پابلو نیرودا کی محبوب عورتیں

ڈاکٹر شیرشاہ سید

”یہ الورتینا کی تصویر ہے“، اس نے خوبصورت فریم کی ہوئی ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

الورتینا یقیناً خوبصورت تھی۔ ایک خاص کشش تھی اس کے چہرے پر اور چبھتی ہوئی آنکھیں جیسے دور تک دیکھ رہی ہوں۔ میں ٹھٹک کر اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

لاچس کولا میں الورتینا کی تصویر کیوں تھی، میں سوچنے لگا۔ لاچس کولا اس گھر کا نام تھا۔ گھر ایک جہاز کی مانند تھا۔ ایک چھوٹا سا بحری جہاز، خشکی پر ٹھہرا ہوا۔

یہ سب کچھ چلّی کے شہر سانتیا گو میں ہورہا ہے۔

اسی چلّی میں جس کا نام پہلی دفعہ میں نے اس وقت سنا جب میں میڈیکل کالج میں دوسرے سال کا طالب علم تھا۔ صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے بس کے رکتے ہی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بورڈ پہ نظر پڑی جہاں موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا کہ ’امریکہ کی مدد سے چلّی کے صدر ایلندے کو قتل کردیا گیا ہے۔ ‘ ایلندے جو عوام کا منتخب کردہ وزیراعظم تھا، فوجی بوٹوں کے تلے روندا گیا۔

پھر سنتیا گو کا نام اس وقت سامنے آیا جب میں انے لندن میں جیک لیمن کی فلم ’مِسنگ‘ (Missing) دیکھی، جس میں جیک لیمن ایک ایسے امریکی باپ کا کردار ادا کرتا ہے، جس کا صحافی بیٹے کو سنتیا گو میں قتل کرنے کے بعد اس کی لاش غائب کردی جاتی ہے۔ جیک لیمن کا کردار بڑی ہوشیاری اور نہایت حد دردمندی کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کی روداد بیان کرتا ہے۔ اس وقت سے میرے دل می خواہش تھی کہ چلّی دیکھوں اور سانتیا گو کا وہ میدان دیکھوں جہاں نہ جانے کتنے کمیونسٹوں کو حق و انصاف کی آواز بلند کرنے کے جرم میں پنوشے کے دورِ اقتدار میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

چلّی کے اسی شہر سانتیا گو میں قسمت ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے لائی تھی۔

سانتیا گو شہر کے بازاروں، گلیوں می گھومتے ہوئے چائے خانوں، کافی ہاؤسوں میں محظوظ ہوتے ہوئے شراب خانوں اور ریستورانوں میں چکر لگانے کے بعد ہمارا گروپ لاچس کولا پہنچا تھا۔

”یہ میری نانی ہے“ میرے گائیڈ گونسالوایشورا نے میرے چہرے پر اُبھرے ہوئے سوالوں کو بھانپ کر خود ہی جواب دیا۔


اس جواب نے میرے دماغ میں مزید پیچیدگیاں پیدا کردی تھیں۔ ’لاچس کولا‘ سنتیا گو شہر کے بیچوں بیچ پابلونیرودا کا جہاز نما گھر تھا۔ پابلو کے گھر میں خوبصورت عورت الورتینا کی تصویر جو ہمارے گائیڈ کون سا لوایستورا کی نانی تھی۔ میں نے سوچا کہ گائیڈ نے یہ تصویر ایسے ہی لگا دی ہو گی، خوبصورت عورتوں کو تو سجایا بھی جا سکتا ہے۔

میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس نے امریکی لہجے والی انگریزی میں آہستہ آہستہ رُک رُک کر کہا کہ ”الورتینا پابلو کی معشوقہ تھی۔ ایک طویل مدت تک اس کی محبوب رہی۔ یہ تصویر اوراس کے برابر رکھے ہوئے تمام خطوط پابلو نے گاہے بہ گاہے الورتینا کو لکھے تھے۔ “ وہ سارے خطوط بڑے احتیاط سے تصویر کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ تاریخ سیکنڈ، منٹ، گھنٹے، دن۔ ان ہفتے مہینوں اورسالوں کو پھلانگتے ہوئے الورتینا کے پاس رُک گئی تھی۔

