پختونخوا کی مثالی مورل پولیس اور خواجہ سراؤں کی داڑھی


نیو ٹی اور میڈیا ذرائع کے مطابق خواجہ سراؤں نے فریاد کی ہے کہ ”خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس انھیں داڑھی رکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے پولیس نے زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو خواجہ سرا داڑھی نہیں رکھے گا اسے علاقہ بدر کیا جائے گا۔ دو سال سے خواجہ سراؤں کے پروگرام کرنے پر بھی پابندی ہے“۔ یہ خبر دیکھ کر ہمیں تجسس ہوا۔ ہم نے مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ بظاہر پختونخوا کی مثالی پولیس خواجہ سراؤں کو صراط مستقیم پر لانے میں مصروف ہے۔
اس معاملے کی چھان پھٹک کرتے کرتے ہم بنوں کی ایک مقامی ویب سائٹ ”دی بنوں ٹائمز“ تک جا پہنچے۔ نومبر 2017 میں خواجہ سراؤں کے احتجاجاً سڑک بند کرنے کی خبر ملی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دو سال سے پولیس نے ان کے ناچ گانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور وہ بھوکے مر رہے ہیں۔ 13 جنوری 2018 کو دوبارہ احتجاجی جلوس کی خبر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پورے پاکستان میں خواجہ سراؤں کو ناچنے گانے کی اجازت ہے مگر صرف بنوں میں پابندی ہے۔ یا تو پابندی ہٹائی جائے یا پھر حکومت سرکاری طور پر اعزازیہ دیا کرے۔
بنوں ٹائمز لکھتا ہے کہ اس موقع پر ڈی ایس پی صاحب خواجہ سراؤ٘ں سے مذاکرات کے لئے پہنچے اور انہیں سمجھایا کہ ناچ گانوں کے پروگرامات قانونی شرعی طور پر ممنوع ہیں جس کی اجازت پولیس ہرگز نہیں دے سکتی کیونکہ اس سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے، بلکہ ان پروگرامات کے باعث امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو تی ہے۔ اگر خواجہ سرا کے پاس ناچ گانوں کی کوئی قانونی جواز موجود ہیں تو وہ لا کرہمارے حوالے کریں۔
31 جنوری 2018 کو بنوں ٹائمز نے خبر لگائی ہے کہ خواجہ سرا پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے لگے اور دعوی کیا کہ بنوں پولیس نے خواجہ سراؤں کو دو آپشن دیے ہیں۔ پہلی یہ کہ ناچ گانے کے پروگرام چھوڑ کر داڑھی رکھ لیں اور مسلمان ہو جائیں۔ دوسری یہ کہ ضلع چھوڑ دیں۔ خبر کے مطابق ڈی پی او نے کہا ہے کہ کسی بھی اہلکار یا افسر نے ایسی ہدایت کی ہے تو اسے سامنے لایا جائے، اس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
یہ ساری خبریں پڑھ کر ہمیں نہایت افسوس ہوا ہے کہ یہ خواجہ سرا کیوں بنوں کی مثالی پولیس کو بدنام کر رہے ہیں۔ آپ خود بتائیں کہ آپ پولیس کی بات پر اعتبار کریں گے یا خواجہ سراؤں کی؟ ہمیں تو یہی محسوس ہوا ہے کہ خواجہ سرا خود سے ہی ناچ گانے سے بیزار ہو گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ داڑھیاں لمبی کر کے کسی گوشے میں بیٹھ جائیں اور اللہ اللہ کریں۔ لیکن خود سے ایسا کرتے ہوئے خجالت محسوس کر رہے ہیں اس لئے مثالی پولیس پر الزام دھر رہے ہیں کہ وہ انہیں مجبور کر رہی ہے۔ وہ سست ہو گئے ہیں اور ناچ گا کر پیسہ کمانے کی بجائے حکومت سے گھر بیٹھے بیروزگاری الاؤنس لینا چاہتے ہیں۔
بفرض محال اگر ہم یہ تصور بھی کر لیں کہ مثالی پولیس ایسا کہہ بھی رہی ہے تو سوچا جا سکتا ہے کہ اس کی نیت محض شریعت نافذ کرنے کی ہو گی۔ اس پر خواجہ سراؤں کے احتجاج کو سیریس نہیں لینا چاہیے۔ اتنے عرصے سے طالبان یہ کر رہے تھے، تو کیا ان خواجہ سراؤں نے ان کے خلاف کبھی احتجاج کیا جو پولیس کے خلاف وہی کام کرنے پر کر رہے ہیں؟

پختونخوا کی مثالی پولیس محض اصلاح معاشرہ کی کوشش کر رہی ہے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے پشاور کی مثالی پولیس ٹرانسپورٹ پر موجود حرام تصاویر پر سپرے کرنے میں مصروف دکھائی دی تھی۔ پتہ نہیں کیسی کیسی تصویریں ہوں گی۔ سننے میں یہ آیا تھا کہ ایسی تمام تصاویر جن میں مرد حضرات نشے سے بھری ہوئی سگریٹ پی رہے تھے یا پستول تھامے کھڑے تھے، اور ایسی تصاویر جن میں خواتین بڑی بڑِی توبہ شکن آنکھیں دکھا کر لوگوں کو گمراہ کر رہی تھیں، ان کے خلاف مثالی مہم چلائی گئی ہے۔ اس پر بھی بعض گمراہ لوگوں نے واویلا کیا تھا۔ حالانکہ یہ تو پشاور کی روایت ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں بھی تو یہ سپرے ہوئے تھے۔ اب ہو رہے ہیں تو اعتراض کیسا؟
یہ خوشی کی بات ہے کہ ملک کی کوئی پولیس تو مورل پولیسنگ کرنے میں مصروف ہے۔ باقی صوبوں کی پولیس فورس تو صرف جرائم پر ہی کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسے لوگوں کی اخلاقی حالت سدھارنے میں رتی برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔

یہ ایک عظیم مقصد ہے جس کی جتنی جی چاہیے اتنی تعریف کی جانی چاہیے۔ جہاں تک لڑکیوں اور ننھی بچیوں کو ریپ اور قتل کر ڈالنے اور دیگر جرائم کی بات ہے، وہ تو مثالی وزیر اعلی پرویز خٹک بتا ہی چکے ہیں کہ ”یہ کیسز ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، پولیس کی کارکردگی کی بات کریں“۔ ہمیں پولیس کی کارکردگی کی بات کرنی چاہیے کہ خیبر پختونخوا پولیس جیسی شاندار مورل پولیسنگ کون سے دوسرے صوبے کی پولیس کر رہی ہے؟ (ختم شد)


بشکریہ ہم سب