محبت، سیکس اور آن لائن بدسلوکی کی ایک داستان

 

برسوں پہلے انڈین فنکارہ اندو ہری کمار جب محبت میں گرفتار ہوئیں تو انھیں بہترین رومینس کا احساس ہوا تھا۔

لیکن چند ہی مہینوں کے اندر ہی ’لِو ان ریلیشن شپ‘ کی پرتیں کھلنی شروع ہو گئیں۔ ان میں اکثر لڑائی ہونے لگی۔ زیادہ تر جھگڑے اس بات پر ہوتے کہ وہ انٹرنیٹ پر کیا پوسٹ کر رہی ہیں۔

اندو ہری کمار نے بی بی سی کو بتایا: ‘مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اسے کون سی چیز مشتعل کر دے۔ جب بھی میں سوشل میڈیا پر کوئی تصویر یا سیلفی شیئر کرتی، وہ اس بات پر پریشان ہوجاتا کہ کون میری تصویر کو پسند کرتا ہے، کون اس پر تبصرہ کر رہا ہے۔’

چونکہ وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی، لہذا اس نے اپنے دوستوں کی فہرست کو کاٹ چھانٹ کر کم کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنے سابق بوائے فرینڈز کو انفرینڈ کر دیا اور مرد دوستوں کی رسائی کو محدود کردیا۔

انھوں نے کہا: ‘یہاں تک کہ جب وہ موجود نہیں بھی ہوتا تھا تو میں کسی چیز کو پوسٹ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی کہ وہ اس پر کس طرح کا ردعمل دکھائے گا۔ جلد ہی میں انٹرنیٹ کے باہر بھی اپنی زندگی پر اسی طرح کی پابندیاں لگانے لگی۔ میں اسے ناراض نہ کرنے کی خاطر بہت محتاط رہنے لگی۔

لیکن اس سے بھی کوئی مدد نہیں ملی۔ اسے ناراض ہونے کے لیے کوئی نہ کوئی بات مل ہی جاتی۔

“ایک دن وہ کسی کے ایسے ہی سے ٹویٹ پر اپ سیٹ ہو گیا۔ کسی نے لکھا تھا کہ ‘میں نتھ پہننے والے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں’۔ بہت سارے فالورز والے ایک دوست نے مجھے ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ‘تب تو آپ کو اندو کو دیکھنا چاہیے۔’

انھوں نے بتایا: ‘میں نے وہ ٹویٹس بھی نہیں دیکھے تھے، لیکن میرے پارٹنرنے مجھے یہ میسیج کیا کہ ‘تمہارے تو اعلیٰ حلقوں میں دلال ہیں۔’ وہ کہتی ہیں کہ یہ واحد گالی نہیں تھی جو انھیں آن لائن دی گئی۔

اب اندو کے کراؤڈ سورسنگ کے ذریعے شروع کیے گئے تازہ ترین انسٹا گرام آرٹ پراجیکٹ ‘لو سیکس اینڈ ٹیک’ میں جہاں ان کے اپنے تجربات کو پیش کیا گیا ہے وہیں دوسری خواتین کے بھی تجربات کو پیش کيا گیا ہے جو آن لائن پر بدسلوکی کا شکار ہوئی ہیں۔ اس پراجیکٹ کی حمایت ‘ٹیک بیک دی ٹیک’ نے کی ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل سپیس کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کی مہم ہے۔

آن لائن بدسلوکی عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر موجود ہے اور اس کا زیادہ تر رخ خواتین کی جانب ہوتا ہے۔ انھیں ان کی سیاست یا رائے کے لیے ٹرول کیا جاتا ہے اور بہت سی خواتین تو یہ شکایت کرتی ہیں کہ انھیں ریپ اور جنسی زیادتی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

سنہ 2017 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آٹھ ممالک کی چار ہزار خواتین پر مبنی رائے شماری کرائی اور اس میں یہ پایا کہ 76 فیصد خواتین نے سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد اس کے استعمال کو محدود کردیا – 32 فیصد نے کہا کہ انھوں نے کچھ معاملات پر اظہار خیال کرنا چھوڑ دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں انٹرنیٹ تک بڑھتی ہوئی رسائی کے نتیجے میں زیادہ تر خواتین کو عوامی زندگی میں حصہ لینے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی رائے شیئر کرنے پر آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی ‘خواتین کو نیچا دکھانے، زیر کرنے، دھمکانے اور بالآخر خواتین کو خاموش کرنے’ کی طاقت رکھتی ہے۔

لیکن نامعلوم اور بے چہرہ ٹرولز ایک چیز ہے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اپنے پیاروں سے ہونے والی بدسلوکی سے کیسے نمٹے؟

اسی چیز پر لوسیکس اینڈ ٹیک دستاویز جمع کر رہی ہے کہ کس طرح قریبی تعلقات میں صنف پر مبنی تشدد کی وجہ سے خواتین کی آن لائن پر موجودگی کم ہوتی جا رہی ہے۔

اندو کہتی ہیں کہ جب انھوں نے پہلی بار اگست میں ایک پوسٹ شائع کی جس میں خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنے ‘قریبی پارٹنرز کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں، نگرانی اور کنٹرول’ کے بارے میں اپنی کہانیاں شیئر کریں تو انھیں یہ امید نہیں تھی کہ اس قدر ریسپانس ملے گا۔

انھوں نے ابتدا میں اپنے پروجیکٹ کا نام لو، سیکس اور وائلنس یعنی محبت مباشرت اور تشدد رکھا تھا ان کا کہنا ہے کہ پھر انھوں نے ‘محسوس کیا کہ انڈیا میں بہت ساری بدسلوکیوں کو تشدد ہی نہیں سمجھا جاتا ہے، بطور خاص جذباتی کو۔’

