کیا مشت زنی کرنا یا خود لذتی غیر فطری اور غیر صحتمند عمل ہے؟


ڈاکٹر خالد سہیل
کچھ ہفتے پہلے بی بی سی کی ایک وڈیو انٹرنیٹ پر سرکیولیٹ کرتے ہوئے دیکھی لیکن میں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ اس کے ٹائٹل سے میں نے یہی سمجھا کہ عوام کو اہم میڈیکل معلومات دی جا رہی ہیں جو کہ اچھی بات ہے۔ اس کے بعد مجھے یہ وڈیو دو افراد نے بھیجی اور اس پر تبصرے کی وڈیو بنانے کے لیے کہا۔ دوسرے صاحب نے ابھی تک اپنے سوالات کی لسٹ نہیں بھیجی ہے لیکن ڈاکٹر شازیہ نے اپنے سوالات لکھ کر بھیجے اور اگلے دن پھر سے یاددہانی کروائی کہ یہ جوابات جلدی بھیج دوں۔ اتوار کی چھٹی کے دن میں نے یہ جوابات لکھے اور ان کو پڑھ کر آئی فون سے اپنی وڈیو بنائی اور ان کو واٹس ایپ سے بھیج دی۔ شاید واٹس ایپ میں وڈیو کی لمبائی کی ایک حد ہے وہ پوری نہیں جا پائی۔ اس وڈیو کو کئی افراد نے شیئر کر لیا اور اس سے ایک بحث چھڑ گئی۔ کچھ ڈاکٹرز بھی بہت ناراض ہوئیں کہ ڈاکٹرز کو جاہل کیوں کہا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں نے کسی ڈاکٹر کو جاہل نہیں کہا ہے۔ ہر ڈاکٹر اپنی تعلیم و تربیت کے لحاظ سے کسی جگہ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس سے بھی سیکھتے ہیں۔ میڈیکل سائنس میں ہر روز ایک نئی دریافت ہورہی ہے اور کسی کی بھی تعلیم کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتی۔
کچھ افراد نے ان بنیادی انسانی اور سائنسی معلومات کو اخلاقیات، مذہب اور تہذیب پر حملے سے تشبیہ دی۔ جب پری میڈ کے اسٹوڈنٹس سے پوچھیں کہ آپ ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کریں گے۔ میڈیسن میں بہت سال کام کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ سارے دکھی انسان سکھی نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ بلکہ انسانیت کو دکھی رکھنے کا ایک بہت بڑا کاروبار ہے جو انہی کے پیچھے پڑ جاتا ہے جو بلی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کی کوشش کریں۔
بہرحال یہ اس وڈیو کی ٹرانسکرپٹ ہے۔
“میرا نام لبنیٰ مرزا ہے اور میں نارمن اوکلاہوما میں اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجی ہارمون سے متعلق بیماریوں کے بارے میں ہے۔ ہمارے کلینک میں ذیابیطس اور خواتین اور مردوں میں ہارمونز سے ہونے والی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
سوالات بھیجنے کے لیے آپ کا شکریہ ڈاکٹر شازیہ۔ حال ہی میں بی بی سی کی ایک وڈیو میں ایک خاتون ڈاکٹر صاحبہ نے ماسٹربیشن سے متعلق کچھ معلومات فراہم کیں جن سے نوجوانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہاں پر میں دو باتیں کہنا چاہوں گی۔ ایک تو یہ کہ اس وڈیو میں کچھ غلط انفارمیشن دی گئی ہے اور دوسری یہ کہ ایک انٹرنیشنل نیوز آرگنائزیشن ہونے کے لحاظ سے بی بی سی اردو پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ جس موضوع پر بھی تعلیمی وڈیوز بنائیں ان کو ان شعبوں کے ماہرین کو دکھا کر انٹرنیٹ پر چھاپنے سے پہلے ان کی رائے لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستند معلومات عوام تک پہنچائی جائیں۔
ماسٹربیشن کیا ہے؟
ماسٹربیشن اپنے جسم کو سیکچؤل پلیژر (جنسی تلذذ) کے لیے چھونے کو کہتے ہیں چاہے آپ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات ہوں یا نہ ہوں۔ چونکہ جنسی اعضا کا تعلق زندگی سے ہے اس لیے یہ ایک نارمل اور نیچرل نظام ہے جس میں بچے اپنی ماں کے پیٹ میں ہی اپنے جنسی اعضاؑ کو چھونے لگتے ہیں۔ اگر آپ کسی چھوٹے بچے کو اپنے جنسی اعضا چھوتے دیکھیں تو ان کی لعن طعن یا مار پیٹ نہیں کرنی ہے صرف یہ سمجھانا ہے کہ یہ نارمل ہے لیکن پرائویسی میں کرنے کا کام ہے۔ ماسٹربیشن ایک نارمل بات ہے اور اس کے کئی طبی فوائد ہیں۔
کیا زیادہ تر لوگ ماسٹربیشن کرتے ہیں؟
بہت سارے لوگ ماسٹربیشن کرتے ہیں چاہے وہ اس بارے میں بات نہ کریں۔ اس میں عمر یا صنف کا کوئی فرق نہیں ہے۔ انسان ماسٹربیشن مختلف وجوہات کے لیے کرتے ہیں۔ اس سے انہیں ریلیکس ہونے میں مدد ملتی ہے، ان کو اپنے جسم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور اگر ان کے پارٹنر دور ہوں تو اس سے وہ سیکچؤل ٹینشن ریلیز کرسکتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف سنگل افراد ماسٹربیٹ کرتے ہیں حالانکہ اس کا سنگل یا کسی تعلق میں ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
کچھ افراد اکثر ماسٹربیشن کرتے ہیں، کچھ کبھی کبھا ر اور کچھ کبھی نہیں۔ مختلف افراد کا ماسٹر بیشن کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اور اس کا کوئی اسٹینڈرڈ نارمل طریقہ نہیں ہے۔
کیا ماسٹربیشن صحت کے لیے مفید ہے؟
آپ نے بہت بار سنا ہوگا کہ ماسٹربیشن صحت کے لیے برا ہے جیسا کہ اس سے بال گر جاتے ہیں، آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں، جنسی اعضاؑ سکڑ جاتے ہیں، انفرٹیلیٹی ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ماسٹربیشن شروع کی تو اس کی عادت پڑ جائے گی۔ حالانکہ حقیقی بایولوجی اور میڈیکل سائنس کے لحاظ سے ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ماسٹربیشن صحت کے لیے قطعاً نقصان دہ نہیں ہے۔ اصل میں وہ آپ کی صحت کے لیے اچھا ہے۔ جسم کے لیے بھی اور دماغ کے لیے بھی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سب سے محفوظ طریقہ ہے جس میں نہ حمل کا خطرہ ہے اور نہ ہی جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والی بیماریوں کا۔
آرگازم سے جسم میں اینڈورفنز ہارمون نکلتے ہیں جو درد کا احساس کم کرتے ہیں اور انسان خود کو خوش محسوس کرتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کسی اور کے ساتھ جنسی تعلق سے ہوا یا اپنے ساتھ۔ اس موضوع پر بہت سی ریسرچ ہو چکی ہے جس سے ہم جانتے ہیں کہ ماسٹربیشن سے سیکچؤل ٹینشن کم ہوتا ہے، اسٹریس میں کمی واقع ہوتی ہے، اس سے نیند بہتر آتی ہے، انسانوں میں عزت نفس یا سیلف ایسٹیم بڑھتی ہے، ان کا اپنا باڈی امیج بہتر ہوتا ہے۔ کچھ تحقیق کے مطابق اس سے عمر رسیدہ افراد میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ خواتین میں ماسٹربیشن سے ان میں مینسٹروئیشن سے ہونے والے درد اور تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے اور ان کے پیلوک فلور کے مسلز مضبوط ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، جن خواتین کے کئی بچے وجائنا سے پیدا ہوئے ہوں ان میں پیلوک فلور کے مسلز میں کمزوری سے ان میں یورینری انکانٹنسس کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے یعنی کہ اگر وہ کھانسیں تو ان کا پیشاب نکل جاتا ہے۔ یہ ایک بہت عام مسئلہ ہے۔
ماسٹربیشن سے انسانوں کو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان کو جنسی تعلقات میں کیا پسند ہے۔ خود کو سمجھے بغیر کسی اور کے ساتھ خود کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ جو لوگ اس بارے میں آسانی سے اپنے ڈاکٹر سے یا اپنے پارٹنر سے بات کرسکتے ہیں ان میں ہی اتنی ہمت ہوگی کہ جنسی تعلقات سے ہونے والی بیماریوں کے بارے میں اور حمل سے متعلق اہم فیصلے کرسکیں۔ جیسا کہ آپ جانتی ہوں گی، پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران ماؤں کی اموت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ نارمل انسانی نظام کو ایک عجیب وغریب موضوع بنا کر جس پر بات کرنا ممنوع ہو، انسانیت کا بھلا نہیں کیا جا سکتا۔
کیا ماسٹربیشن سے اپنے جنسی پارٹنر سے تعلقات خراب ہوتے ہیں؟
ایک بھروسے والے تعلق میں جہاں اوپن کمیونیکیشن ہو وہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس سے تعلقات مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔
میں اکثر جگہوں پر پڑھتی ہوں کہ دیکھیں کس طرح جنسی کھلونوں سے، ان سیل فونوں سے بے راہ روی بڑھ رہی ہے۔ ماسٹر بیشن سے نوجوانوں کا اخلاق اور صحت تباہ ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ کوئی 21 ویں صدی کا نیا چلن نہیں ہے۔ اگر ہر انسان اپنا خیال رکھنا شروع کرے اور دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کی خواہش اپنے دل سے نکال دے تو انسانیت کا بھلا ممکن ہے۔
ڈاکٹر شازیہ، آپ کا آخری سوال ہے کہ کتنا ماسٹربیشن “ٹو مچ” ہے یعنی انتہائی زیادہ ہے؟
کچھ لوگ اکثر ماسٹربیشن کرتے ہیں، کچھ ہر روز، کچھ دن میں کئی مرتبہ، کچھ ہفتے میں ایک مرتبہ، کچھ کئی ہفتوں میں ایک مرتبہ اور کچھ کبھی کبھار۔ کچھ لوگ کبھی نہیں کرتے۔ یہ تمام بالکل نارمل باتیں ہیں۔
اگر آپ فزیالوجی کے لحاظ سے دیکھیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ کوئی ٹو مچ ماسٹربیشن سے اپنا جسم گھلا لے۔ انسانی جسم میں پہلے سے ہی ایک ریفیکٹری پیریڈ موجود ہے جس کی وجہ سے وقفہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ دفاعی نظام پہلے سے موجود ہے۔ آپ سوچیے کہ خواتین میں سے تو سیمن ایجیکیولیٹ نہیں ہوتا۔ ان پر یہ فلسفہ کیسے لاگو ہوگا؟
ماسٹربیشن صرف اس وقت ٹو مچ یا انتہائی زیادہ سمجھا جائے گا جب وہ آپ کی نوکری، آپ کی ذمہ داریوں اور سماجی زندگی میں مداخلت کرنے لگے۔ اگر ایسا ہو تو کاؤنسلر یا سائکاٹرسٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ میں ڈاکٹر سہیل سے کہوں گی کہ ایک سائکائٹرسٹ ہونے کے ناتے وہ اس موضوع پر روشنی ڈالیں۔
کافی لوگ بچپن میں یہ سنتے ہیں کہ ماسٹربیشن کوئی بری یا گندی بات ہے۔ یا کوئی گناہ ہے۔ اس لیے ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے اور وہ ماسٹربیشن سے خود کو گناہ گار یا مجرم محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک نارمل نظام ہے اور کوئی خود سے نہ بھی کرے تو خود ہی سوتے میں ہو جاتا ہے۔ یہ بھی تمام انسانوں میں بالکل نارمل بات ہے۔
لائف از سیکچؤلی ٹرانسمٹڈ!
Life is sexually transmitted.
زندگی قائم رہنا چاہتی ہے۔ زندگی آگے بڑھتے رہنا چاہتی ہے۔ اپنے آپ کو سمجھیں!
یور باڈی از دا گریٹسٹ انسٹرومنٹ یو ول ایور اون۔
Your body is the greatest instrument you will ever own!