”پابلو کی پہلی کتاب میں الورتینا کے لیے بے شمار نظمیں ہیں۔ وہ تمام محبت بھری ننگی نظمیں ان انسانی جذبات سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں جو زندگی میں خوشی، لگن، جذبہ اور مقصد بھر دیتے ہیں۔ “ گونسالو نے بڑے رومانوی انداز میں تقریر کی تھی۔

ہم سب اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔ پابلو نے صرف عشق کیا اور تمام زندگی عشق میں گزار دی۔ سمندر سے عشق، عورت سے عشق، علم اورکتابوں سے عشق، جنوبی امریکہ، افریقہ اور ہندوستان سے عشق اور پھر جمہوریت، شخصی آزادی اورآزادی کے دیوانوں سے عشق۔ اس کا عشق، اس کی محبت کہیں چھپی ہوئی ہے، کہیں علی الاعلان اشتہار بنی ہوئی ہے۔ وہ ایسا ہی آدمی تھا۔ وہ کہیں تو بالکل سامنے ہے اور کہیں مکمل طور پر چھپا ہوا اور پراسرار۔

میرے دل میں آیا کہ میں اس سے پوچھوں کہ کیا وہ اپنی نانی الورتینا کے بارے میں صحیح کہہ رہا ہے۔ ابھی یہ سوال ذہن میں کلبلا ہی رہا تھا کہ اس نے کہا کہ ”اب اس جہاز نما مکان کو ہی دیکھ لیں۔ یہ مکان بھی پابلو کی طرح پُراسرار ہے۔ پابلو کی طرح عاشق ہے اور پابلو کی طرح بے باک بھی۔ “

گونسالو نے کسی اچھے گائڈ کی طرح ہم لوگوں کومسحور کر لیا تھا۔ ”اس گھرکو پنوشے کے فوجیوں نے تباہ کردیا۔ پابلو نے یہ گھر بڑی محبت سے مٹلڈا کے لیے بنایا تھا۔ وہ سامنے تصویر ہے مٹلڈا کی۔ مٹلڈا سے اس نے شادی نہیں کی مگر وہ آخردم تک اس کے محبتوں کا مرکز بنی رہی۔ “ ہم سب نے دیوار پر لگی ہوئی عورت کی تصویر کو دیکھا۔ بھرے بھرے ہونٹ، چہرے کی بھری ہوئی ہڈیاں۔ چمکتی ہوئی آنکھیں اور سر پر ڈھیر سارے سیاہ بالوں کا بڑا سا الجھا ہوا دائروں میں بنا ہوا گھونسلا۔

”یہ تصویر پابلو کے ایک بہت اچھے دوست نے بنائی ہے۔ اسے غور سے دیکھیں۔ اس تصویر میں صرف مٹلڈا نہیں ہے اوربھی بہت کچھ ہے۔ “ گونسالو نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ہم سب بڑے غور سے خوبصورت مٹلڈا کی تصویردیکھ رہے تھے اور ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔

”لاچس کولا“ اس نے زورسے کہا۔ ”لاچس کولا کا مطلب ہے گھنے بالوں والی عورت۔ مٹلڈا گھنے بالوں والی عورت تھی۔ پابلو نے لاچس کولا اس کے لیے بنوایا تھا اوراس کی اس صفت پراس گھر کا نام رکھ دیا تھا۔ “

”اس تصویر میں فنکار نے ایک اور شرارت کی ہے“ اس نے پھر مسکرا کر کہا۔ ”پابلو نے مٹلڈا سے کبھی شادی نہیں کی مگر ہمیشہ مٹلڈا کے پیچھے کہیں چھپا رہا۔ “ یہ کہہ کر گونسالو آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے گتّے کے کارڈ سے مٹلڈا کا چہرہ اور پیشانی چھپادی۔


ہم سب حیران رہ گئے۔ مٹلڈا کے گھنے بالوں کی چھوٹی چھوٹی لہروں میں پابلومسکرا رہا تھا۔ وہی چہرہ، وہی پیشانی، وہی گال، وہی تھوڑی اور پچکی ہوئی ناک کے نیچے وہی پتلے نیلے مسکراتے ہوئے ہونٹ۔

وہ مٹلڈا کے گھنے بالوں میں، لاچس کولا میں چھپا رہا۔ لکھتا رہا، اس کمرے کے دوسری جانب بنے ہوئے چھوٹے سے میخانے میں سرخ اور سیاہ انگور کی شراب پیتا رہا۔ کمرے کی دیواروں میں بنی ہوئی جہازی کھڑکیوں سے دیوار کو چھوتی ہوئی مصنوعی سمندر کی لہروں کو گنتا رہا اور لکھتا رہا۔ اپنی محبتوں کے بارے میں، ان فوجیوں کے بارے میں جو غاصب بھی تھے اورغدار بھی۔ ان سیاسی کارکنوں کے بارے میں جن کی لاشیں کسنگر، نکسن اور فوجی حکمرانوں کی مرضی سے راتوں کو ہیلی کاپٹروں میں بھر کر بیچ سمندر میں شارک مچھلیوں کی خوراک بنا دی گئیں۔ وہ محبتوں کے دوران اور عشق کے کربناک لمحوں میں بھی ان مزدوروں، صحافیوں اور اُن باضمیر انسانوں کا درد لے کر فوجی جنتا کے جسم و روح پر بوجھ بن گیا تھا۔

ہم اب لاچس کولا کے دوسرے کمرے میں پابلو کے چھوٹے سے میخانے میں اور اس کے ساتھ بنے ہوئے باورچی خانے میں وائن کی پرانی بوتلوں، مختلف انداز و اطوار کے جام اور ہندوستان اور افریقہ سے جمع کیے ہوئے برتنوں کو دیکھ رہے تھے۔ اس کمرے کے ساتھ ہی پابلو کی خواب گاہ تھی، پرانے زمانے کا اونچے ستونوں والا پلنگ جیسے کسی جہاز کے کیبن میں رکھا ہوا تھا۔ ”پابلو نے دو خواب گاہیں بنائی تھیں ایک یہ، اور ایک اوپر، کتابوں کے کمرے کے ساتھ۔ مجھے افسوس ہے کہ میں کتابوں کا وہ کمرہ نہیں دکھا سکوں گا مگر اس خواب گاہ کی ایک خاص بات ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ “ یہ کہہ کر گونسالو نے دیوار سے لگی ہوئی الماری کادروازہ کھول دیا۔ یہ ایک سادہ سی الماری تھی۔ اس نے بیچ کا دروازہ بھی کھول کر دکھایا۔ یہ بھی ایک سادہ سی الماری تھی۔ جس میں ہینگر لٹکانے کے لیے راڈ لگی ہوئی تھی جہاں پابلو اپنے کپڑے لٹکاتا ہوگا۔ الماری کے تیسرے دروازے کو کھولا گیا تو وہ بھی ایک سادہ سی الماری ہی تھی مگر اوپر سے نیچے تک اس میں کسی ہینگر کی جگہ نہیں تھی۔ غور سے دیکھنے پر پتہ لگا کہ درحقیقت الماری کے اندر ایک اور دروازہ تھا۔ اس دروازے کا ایک پوشیدہ ہینڈل تھا۔ گونسالو نے آہستہ سے ہینڈل کو گھمایا تو دروازہ کھل گیا تھا۔ ہم سب الماری کے اس دروازے سے پابلو کے گھر سے باہر آچکے تھے۔ ”آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا کہ پابلو کو اس خفیہ دروازے کی ضرورت تھی۔ شاید وہ جاننے والوں سے چھپتا رہا۔ شاید یہ دروازہ فوجی جاسوسوں کو دھوکہ دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ خواتین و حضرات میں گونسالو ایتورا، الورتینا کا نواسہ جو پابلو کی محبوبہ تھی، پابلو کے اس راز سے پردہ اٹھانے کے قابل نہیں ہوں۔ “