لہذا انھوں نے وضاحت کے ساتھ اس کی تفصیل پیش کی کہ یہ ‘آپ کو جذباتی، جسمانی یا جنسی طور پر، آپ کی عریاں تصاویر کو لیک کرنے یا ان کو لیک کرنے کی دھمکی دے کر، دوستوں کے ساتھ آپ کی چیٹ کو پبلک کرنے کی دھمکی، کسی سے آن لائن بات کرنے یا ایسی چیز شائع کرنے پر پابندی جو انھیں پسند نہیں یا آپ کے آلات میں میں سپائی ویئر شامل کرنا جیسا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔’

اندو کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دنوں میں انھیں بہت ساری خواتین نے ‘مختلف طور سے کنٹرول کیے جانے، گالی گلوچ، شرمندہ کیے جانے اور جذباتی تشدد’ کا شکار ہونے کی اپنی کہانیاں شیئر کیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنی ساری کہانیاں ملیں گی’۔ انھوں نے مزید کہا کہ بہت سی خواتین نے کہا کہ انھوں نے طویل عرصے سے اپنے صدمے کو دبا رکھا ہے اور اب انھیں اپنی کہانی کو شیئر کر کے سکون مل رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی کہانی دوسروں کے لیے انتباہ ہوں جو خود کو ایسی ہی صورتحال میں پاتے ہیں۔

ایک خاتون نے لکھا کہ وہ ‘اپنے جسم کے بارے میں بہت حساس تھیں’ انھیں اس بات سے صدمہ پہنچا کہ ان کے پارٹنر نے ان کی اجازت کے بغیر ان کی برہنہ تصویر آن لائن پر پوسٹ کر دی۔

‘شیر کرنے کے تین ہفتوں بعد، اس نے مجھے یہ کہتے ہوئے دکھایا کہ ‘امید ہے تم اسے ٹھیک طرح سے لوگی۔’ اسے اس بات کی خوشی تھی کہ بہت سے لوگوں مجھے سے مباشرت کی خواہش ظاہر کی تھی۔

‘اس نے کہا ‘یہ لوگ صرف تمہاری تمنا کر سکتے ہیں، لیکن میں ہی اکیلا ہوں جو تم کو حاصل کرسکتا ہوں۔’ ۔ اس نے کہا کہ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ چاہتا تھا میں اپنے جسم کے بارے میں اچھا محسوس کروں۔ لیکن میں نے اسے اپنا استحصال سمجھا۔’

ایک دوسری خاتون نے لکھا کہ اس نے اپنی سیلفیاں پوسٹ کرنا بند کردیں کیوں کہ جب بھی کوئی سیلفی پوسٹ کرتی ہے تو اس کا بوائے فرینڈ اسے ڈانتا اور کہتا یہ اس کا طریقہ ہے توجہ حاصل کرنے کا۔

ایک دوسری نے بتایا کہ اس کے ساتھی نے اس وقت تک ضد کی جب تک کہ اس نے اپنا ای میل اور پاس ورڈ اس کے ساتھ شیئر نہیں کیا، اس کا کہنا تھا کہ تم کچھ چھپا رہی ہو یا تم دوسرے مردوں سے بات کرتی ہو۔’

ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ اس کے ساتھی نے اس کے فون کو کھولنے کے لیے اس کے انگوٹھے کا استعمال کیا جب وہ سو رہی تھی۔ اور پھر اسے آن لائن پر ایک ویڈیو دیکھنے کے لیے شرمندہ کیا۔’

اندو کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام خواتین نے ان کے جیسے تجربات بیان کیے۔ یہ کہ اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے لیے اپنے پرانے بوائے فرینڈز سے باتیں کرنا چھوڑ دیا۔ انھیں اپنی فرینڈ لسٹ سے ہٹا دیا اور سلفیاں پوسٹ کرنا بند کر دیا۔ انھوں نے ایسی تصاویر بھی ہٹا دیں جن میں ان کے کلیویج نظر آ رہے تھے یا جس میں وہ سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کر رہی تھیں۔

‘وہ اچھا ظاہر ہونے کی کوشش میں اپنی تاریخ کو ڈیلیٹ کررہی تھیں۔ بیشتر خواتین نے ‘اچھی لڑکی ہونے کے بیانیے’ میں پناہ لی۔ دنیا بھر میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس سے وہ محفوظ رہتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ خواتین صرف دو قسم کی ہوسکتی ہیں: حضرت مریم یا اخلاق باختہ۔

‘لہذا ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم اچھے ہیں تو معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔ جب بھی بات بگڑتی ہے تو ہم اکثر خود کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔’

لیکن وہ کہتی ہیں کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن خواتین نے ‘اپنی کہانیاں بھیجیں انھوں نے کہا کہ انھیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جارہی تھی اور پھر بھی وہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔’

ایک خاتون نے لکھا کہ کس طرح انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کا سامنا کیا جب اس نے دھمکی دی کہ میری تصاویر وہ میرے والد کو ارسال کر دے گا۔ اس نے کہا کہ ‘میں انھیں بتاؤں گا کہ آپ کی بیٹی اخلاق باختہ ہے۔’

ایک اور نے بتایا کہ جب اس نے اپنے سابق بوا فرینڈ سے رشتہ توڑا تو اس نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس کی برہنہ تصاویر آن لائن شیئر کر دے گا۔ جب اس نے پولیس کو بلانے کی دھمکی دی تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔

اندو کہتی ہیں کہ ‘سب سے بری بات یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کا سامنا نہیں کرتے ہیں تو ان سے نفرت کرنے سے زیادہ آپ اپنے آپ پر ناراضگی محسوس کرتے ہیں۔ آپ خود کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور اپنے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔’