسان یعنی ہومو سیپیئنز سیپیئنز دم کے حامل بندروں سے منسلک ہیں۔

اُنھوں نے 1871 میں دی اوریجن آف مین نامی کتاب لکھی تھی جس میں اُنھوں نے سمجھایا تھا کہ نظریہ ارتقا کا اطلاق نوعِ انسانی پر بھی پوری طرح ہوتا ہے۔

یہ اس دور کے حساب سے بہت بڑا انکشاف تھا کیونکہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان ہمیشہ سے فاصلہ نظر آتا رہا ہے۔ ہم گھروں میں رہتے ہیں، ہماری جلد مختلف ہوتی ہے اور ہم پیچیدہ مسائل کو سلجھانے کے لیے اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہیں۔

ڈارون نے اس وقت تک دی اوریجن آف سپیشیز نامی کتاب لکھ کر پہلے ہی سائنس کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔

اس وقت تک زیادہ تر مغربی سائنسدان بھی اس تصور کے حامل تھے کہ خدا نے ہی کرہ ارض پر موجود تمام جاندار بنائے ہیں چنانچہ ڈارون کی جانب سے نوعِ انسانی کے متعلق یہ دعویٰ نہایت چونکا دینے والا تھا۔

مگر انسانوں اور چمپینزیوں کا جدِ اعلیٰ مشترکہ ہے اور ان دونوں کے ڈی این اے 98 فیصد مماثلت رکھتے ہیں۔

کوئی دو کروڑ سال قبل ابھرنے والے ہومینیڈز میں دمیں غائب تھیں۔

تو اگر دموں کا تعلق بندروں اور انسانوں کی ارتقا سے ہے اور اس سے نقل و حرکت اور جسم کے انداز پر بھی فرق پڑا تو سوال یہ ہے کہ پہلے دمیں آئیں یا ٹانگیں؟

شیا کہتے ہیں: 'یہ انڈے اور مرغی کے سوال جیسا ہے اور جیسا کہ آپ سوچ ہی رہے ہوں گے، اس کا جواب آسان نہیں ہے۔'

دم

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

نظریہ ارتقا کے مطابق انسانوں اور بندروں کا جدِ اعلیٰ ایک ہی ہے

مختصر جواب یہ ہے کہ یہ جاننا تقریباً ناممکن ہے کہ ہمارے اجداد کو دو ٹانگوں پر کھڑا ہونے پر مجبور کرنے والے عوامل کون سے تھے، اور کیا دم کا نہ ہونا ہی اس کی وجہ بنی؟

یا پھر یہ کہ ہماری دم اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہم سیدھے کھڑے ہوتے ہیں اور ٹانگوں پر اپنا توازن قائم کرنا زیادہ آسان ہے؟

بو شیا کہتے ہیں: 'ہمیں یہ سب جاننے کے لیے ٹائم مشین کی ضرورت ہو گی تاکہ ہم ماضی واپس جا سکیں اور اس وقت کے واقعات کا مشاہدہ کر کے تجزیہ کر سکیں۔ مگر چونکہ ہمارے پاس ٹائم مشین نہیں ہے اس لیے میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم نہیں جانتے، اور بحث ختم ہو جائے گی۔ تو ہو سکتا ہے کہ کسی کو حیرت ہو کہ ہم آخر اس پر بات کر ہی کیوں رہے ہیں۔

'درست جواب یہ ہے کہ ان دونوں مراحل پر ہمیشہ ایک ساتھ بات کی جاتی ہے۔'

چنانچہ ہم انسانی ارتقا پر دم یا دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہونے کا تذکرہ کیے بغیر بات نہیں کر سکتے، پھر بھلے ہی ان میں سے جو بھی پہلے آیا ہو۔

کیا جینیات ہی جواب ہے؟

دو سال قبل اوبر میں سفر کرتے ہوئے شیا کی دمچی کی ہڈی زخمی ہو گئی تھی۔

تب سے یہ سوال اُن کے ذہن میں چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوکسِکس نامی یہ ہڈی ہماری ریڑھ کا آخری حصہ ہوتی ہے۔ ایک دوسرے میں ضم چار مہروں سے مل کر بننے والی یہ ہڈی لاکھوں سال قبل ہماری دم کی موجودگی کا پتا دیتی ہے۔

اگر آپ انسانی ایمبریو کی تصاویر دیکھیں تو آپ کو دم نظر آئے گی جو کچھ ہفتے بعد ہی ایمبریو کے اندر چلی جاتی ہے اور ریڑھ کا حصہ بن جاتی ہے۔

دم

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

چارلس ڈارون نے انکشاف کیا تھا کہ نظریہ ارتقا کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے

کولہوں کو سہارا دینے والی یہ دمچی کی ہڈی اسی مقام پر ہوتی ہے جہاں دوسرے جانوروں کی دمیں ہوتی ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹیشنل میڈیسن کے ڈائریکٹر ایتائی ینائی کہتے ہیں: 'ہم ان تمام مسائل پر اس لیے غور کرتے ہیں کیونکہ ہم انسان سائنس میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہاں جوابات تلاش کرتے ہیں۔ جینیاتی سائنس میں ہم نے گذشتہ 100 سالوں میں زبردست ترقی کی ہے۔'

وہ کہتے ہیں: 'آپ کو واقعی بہت سے تصورات معلوم ہونے چاہییں جن میں کمپیریٹیو جینیٹکس اور الٹرنیٹیو سپلائسنگ شامل ہیں۔ اور بو نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر آپ ان تصورات کو سمجھتے ہیں تو آپ جینوم کے اندر دیکھ سکتے ہیں اور اسے سمجھ سکتے ہیں۔'

