سیکس، شادی، اور شادی کے بعد کسی اور کی چاہت

دیہات میں کم سنی کی شادی کا رواج عام ہے؛ ہم لڑکپن کی حدود میں داخل ہوئے تو ایک دیہی پس منظر رکھنے والے دوست کی شادی ہوگئی۔ اس وقت ہم شہری بابوؤں کو یہ علم نہ تھا، کہ شادی کے بعد حقوق زوجیت کیسے ادا کیے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے میرے ساتھ کے سبھی دوستوں کو نہ پتا ہوگا، لیکن دوست کی بارات میں شامل ہم سب اسکول بوایز ایک دوسرے کو گول مول جواب دیتے یہ تاثر دیتے رہے کہ ہم سب جانتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ اس کو میری سادگی کا ڈھونگ کہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہمارے لڑکپن میں سایبر ورلڈ نہ تھا۔ یہ تو کالج دور کی بات ہے کہ ہوسٹل میں وی سی آر منگوا کے پورن فلم دیکھی، اس وقت کیا حالت ہوئی وہ تو رہنے ہی دیں، اس کے بعد کئی روز تک پیٹ بھر کے نہ کھایا گیا، نہ پیا گیا۔ جونھی اورل سیکس کا کوئی منظر نگاہوں کے سامنے گھومتا، متلی سی ہونے لگتی۔ جس نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو، اس پر یک دم جنت کے دروازے کھول دیے جائیں تو اس کا یہی احوال ہوتا ہوگا۔

جنسیات اور مذہب انسان کا پسندیدہ موضوعات ہیں۔ کچھ مرد دوست ایک جگہ بیٹھے ہوں، عورت زیر بحث نہ آئے، یہ تبھی ممکن ہے جب وہ گہرے دوست نہیں ہیں۔ عورتوں کا بھی یہی احوال ہوگا، لیکن جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، وہاں سچ نہ بولنا، جھوٹ کا سہارا لینا معمولی بات ہے؛ پھر سوال جنسیات کے متعلق ہو، تو سچا جواب ملنا تبھی ممکن ہے، جب سوال جواب کرنے والے انتہائی قریبی دوست ہوں۔ کسی نے ایک دیہاتی سے سوال کیا کہ عورت کے لبوں سے لب ملانے کے بارے میں اس کے خیالات کیا ہیں؟ آگے سے جواب دیا گیا، کہ یہ تو بہت برا فعل ہے۔ اس کے بعد کچھ اور پوچھا جانا بے کار ثابت ہوتا، کیوں‌ کہ وہ سیکس میں فور پلے کی اہمیت سے بے خبر تھا۔ ہمارے یہاں رائے عامہ پر بھروسا کرتے جنسیات پر کوئی سروے کیا جائے تو ممکن ہی نہیں، کہ درست معلومات کا حصول ہوسکے۔ درست تو دور قریب قریب بھی پہنچا جا سکے۔ اس لیے کہ جنسیات پر بات چیت کرنا جرم سمجھا جاتا ہے، کرتے سبھی ہیں، لیکن ایسا کرنے والے کو بے شرم اور بے غیرت کہا جاتا ہے، سو جھوٹ تیرا آسرا۔

میری شادی کی تاریخ رکھی گئی تو مجھے خیال آیا، کہ میری معلومات تو پورن فلموں تک ہیں، مذہب کا جنس کے بارے میں کیا نظریہ ہے، یہ تو پڑھوں۔ لاہور سے پنڈی تک ہر بک اسٹال کے چکر لگائے، لیکن ایسی کتاب ڈھونڈنا مشکل ہو گئی؛ ایک دن اتفاقا راول پنڈی کے کمیٹی چوک کے قریب لا بک اسٹور پر ایک کتاب دکھائی دے گئی، عنوان ”اسلام کا نظریہ جنس“ از مولانا سلطان احمد اصلاحی؛ دلی سے شایع ہوئی یہ کتاب میں نے اپنے بہت سے عزیزوں کو پڑھنے کے لیے دی، اور ایک دن اس کتاب کے ساتھ وہی ہوا جو کتابیں مستعار دینے والوں کی کتب کا مقدر ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کے ادراک ہوا کہ اسلام میں جنس کا موضوع کوئی گالی نہیں، اور وہ باتیں جو ہندُستانی معاشرے میں معیوب سمجھی جاتی ہیں، وہ قطعی معیوب نہیں ہیں؛ ہاں فحاشی کی ممانعت ہے۔

