شیر محمد خان مری عرف جنرل شیروف: پراری کیمپوں کے خالق اور بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے بانی کی کہانی

 




’یہ شخص پاکستان کا فیدل کاسترو ہے۔ اگر قبائلی سردار اور نواب دل سے اس کے ساتھ ہوں تو یہ واقعی بلوچستان کو کیوبا بنا دے۔ مگر یہ دیوانہ اکیلا ہے اور اکیلا ہی رہ جائے گا۔‘

ملتان سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے دانشور اور سیاست دان سید محمد قصور گردیزی نے یہ الفاظ شیر محمد خان مری کے لیے کہے تھے۔

محمد قصور گردیزی راولپنڈی سازش کیس اور حیدرآباد سازش کیس میں گرفتار ہوئے تھے۔ اُن کا تعلق جاگیردار گھرانے سے تھا تاہم زمانہ طالب علمی میں وہ ترقی پسند سیاست سے متاثر ہوئے اور میر غوث بخش بزنجو کے شریک سفر رہے۔

تو وہ شخص کون ہے جن کو گردیزی صاحب پاکستان کا کاسترو تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے یہ لقب پانے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا؟

یہ شخصیت شیر محمد مری کی ہے جو بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے اہم کردار تھے اور جنھوں نے غالباً پاکستان میں پہلی بار گوریلا جنگ کی تیکنیک استعمال کر کے پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ ان کی زندگی پہاڑوں میں مزاحمت کرتے، قید و بند کی صعوبتیں کرتے یا پھر جلاوطنی میں گزری۔

یہ بھی پڑھیے

جب اسکندر مرزا نے خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے فوجی آپریشن کروایا

شوہر کی محبت میں بلوچستان آ کر امر ہوجانے والی میری جین

جب گوادر انڈیا کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا

بلوچستان میں ’نمروُد کا ٹھکانہ‘

’بلوچستان کی نامور شخصیات‘ کے مصنف اختر علی خان بلوچ لکھتے ہیں کہ شیر محمد مری، مری قبیلے کی شاخ بجارانی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد میر سیدان خان قبائلی تنازع کے نتیجے میں ہندوستان چھوڑ کر قندھار چلے گئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔

شیر محمد مری کے چچا میر شربت خان قبیلے کے معتبر تھے اور قبیلے کے سربراہ سردار مہراللہ (نواب خیر بخش مری کے والد) کو لے کر چمن گئے اور شیر محمد اور اُن کے یتیم بھائیوں کو وطن واپس لائے۔

بلوچستان

Getty Images

شیر محمد کے بڑے بھائی میر کرم خان زمینداری کرتے تھے، چھوٹے بھائی میر بہرام خان اور میر ہزار خان سرکاری ملازمت میں چلے گئے جبکہ شیر محمد نے سیاست اور مسلح مزاحمت کی راہ اپنائی۔

شیر محمد مری کے بقول ان کے والد درحقیقت ایک قوم پرست تھے اور سنہ 1918 میں مری بغاوت کے نتیجے میں ان کے پورے خاندان کو جلاوطنی کی سزا دی گئی تھی۔

شیر محمد مری صرف بنیادی تعلیم حاصل کر پائے تھے اسی لیے انھوں نے عملی زندگی میں کئی کٹھن دور دیکھے۔ انھوں نے ٹیکسی چلائی، محنت مزدوری کی۔ وہ کہتے تھے کہ انھوں نے اپنی زمین پر خود ہل چلایا اور اپنا مکان خود محنت کر کے تعمیر کیا۔

لندن کے روزنامہ ’انڈیپنڈنٹ‘ میں ان کی زنگی کے بارے میں لکھتے ہوئے صحافی اور مصنف احمد رشید کہتے ہیں کہ شیر محمد بمبئی میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے تعلق رکھنے والے مارکسِسٹ کے زیر اثر آئے تاہم وہاں کی اشرافیہ اور قیادت مغرب سے زیادہ قریب تھی اور ان کے درمیان شیر محمد کے ’پرولترین انقلاب‘ کے خیالات کی جگہ نہیں تھی۔

شیر محمد کا خیال تھا کہ قوم پرستی اور چھوٹی قومیتوں کو منظم اور سرگرم کر کے انقلاب لایا جا سکتا ہے اور یوں وہ ماسکو سے زیادہ ہو چی من اور ماؤ زے تنگ کی روایات کی پیروکار تھے۔

مظلوم پارٹی اور 18 سیر آٹا

شیر محمد خان مری نے سنہ 1946 میں بلوچستان میں ’مظلوم پارٹی‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ وقت تھا جب نواب خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل، نواب اکبر بگٹی اور سردار شیر باز مزاری لاہور کے ایچیسن کالج میں دیگر سرداروں، نوابوں اور جاگیرداروں کے بیٹوں کے ساتھ زیرِ تعلیم تھے۔

’بلوچستان کی نامور شخصیات‘ میں اختر علی خان بلوچ لکھتے ہیں کہ مظلوم پارٹی کے قیام کا ایک بڑا مقصد سرداروں کے جبری ٹیکسوں اور مبینہ لوٹ کھسوٹ کے رواج کا خاتمہ تھا۔

’اس پارٹی کے پہلے ہی کنونشن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جس کے بعد شیر محمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر ان کے حامیوں نے مشتعل ہو کر فوجی کیمپ پر حملہ کر دیا اور فوج کو کافی نقصان پہنچایا۔‘

بلوچ سردار

Getty Images

وہاب صدیقی نے سنہ 1978 میں ’الفتح‘ جریدے میں شیر محمد مری کے تعارف میں لکھا تھا کہ ان پر تاج برطانیہ کے خلاف تقریر کرنے اور لوگوں کو بغاوت پر اُکسانے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے بعد انھیں سبی جیل میں رکھا گیا جہاں ان سے روزانہ 18 سیر آٹا پسوایا جاتا تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ شحر محمد کو ایف سی آر کی جس دفعہ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اُس میں جرم ثابت کیے بغیر ملزم کو تین سال کے لیے نظربند رکھا جا سکتا تھا۔ تین سال پورے ہونے کے بعد ملزم سے نیک چلنی اور تاج برطانیہ کے خلاف تقریر نہ کرنے کی ضمانت لی جاتی تھی اور اگر یہ یقین دہانی نہ دی جاتی تو ملزم کو تین سال کے لیے مزید پابند سلاسل کر دیا جاتا۔

پہلی فوج کشی اور پراری کیمپوں کا قیام

قیام پاکستان کے وقت شیر محمد مری جیل میں تھے اور انھیں اگلے سال یعنی 1948 میں رہائی ملی۔

قلات ریاست کے حکمران خان آف قلات میر احمد یار خان نے قیامِ پاکستان سے دو روز قبل اپنی ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے ساتھ خصوصی تعلقات پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ خان کے اس اقدام کی تمام بلوچ سرداروں نے حمایت کی تھی اور بلوچستان کی علیحدہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔

تاہم حکومت پاکستان نے خان کے اس قدم کو بغاوت سے تعبیر کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے خان آف قلات اور اُن کی ریاست کے خلاف کارروائی کی۔ آخرکار مئی 1948 میں خان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور وہ پاکستان میں شمولیت پر مجبور ہو گئے تاہم ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے اس فیصلے کے خلاف مسلح بغاوت کر دی۔

صحافی احمد رشید کے مطابق شیر محمد مری اس بغاوت میں شریک ہوئے لیکن اسے فوری طور پر کچل دیا گیا تھا۔

اس کے بعد جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے ون یونٹ نافذ کیا اور بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تو بلوچستان میں ہل چل مچ گئی اور صوبائی خود مختاری کے مطالبات سامنے آنے لگے۔

شیر محمد مری نے بھی ایوب خان کے خلاف بغاوت کی اور مری علاقے کے پہاڑوں پر چلے گئے۔

سلیگ ہریسن اپنی کتاب ’ان افغانستانز شیڈو‘ میں لکھتے ہیں کہ شیر محمد مری کی شخصیت مسلح تحریک کا مرکز تھی اور اس تحریک کا نام ’پراری‘ رکھا گیا۔ بلوچی زبان میں اس سے مراد ایک ایسا شخص یا گروہ ہے جس کے شکایات نہ سنی گئی ہوں۔

شیر محمد جانتے تھے کہ وہ روایتی طریقے سے لڑ نہیں کر سکیں گے اس لیے انھوں نے چین، کیوبا، ویتنام اور الجیریا میں سامنے آنے والی گوریلا جنگ کے طریقے اپنائے۔

سلیگ ہریسن کے مطابق جولائی 1963 تک 22 پراری کیمپ بن چکے تھے۔ ہر کیمپ میں 400 رضاکار موجود رہتے جبکہ کئی سو عارضی رضاکاروں کو طلب کیا جا سکتا تھا۔

یہ پراری پاکستان فوج کے ساتھ کسی بڑی جنگ سے بچتے اور گوریلا انداز میں ان پر حملے کرتے۔ جواب میں فوج نے بھی ردعمل دکھایا جس میں فضائی حملے بھی کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے حملوں کے دوران مری علاقے میں شیر محمد اور ان کے رشتے داروں کے 13 ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات تباہ ہو گئے۔

دسمبر 1964 کو 500 پراریوں نے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں فریقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ سنہ 1969 میں ایوب خان کے بعد جب یحییٰ خان نے اقتدار سنبھال اور ون یونٹ کے خاتمے اور جنگ بندی کا اعلان کیا تو شیر محمد بلآخر پہاڑوں سے اتر آئے۔

مسلح جدوجہد کو نظریہ دینے والے

میر محمد علی تالپور کے والد میر علی احمد تالپور اور چچا میر رسول بخش تالپور کے میر شیر محمد مری کے ساتھ گہرے تعلقات رہے۔ جب 1960 کی دہائی میں شیر محمد کو جلاوطن کیا گیا تو حیدرآباد میں وہ ہی ان کے میزبان بنے اور بعد میں ان کی ضامن بھی۔

میر محمد علی تالپور خود بھی میں بلوچ مزاحمتی تحریک کا حصہ رہے ہیں اور خود بلوچستان کے پہاڑوں اور افغانستان تک کا سفر کر چکے ہیں۔

ان کے مطابق سنہ 1963 میں شیر محمد پہلے کوئٹہ کے قریب پہاڑوں میں منتقل ہوئے جہاں سے وہ مری علاقے میں چلے گئے۔ یہاں انھوں نے پراری کیمپوں کی بنیاد رکھی اور منظم مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔

’اس سے قبل (قلات کے) پرنس کریم اور نواب نوروز کی مسلح جدوجہد موجود تھی لیکن یہ ایک ردعمل تھا۔ اس کی بنیاد بطور ایک منظم تحریک شیر محمد نے خیر بخش مری کے ساتھ رکھی تھے۔ انھوں نے پہلے کی مزاحمتی تحریکوں کے برعکس اس کو ایک نظریے اور مقصد کے ساتھ منسلک کیا۔‘

شیر محمد مری اور نواب خیر بخش مری کے بقول اگر آزادی مل جائے اور لوگوں کے لیے کچھ نہ ہو تو یہ بےمعنی سی چیز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ شیر محمد کو ایسے نوجوانوں کی توجہ حاصل ہوئی جنھیں بلوچستان سے اُنس یا ربط تھا۔ سیاست دان تو بہت تھے، مثلاً غوث بخش بزنجو اور عطااللہ مینگل لیکن نواب خیر بخش اور شیر محمد مری نوجوانوں کے لیے لیڈر کا درجہ رکھتے تھے۔

بلوچستان کے نامور ادیب اور دانشور ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی بھی ان میں شامل ہیں جو زمانہ طالب علمی میں شیر محمد سے متاثر ہوئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ شیر محمد موجودہ بلوچ مزاحمتی تحریک کے موجد تھے۔ ان کے مطابق شیر محمد اس تحریک کو ’پستی سے بلندی پر لے گئے۔‘

ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی کا کہنا ہے کہ شیر محمد مری اگر مری علاقے میں نہ ہوتے تو شاید خیر بخش مری کا نام آگے نہیں بڑھتا۔ ان کے مطابق خیر بخش مری کو آگے لانے اور مسلح مزاحمت کی جانب راغب کرنے میں شیر محمد مری کا بڑا کردار تھا۔

بلوچستان کی نامور شخصیات کے مصنف اختر علی خان بلوچ لکھتے ہیں کہ شیر محمد عمر میں خیر بحش مری سے بڑے تھے لیکن اپنے موروثی نواب کی بڑائی کے سامنے ساری زندگی سرنگوں رہے۔ ان کی کوشش رہی کہ وہ کسی طرح نواب خیر بخش مری کو تخت سلیمانی سے اتار کر پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس عوام سے آشنا کروائیں۔

ان کی کوششوں سے اتنا ضرور ہوا کہ نواب کھدر پوش ہو گئے اور لینن کا بیج سینے پر آویزاں کرنے لگے۔ ان کا نوابی کردار ختم ہو گیا اور اُن کا رخ ماسکو کی جانب ہو گیا۔

حیدرآباد سازش کیس میں گرفتاری

سنہ 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان کی پہلی صوبائی اسمبلی وجود میں آئی، یہاں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت قائم ہوئی، میر غوث بخش بزنجو گورنر بنائے گئے، سردار عطا اللہ مینگل وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے جبکہ خیربخش مری نیشنل عوامی پارٹی کے اسمبلی میں صوبائی سربراہ رہے۔ جبکہ نواب اکبر بگٹی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے۔

اسی سال 10 فروری کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد میں واقع عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بلوچ مزاحمت کاروں کے لیے بھیجا گیا تھا، اس کو بنیاد بنا کر بلوچستان میں 30 دنوں کے لیے صدارتی نظام نافذ کیا گیا نواب اکبر بگٹی کو گورنر لگایا گیا، غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل اور نواب خیربخش مری سمیت شیر محمد مری بھی گرفتار کر لیے گئے اس مقدمے کو حیدرآباد سازش کیس کا نام دیا ہے۔

جنرل ضیاالحق نے ذوالقفار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کردیا جس کے بعد تمام بلوچ اسیروں کو رہا کر دیا گیا عطااللہ مینگل اور شیر محمد لندن اور خیربخش مری فرانس چلے گئے بعد میں شیر محمد کابل پہنچے جہاں ماسکو نواز حکومت قائم ہو چکی تھی، انھوں نے وہاں مری قبائل کو بلا لیا بعد میں نواب خیربخش مری بھی وہاں آ گئے۔

شیر محمد سے جنرل شیروف تک

بلوچستان میں شیر محمد خان مری نے بابو یا بابو شیر محمد کے نام سے شہرت حاصل کی بعد میں ان کا نام جنرل شیروف پڑ گیا، سنہ 1978 میں الفتح جریدے کے لیے وہاب صدیقی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ بلوچ ثقافت میں کبھی پورے نام سے مخطاب نہیں کیا جاتا صرف خیر بخش مری انھیں شیر محمد کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور باقی تر لوگ ’شیرو‘ کہتے ہیں بلکہ وہ دستخط میں بھی شیرو لکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جنرل شیرو اس لیے کہتے ہیں وہ گوریلا تھا اور ایوب آمریت کے خلاف مسلح جنگ کی تھی مگر ’جنرل شیرو کے آگے ف کیوں لگایا گیا یہ تو حکمران طبقات یا اخبارت ہی بتا سکتے ہیں ویسے میں کبھی روس نہیں گیا البتہ جانے کے خواہش ضرور ہے تاکہ لینن کو دیکھ سکوں، اس طرح چین جانے کی خواہش ہے تاکہ ماؤ کو دیکھ سکوں، چین گیا تو مجھے جنرل شیروف کا نام دیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شیر محمد مری کو جنرل شیروف کا نام دیا تھا اور ان کا تعلق ماسکو سے جوڑا تھا۔

شیر محمد مری کا لباس اور انداز منفرد رہا وہ متعدد تہہ والی مری پگڑی، کرتا، مری کٹ چپل اور واسکٹ پہنتے تھے جبکہ ان کی لمبی مونچھیں اور مری سٹائل داڑھی تھی، کئی نوجوانوں نے اس زمانے میں اس سٹائل کو اپنایا تھا۔

ہفت روزہ تکبیر کے مقتول مدیر محمد صلاح الدین نے کراچی میں ڈھائی سال اُن کے ساتھ جیل میں گزارے تھے۔ اُن کی وفات پر انھوں نے لکھا کہ شیر محمد مری حیرت انگیز طور پر بلوچی، براہوی، پشتو، سندھی، سرائیکی، پنجابی، فارسی، انگریزی، اردو اور روسی زبانوں میں بولنے اور پڑھنے کی استعداد رکھتے تھے۔ انھیں اُردو کے قدیم شعرا بلخصوص میر و غالب کے بہت سارے شاعر یاد تھے وہ بہت کم گو تھے مگر چھوٹے چھوٹے فقروں میں اپنی رائے اور تبصروں کا بھرپور اظہار کرتے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کے دور میں مسلح جدوجد کے دوران ایک ٹانگ میں گولی لگی تھی، اس لیے معمولی لنگ تھا، صبح سیل کا دروازہ کھلتے ہی بھاری بھر کم چپلوں سمیت پورے وارڈ کے کئی چکر لگاتے، ان کی رفتار کا ساتھ دینا دوسروں کے لیے مشکل تھا اس دوران دوسرے لوگ رفع حاجت اور غسل سے فارغ ہو جاتے تھے اور جمعدار بھی صفائی کر چکے ہوتے، تب یہ فراغت اور غسل کے لیے جاتے تھے، ان کی درخواست تھی کہ جب وہ لیٹرین یا غسل خانے میں موجود ہوں تو کوئی دوسرا صاحب برابر والے لیٹرین یا غسل خانے میں داخلہ نہ ہو، اس احتیاط میں حیا کا پہلو پیش نظر آتا جس سے وہ بلوچ تہذیب کا اہم جز قرار دیتے تھے۔‘

محمد صلاح الدین کی تحریر کے مطابق شیر محمد اپنے جسم کو ہمیشہ پوری طرح ڈھانپ کر رکھتے اور سوتے میں بھی پورا لباس زیب تن کرتے، پیروں کے ٹخنوں تک ان کے جسم کا کوئی حصہ کبھی بے لباس نہیں دیکھا گیا، صبح کے وقت انھیں اپنے بالوں کو سنبھالنے اور پگڑی جمانے اور داڑھی سنوارانے میں کم از کم ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگ جاتے پھر وہ سکون سے ناشتہ کرتے، اخبار دیکھتے اور شریک محفل ہو کر تازہ خبروں پر تبصرہ اور تبادلہ خیال کرتے تھے۔‘

’شیر محمد اگرچہ زیادہ کُھلتے نہ تھے لیکن اپنے عقائد اور سیاسی نظریات کو انھوں نے کبھی پوشیدہ نہ رکھا اور یہ بھی بتا دیا کہ شراب کا عادی ہوں مگر بیوی کے سوا کبھی کسی غیر عورت کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بلوچ تہذیب میں یہ ناقابل معافی گناہ ہے ہم آبرو کے محافظ ہیں۔‘

نواب مری اور جنرل مری میں اختلافات

افغانستان میں قیام کے دوران نواب خیر بخش مری اور شیر محمد مری میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ بلوچستان کی نامور شخصیات کے مصنف اختر علی خان بلوچ لکھتے ہیں وہ دوست اپنے نواب اور قبیلے کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے لیکن افسوس کہ افغانستان کے قیام کے دوران وہ اپنے نواب خیربخش مری سے خفا ہو گئے اور اپنی راہ الگ کر لی۔‘

ایک عام تاثر کے مطابق کچھ مالی معاملات اختلاف کا باعث بنے، وہ ان عطیات میں حصہ مانگ رہے تھے جو کابل سمیت مختلف ممالک سے ملتے تھے۔

ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی کا کہنا ہے کہ خیر بحش مری نواب تھے، شیر محمد ایک معزز مری تھے لیکن ان کا وہ درجہ نہیں تھا جو قبائلی تھا اس کو سیاسی حیثیت ملی تھی، اس صورتحال نے انتشار میں ڈال دیا قبائلی سوچ نے تھوڑ دھچکا لگایا۔

افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد شیر محمد خان مری جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آ گئے۔ صحافی عامر ضیا کو سنہ 1993 میں دی نیوز انٹرنیشنل کے لیے دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ جیسے ہی اسلامی حکومت تشکیل میں آئی وحدت اسلامی کے مسلح دستوں نے جن کی پشت پناہی ایران کر رہا تھا ان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔ دستوں نے ہتھیار چھین لیے اور انھیں الٹی میٹم دیا کہ صرف آدھے گھنٹے میں یہ مکان چھوڑ کر یہاں سے چلے جاؤ۔

شیر محمد مری نے انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے ان لوگوں سے کہا کہ میں کس طرح اتنے مختصر وقت میں اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اور شفٹ ہو سکتا ہوں لیکن وہ مسلسل اسی انداز میں انھیں پریشان کرتے رہے اور انھیں مجبور کر دیا کہ وہ جگہ چھوڑ دیں۔

بقول اُن کے جس دن وہ افغانستان چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اسی دن ایک افغان وزیر مولوی یونس خالصی نے فون کیا اور انھوں نے گزارش کی کہ انھیں بمع اہل و عیال باحفاظت ایئرپورٹ بھجوا دیا جائے گا۔ یوں چند گھنٹے میں پاکستانی سفارتخانے کا سیکریٹری آن پہنچا اور انھوں نے اپنی کار میں باحفاظت انھیں ایئرپورٹ پہنچا دیا۔

شیر محمد مری افغانستان سے واپسی پر بیمار ہو گئے۔ یہاں وہ ڈاکٹر ادیب رضوی کے پاس زیرعلاج رہے اور بعد میں مزید علاج کے لیے انڈیا چلے گئے جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔ سینیئر صحافی مجاہد بریلوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں اس بات کا رنج تھا کہ ان کا نام بزنجو، مینگل ،مری اور بگٹی کے ساتھ نہیں لیا جاتا حالانکہ ان کی قربانی اور جدوجہد ان سے کم نہیں ہے۔

مجاہد بریلوی کا یہ ماننا ہے کہ 1970 کی دہائی میں بلوچ قوم پرست اپنے اختلافات ایک طرف رکھ دیتے تو آج بلوچستان کی یہ صورتحال نہ ہوتی۔