شیا نے جس جینیاتی تبدیلی کا پتا لگایا ہے، وہ ٹی بی ایکس ٹی نامی جین کے درمیان میں تین سو جینیاتی حروف پر مشتمل ہے۔ ڈی این اے کا یہ حصہ انسانوں اور بندروں میں عملی طور پر ایک ہی جیسا ہے۔

اس جینیاتی تبدیلی اور دم کے درمیان تعلق کو پرکھنے کے لیے شیا نے چوہوں میں بھی یہی جینیاتی تبدیلی متعارف کروائی تو اُنھوں نے پایا کہ چوہوں میں دمیں معمول کے مطابق نہیں پیدا ہوئیں۔

مگر ہمارے اجداد میں اس کے متعلق جینیاتی تبدیلیوں کا یہ شاید پہلا مطالعہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی دمیں 30 سے زائد جینز پر منحصر ہوتی ہیں اور نیویارک یونیورسٹی کے محققین نے اب تک صرف ایک کا ہی مطالعہ کیا ہے۔

اور جیسا کہ شیا کہتے ہیں، تمام انسانوں کی دمچی کی ہڈیاں ایک جیسی ہوتی ہیں مگر اس تجربے میں چوہوں کی دمیں یا تو مختلف لمبائی کی پیدا ہوئیں یا پھر مکمل طور پر غائب ہی رہیں۔

شیا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ صرف ایک جینیاتی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک پورا سلسلہ تھا جس نے ڈھائی کروڑ سال قبل ہومینیڈز میں مختلف جینز کو متاثر کیا اور ہمارے ارتقا پر بھی اثرانداز ہوئے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ اہم جینیاتی تبدیلی ہو سکتی ہے مگر ہمارا ماننا ہے کہ یہ واحد جینیاتی تبدیلی نہیں ہے۔

دم

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

کچھ بندر اپنی دم کی مدد سے چیزوں کو پکڑنے کا کام بھی لے سکتے ہیں

وہ جینیاتی تبدیلیاں جو باقی رہیں

سائنسدان پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ کروڑوں سال قبل کیسے انسانوں کے جد کی دم غائب ہوئی مگر یہ جینیاتی تبدیلی ہمارے زمانے تک کیسے باقی رہی، اس کی وجوہات اب بھی واضح نہیں ہیں۔

بو شیا اور ایتائی ینائی کے لیے یہ سوال ایسا ہے جس کا جواب کم از کم فی الوقت تو موجود نہیں ہے۔

ینائی کہتے ہیں کہ 'جینیاتی تبدیلیاں ہر وقت ہوتی رہتی ہیں۔'

اور کچھ جینیاتی تبدیلیاں مثبت تو کچھ منفی ہو سکتی ہیں، اور شیا کہتے ہیں کہ اس کا انحصار ماحول پر ہوتا ہے۔

عام طور پر اگر کوئی جینیاتی تبدیلی منفی ہو تو اس سے وہ جسم بیمار پڑ جاتا ہے یا مر جاتا ہے اور اس طرح یہ جینیاتی تبدیلی آگے منتقل نہیں ہو پاتی۔

پر اگر کوئی جینیاتی تبدیلی فائدے کی وجہ بنے تو یہ نسل در نسل آگے منتقل ہو سکتی ہے۔

شیا کا مطلب یہ ہے کہ دم کے ختم ہونے سے ہومینیڈز کو ارتقائی اعتبار سے بے پناہ فائدے حاصل ہوئے ہوں گے، اسی لیے یہ وقت میں اتنا آگے تک آ پائی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اس سے وہ درختوں پر توازن تو برقرار نہ رکھ سکتے ہوں مگر دو ٹانگوں پر بہتر انداز میں نقل و حرکت اور ہاتھوں سے چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہو۔

مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ دم ختم ہونے سے ہمیں صرف فائدے ہی ملے ہیں۔

شیا اور اُن کی ٹیم نے چوہوں پر تجربے سے پایا کہ ریڑھ کی ساخت میں پیدا ہونے والے مسائل ہر 1000 میں سے ایک انسان کو متاثر کرنے والی نیورل ٹیوب کی خامیوں جیسے ہی ہیں۔

اس خامی کی وجہ سے سپائنا بیفیڈا نامی عارضہ پیدا ہوتا ہے جس میں رحمِ مادر کے اندر بچے کی ریڑھ پوری طرح نشو و نما نہیں پاتی جس کے باعث اعصابی نقصان اور یہاں تک کہ مکمل معذوری تک ہو سکتی ہے۔

دم

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

انسانوں میں دم غائب ہونے کا سبب بننے والی جینیاتی تبدیلی نسل در نسل چلتی ہوئی اب تک باقی رہی ہے

شیا کہتے ہیں کہ 'چنانچہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ جینیاتی تبدیلیاں اچھی یا بری ہوتی ہیں۔ یہ بس ہو جاتی ہیں۔'

وہ کہتے ہیں: 'میرا خیال ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ آپ نے صرف جینوم کو دیکھنا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ایک اہم اضافہ ہو گا۔'

ینائی کا ماننا ہے کہ اس مطالعے سے جینوم کے ذریعے ہم ہمارے بائیولوجیکل ماضی میں ہونے والے مزید واقعات کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'مجھے لگتا ہے کہ اس سے ہمیں اپنے کمپیوٹر پروگرامز کو مختلف انداز میں استعمال کرنے کا پیغام ملا ہے۔ ہمیں کئی سالوں سے جینوم کے بارے میں علم ہے مگر بو نے جو اب پایا ہے، وہ کئی برس پہلے مل چکا ہوتا۔ چنانچہ سائنسی برادری کے لیے یہ کام ضرور متاثرکُن ہوگا۔'