”مجھے پتہ ہے آپ لوگ پابلو کی لائبریری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان بیش قیمت پینٹنگز کو دیکھنا چاہتے ہیں جو پکاسو نے خود بنا کر پابلو کو دی تھیں۔ چلیے میں آپ کو لے چلتا ہوں، مگر افسوس کہ آپ انہیں نہیں دیکھ سکیں گے۔ “

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا، ہم کچھ نہ سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کے قدموں کے نشان پر چل رہے تھے۔

”یہ سارا مکان لوٹ لیا گیا۔ ایک رات پنوشے کے فوجیوں نے اس پر دھاوا بول دیا۔ بے شمار کتابیں، بیش قیمت پینٹنگز اور پابلوکے جمع کیے ہوئے مختلف نوادرات فوجی اٹھا کر لے گئے۔ آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کتابیں، فن کے وہ نادر نمونے کہاں گئے۔ فوجیوں نے جہاں لوٹ مار کی وہاں لاچس کولا کو بھی تباہ برباد کر دیا۔ جہازی مکان کی کھڑکیاں، کھڑکیوں کے باہر کھڑا ہوا پانی کا نظام جسے پابلو سمندر کی طرح دیکھا کرتا تھا، ان لوگوں نے سب کچھ ختم کردیا۔ “ میں نے سوچا فوج کہیں کی ہو، کسی زمانے کی ہو صرف فوج ہوتی ہے۔ حالت امن میں بھی لوٹ اور حالت جنگ میں بھی لوٹ۔ شاید لوٹ فوجی تربیت کا بنیادی جز ہے۔

لائبریری کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم اس کمرے میں پہنچے جہاں پابلو اپنے مہمانوں کی دلداری کرتا ہوگا۔ کمرہ ابھی بھی کچھ بچی ہوئی چیزوں سے سجا ہوا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ پابلو ہندوستان میں سفارت کاری بھی کرتا رہا تھا اور افریقہ میں بھی گھومتا رہا تھا۔ راجستھان، یو پی، حیدرآباد اور کیرالا سے جمع کی ہوئی چھوٹی چھوٹی خوبصورت چیزیں فوجیوں کی دستبرد سے محفوظ رہی تھیں۔ وہ تمام چیزیں اب بھی پابلو کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ پابلو کو گلاس جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ ملک ملک کے گلاس، طرح طرح کے پیالے گھر میں موجود الماریوں میں ابھی بھی سجے ہوئے تھے۔

لوگ انہماک سے پابلو کے جمع کیے ہوئے نوادرات دیکھ رہے تھے۔ میں گونسالو کے قریب کھڑا ہوگیا، پھر میں نے ہمت کرکے دھیرے سے پوچھا ”مجھے اپنی نانی الورتینا کے بارے میں کچھ بتاؤ۔ “

وہ ہنس دیا ”تم سارے لوگ، جو ہندوستان سے آتے ہو ایسے ہی سوال کرتے ہو۔ تمہارا اگلا سوال یہ ہوگا کہ میں اس کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہوں اوراس کے آگے کے سوال بھی مجھے پتہ ہیں لہٰذا میں سارے سوالوں کا ایک ساتھ جواب دے دیتا ہوں۔ “