ایک آخری بات میں یہاں پر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ سوچیئے کہ یہ غلط انفارمیشن کیوں پھیلائی جاتی ہیں؟ کیوں ایک نارمل انسانی نظام کو گناہ کا نام دیا جاتا ہے؟ بغیر شواہد کے غلط سائنسی دعوے کیوں کیے جاتے ہیں؟ اس میں کس کا فائدہ ہے؟ ان سوالوں پر غور کر کے میں خود کچھ نتائج پر پہنچی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ سننے والے اتفاق نہ کریں۔
 غلط انفارمیشن پھیلانے والوں میں سے کئی لوگ ایک نارمل بات کو بیماری بتا کر دوائیں بیچتے ہیں۔ تلمود میں خواتین کے لیے اس بارے میں کچھ ممانعت نہیں لیکن مردوں کے لیے ہدایات ہیں کہ قیمتی بیج ضائع نہ کیے جائیں۔ مذہبی پیشوا ان نارمل باتوں کو گناہ بتا کر مذہب بیچتے ہیں۔ ان کو خواتین کی زندگی، صحت، بچوں کی زندگی، صحت یا خوشی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
دوسرا نظام کیپیٹلزم کا ہے جس میں وہ یہی چاہتے ہیں کہ کمزور غریب اور مجبور لوگ ملٹی پلائی ہوتے رہیں تاکہ وہ انتہائی کم اجرت پر کام کریں۔ اور کوئی وجوہات مجھے سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔
٭٭٭    ٭٭٭
ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کو خط
ڈیر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا !
میں ‘ہم سب’ پر آپ کے کالم پچھلے دو سالوں سے متواتر پڑھ رہا ہوں۔ آپ جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں جو کالم لکھتی ہیں وہ بہت معلوماتی ہوتے ہیں۔ ان سے بہت سے قارئین استفادہ کرتے ہیں اور ایک صحتمند زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کا ماسٹربیشن پر لکھا ہوا کالم بھی مفید اور معلوماتی ہے۔ آپ نے مجھے دعوت دی ہے تو میں اپنے خیالات اختصار سے پیش کرتا ہوں۔
ایک انسان دوست ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ مذاہب انسانی اعمال کو نیکی بدی اور گناہ و ثواب کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں جبکہ طب اور سائنس انسانی اعمال کو صحت کے پیمانے پر جانچتے ہیں۔ ماضی کا ایک وہ دور تھا جب عیسائیت نے بھی ماسٹربیشن کو گناہ قرار دیا تھا۔ پادری اسے self abuse کہتے تھے۔ کیتھولک چرچ میں تو میاں بیوی کو بھی صرف missionary position میں مباشرت کرنے کی اجازت تھی۔ اور دہنی مباشرت بھی گناہ سمجھی جاتی تھی۔ عیسائیت میں روشن خیال لوگوں اور پادریوں نے روایتی اقدار کو چیلنج کیا اور اب بہت سے روشن خیال پادری ماسٹربیشن کی اجازت دیتے ہیں۔ اب وہ اسےself abuse  کی بجائے self pleasuring کہتے ہیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا !
میں آپ سے متفق ہوں کہ مشت زنی کرنا یا جلق لگانا یا خود وصلی کرنا نہ تو غیر فطری ہے نہ غیر صحتمند۔ یہ علیحدہ بات کہ وہ مرد اور عورتیں جو مذہبی اور روایتی خاندانوں میں پلے بڑھے ہوں وہ نہ صرف اسے غلط سمجھتے ہیں بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو احساسِ گناہ اور نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ بعض مرد تو ایسے احساسِ گناہ کی وجہ سے عارضی نامردی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔
میں ایسی کئی عورتوں سے مل چکا ہوں جنہوں نے زندگی میں کبھی ماسٹربیشن نہیں کی۔ وہ اورگیزم [جنسی معراج] کی لذت سے کبھی محظوظ نہیں ہوئیں۔ ایسی عورتوں نے جنسی تھیریپی کے بعد ماسٹربیٹ کرنا اور اورگیزم سے محظوظ ہونا سیکھا۔ ایسا کرنے سے ان کی ازدواجی زندگی بھی بہتر ہوئی۔ کئی شوہروں نے ہمارا شکریہ بھی ادا کیا کہ تھیریپی کے بعد اب ان کی ازدواجی زندگی میں رومانس داخل ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا !
 اگر ہم اپنے نوجوانوں کو جنسی تعلیم دیں گے تو وہ اپنے جسموں سے دوستی کریں گے۔ وہ اپنی رومانوی زندگی کے بارے میں صحتمندانہ اور دانشمندانہ فیصلے کریں گے۔ اور اپنی ازدواجی زندگی میں زیادہ کامیاب ہوں گے۔ آپ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے جانتی ہیں کہ جب نوجوان اپنے جنسی اور رومانوی جذبات کا صحتمند اظہار سیکھ جاتے ہیں تو وہ نہ صرف نفسیاتی مسائل بلکہ جنسی کجروی سے بھی بچ جاتے ہیں۔
مجھے اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دینے کا شکریہ۔
آپ کے کالموں کا مداح۔۔۔
ڈاکٹر خالد سہیل