گونسالو دبلا پتلا اٹھائیس تیس سال کا لڑکا سا آدمی تھا۔ اس کے گہرے سیاہ بال تھے جو بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اس نے بالوں کو پونی ٹیل کی طرح باندھا ہوا تھا۔ اس کی وسیع پیشانی سے بال کھینچ کر پونی ٹیل میں بندھ گئے تھے۔ اس کی بھنویں گھنی تھیں اورنمایاں ناک کے ساتھ پتلے پتلے ہونٹ تھے۔ وہ خود بھی ایک خوبصورت آدمی تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کی نانی بھی بہت خوبصورت عورت رہی ہوگی۔


”نہیں ہمیں کوئی پشیمانی نہیں ہے، اس بات پہ کہ ہماری نانی الورتینا، پابلو کی محبوبہ تھی۔ درحقیقت یہ بات توشاید کبھی کبھی منظر عام پر نہیں آتی، شاید ہمیشہ ایک راز رہتی۔ دراصل پابلو کی محبت ایک راز رہی تھی۔ پابلو نے خود بھی کہا ہے کہ میں اس زمانے میں دوغلا تھا۔ الورتینا سے محبت کرتا تھا مگراس کا برسرعام اقرار نہیں کرسکتا تھا۔ اس وقت چلّی اورسانتیاگو روایتوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا۔ “

وہ پابلو کا ابتدائی دور تھا۔ وہ ڈرتا رہا، شاعری کرتا رہا، محبت کے نغمے گنگناتا رہا، چھپ چھپ کر الورتینا سے ملتا رہا۔ وہ بھی محبت کے خاموش طوفان میں چھپتی رہی اور کوشش کرتی رہی کہ اس کے اور پابلو کے کے تعلقات کو قانونی شکل مل جائے۔ مگر سماج کا نیٹ ورک زیادہ مضبوط تھا۔ وہ دونوں نہ شادی کر کے ساتھ نہ رہ سکے اور الورتینا کی شادی میرے نانا سے ہو گئی۔“

”میں نے پابلو کواپی نانی سے سمجھا ہے، پڑھا ہے، دیکھا ہے، محسوس کیا ہے۔ شاید اس دنیا میں پابلو سے سب سے شدید محبت اسی نے کی ہے۔ “

”میرے نانا کے مرنے کے کئی سال کے بعد جب پابلو بھی مرچکا تھا، میری ماں کو جوتے کے دو ڈبوں میں چھپاے ہوئے پابلو کے خطوط مل گئے۔ اس وقت پہلی دفعہ میری نانی نے اقرار کیا کہ وہ پابلو کی محبوبہ رہی ہے۔ وہ پابلو کی محبوبہ ہے۔ “

”شروع میں ہمارے خاندان کے لیے یہ بڑے شرم کی بات تھی مگر میری ماں نے میری نانی کو پابلو سمیت قبول کرلیا۔ وہ ہمارے گھر میں بہت اطمینان سے اپنے بچوں کے درمیان پابلو کی تحریروں، نظموں کو دہراتی ہوئی ایک دن شاید اس کے پاس چلی گئی۔ “

گونسالو واقعات کو کسی نظم کی طرح بیان کر رہا تھا۔ اس کا دبلا پتلا جسم اپنے لمبے بالوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے زور زور سے ہلتا تھا۔ ”مجھے تو تم بھی شاعر لگتے ہو۔ “ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

”ہاں میں بھی شاعر ہوں اورشاعری کرتا ہوں۔ رومانی شاعری، سیاسی شاعری، امریکا کے خلاف ظلم وغربت کے خلاف، انصاف اور امن کے لیے، علم و آگہی کے لیے، ایک ایسے سماج کے لیے جہاں ظلم نہ ہو، انصاف ہو۔ “

”تمہاری انگلش بہت اچھی ہے، چلّی میں زبان کا بہت مسئلہ ہے۔ ہر کوئی ہسپانوی بولتا ہے، کوئی انگلش سمجھتا ہی نہیں ہے؟ “ میں نے سوال کیا۔

”میں امریکہ میں پڑھا ہوں اورمیری بیوی بھی امریکن ہے، اس وجہ سے میری انگلش بھی امریکن ہے۔ “

”تو تم امریکہ واپس چلے جاؤگے اپنی بیوی کے ساتھ۔ “

”نہیں کبھی نہیں۔ امریکہ میں کیا ہے۔ نہ تاریخ، نہ زبان، نہ کلچر صرف دوسرے اقوام کومحکوم بنانے کی خواہش۔ اگر مجھے چلّی چھوڑنا پڑا تو میں یورپ جاؤں گا، اسپین، فرانس یا اٹلی۔ “

”سنیتاگو کی یہ خاص بات ہے۔ ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے بے شمار بیرے، ٹیکسیاں چلاتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور، ہزاروں کی تعداد میں نظر آنے والے وہ فنکار جو سڑکوں اور چھوٹے موٹے تھیٹروں میں کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں معاشی خوشحالی نہ ہونے کے باوجود امریکہ نہیں جانا چاہتے ہیں، بلکہ یورپ جانا بڑے فخر کی بات مانی جاتی ہے۔ آخر کیوں؟ “ میں نے اس سے ایک طویل سوال کر ڈالا۔

”ارے! یہ تو بہت سادہ سی بات ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورے جنوبی امریکا میں زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو یوروپ کی ان انقلابی تحریکوں سے وابستہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور انہیں اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں جن کا مقصد جمہوریت کا حصول، شخصی آزادی کی بالادستی اور انسانی حقوق کی بحالی ہے۔ امریکہ میں یہ سب کچھ نہیں ہے، ان کے اصول مختلف اور پیمانے جدا ہیں۔ وہ امریکہ میں امریکیوں کے لیے جو چاہتے ہی وہ سب کچھ دنیا کے عوام کو دینا پسند نہیں کرتے ہیں۔ پابلو جیسے شاعروں کا یہی کمال ہے انہوں نے جنوبی امریکہ کے عوام کو اور نوجوانوں کو شناخت دی ہے، ان میں ان بلند انسانی اقدار کی روح پھونکی جس نے انہیں دنیا سے تھوڑا مختلف کردیا ہے۔ “

”پابلو نے مٹلڈا سے شادی کیوں نہیں کی۔ “ میں نے ایک اورسوال کیا۔

”وہ لاچس کولا میں چھپا رہا۔ مٹلڈا کے گھنے بالوں میں اپنے آپ کو چھپا کر اپنے آپ کومحفوظ سمجھتا رہا۔ اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تھا مگراس نے مٹلڈا سے بھی شادی نہیں کی۔ شاید وہ شادی کے ادارے کو ہی نہیں مانتا تھا۔ وہ چلّی کے اشرافیہ کے اس دوغلے پن سے شدید نفرت کرتا تھا جہاں وہ ایک بیوی اورخاندان کے ساتھ خوش وخرم رہنے کی نمائش کرتے تھے اور ہر ایک نے داشتائیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔ یہ اس کی زندگی کا ایک بھید نہی تھا، بلکہ مکمل طور پر اعلان تھا کہ وہ کس قسم کے سماج پر یقین رکھتا تھا۔ اگراس کی شادی میری نانی سے ہو جاتی تو شاید اس کی زندگی کچھ اور ہوتی، مگر بہت سارے ’شاید‘ ہیں اور بے شمار سوالات جن کے جواب نہ مل سکے ہیں اور نہ ملیں گے۔“

گروپ کے دوسرے لوگ لاچس کو لانے کے سامنے والے دروازے پر پہنچ چکے تھے جو سڑک پر کھلتا تھا جس پرحکومت کی جانب سے پابلو کی یادگار کی تعمیر کی گئی تھی۔ ہم لوگوں نے یادگار کی سیڑھیوں پربیٹھ کر تصویر کھینچوائی اور پابلو کے پسندیدہ ریسٹوران میں دوپہر کا کھانا کھانے چل دیے۔