کبھی کام سوتر اور تانترا کے پاکٹ سایز اڈیشن دکانوں پر چھپا کے رکھے جاتے تھے، میں نے وہ کبھی نہیں پڑھے، لیکن سنا ہے وہ گم راہ کن کتابیں تھیں۔ آٹھ دس برس پہلے ”نگارشات“ نے ان کتابوں کا مکمل حصہ ترجمہ کروا کے شایع کیا ہے۔ ممکن ہو تو ان کتابوں کو پڑھیے گا۔ ان کتابوں کو پڑھ کے مجھے حیرت ہوئی کہ اس دھرتی میں ہزاروں سال پہلے جنسیات کو آرٹ سمجھ کے اپنایا گیا، وہ آج کریہہ عمل کیوں کر سمجھا جانے لگا ہے۔ میرا قیاس ہے مذہبی پروہتوں کی من چاہی تشریحات نے مباشرت جیسے دل کش عمل کو کراہیت انگیز بنا کے پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہوگی، آج کل کے مذہبی پیشواوں کو دیکھ کے یہی قیاس کیا جا سکتا ہے، جن کی نظر میں شراب نوشی اور عورت مرد کا اختلاط ہی خرابیوں کی جڑیں ہیں۔ انسان یک سانیت سے بہت جلد اکتا جاتا ہے؛ ماہرین جنسیات کہتے ہیں، کہ مجامعت بھی ایک ایسا عمل ہے، جسے ایک ہی انداز میں کیے جانے سے انسان بے زار آ جاتا ہے۔ کام سوترا اور تانترک جنسی عمل کے اسباق ہیں۔ جن میں مختلف انداز کی مشقیں سکھائی جاتی ہیں؛ متوازن ماحول تخلیق کیے جانے پر زور دیا جاتا ہے۔

ایک اور موضوع ہے جو کہیں نہ کہیں اس تعلق کو بد مزہ کرتا ہے، وہ یہ کہ زن و مرد نے ایک دوسرے کو اپنی پراپرٹی (ملکیت) سمجھ لیا ہے، یہ بہت بڑی خرابی ہے۔ ہمارے یہاں لڑکی کو رخصت کرتے یہ کہا جاتا ہے، کہ جا رہی ہو تو اب شوہر کے گھر سے تمھارا جنازہ ہی نکلے۔ عموماً یہی ہوتا ہے، ان کا جنازہ ہی نکلتا ہے۔ اس معاشرے میں طلاق کو سب سے بڑی گالی بنا کے رکھ دیا گیا ہے۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ نکاح عورت مرد کے بیچ میں پارٹنر شپ ہے، اور یہ پارٹنر شپ ختم بھی کی جا سکتی ہے، تو کم از کم یہ گالی نہ بن پائے۔ طلاق کے سب سے برے اثرات بچوں کی شخصیت پر پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دو فریق ایک دوسرے سے اکتا چکے ہیں، ایک دوسرے کی تکریم کرنا بھول گئے ہیں، پھر بھی ساتھ رہتے ہیں؛ آئے روز جھگڑے رہتے ہوں، اس صورت میں بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات پڑیں گے، یا شرفا کی طرح بیٹھ کے علاحدگی کا معاہدہ کر لیا جائے، تو بچوں کی شخصیت کم متاثر ہوگی؟ میرے خیال میں دوسری صورت زیادہ بہ تر ہے، لیکن یہ کہنے کی باتیں ہیں، کیوں کہ معاشرہ چند افراد کے نظریات سے سروکار نہیں رکھتا۔ معاشرے کے رویے بدلنے کے لیے ہمیں آیندہ نسل کی مناسب تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے کہ میں اپنی بیٹی سے کبھی نہ کہوں، تم اُس گھر جا رہی ہو، تو اب وہاں سے تمھارا جنازہ ہی نکلے۔ ایسے ہی اولاد کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے، کہ ناچاقی کی صورت میں حتی المقدور صلح کا راستہ اختیار کیا جائے، نا گزیر ہو جائے تو اپنی اپنی راہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔

ناچاقی تو ایک جواز ہے، اور بھی تو ہو سکتے ہیں؛ کیا ایسا ممکن ہے، کہ جیون ساتھی میں سے کوئی ایک دوسرے سے اکتا جائے؟ باوجود اس کے کہ اس کا پارٹنر ہر لحاظ سے بہترین ہے، توانا ہے، مہربان ہے، شفیق ہے؟ میرا مشاہدہ ہے کہ ایسا ہے۔ سوشل ساینٹسٹ یا ماہر نفسیات اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں، کہ ایسا ہونے کی کیا وجوہ ہو سکتی ہیں۔ میں ایک سے زاید خواتین کو جانتا ہوں، جنھیں اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہیں، لیکن وہ کچھ اور چاہتی ہیں۔ ان کے من میں کچھ اور ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اس نہج پر ہوئی ہے کہ وہ کوئی دلیرانہ فیصلہ لینے کو تیار نہیں۔ پسند کسی اور کو کرنے لگتی ہیں، لیکن جرات نہیں کہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی دوسرے مرد کو اپنا لیں۔ کبھی سوچتی ہیں، زمانہ کیا کہے گا، کبھی خیال آتا ہے، جس کے لیے پہلے کو چھوڑا وہ دغا نہ دے جائے، کبھی ڈرتی ہیں کہ اولاد سے جائیں گی۔ مردوں کے ساتھ بھی ایسا ہے، لیکن ان کے پاس اختیار زیادہ ہے، نیز ایسی صورت میں عورت کو جو ”بد نامی“ جیسا داغ سہنا پڑتا ہے، مرد کو اس کا اس طرح سے سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اپنی مرضی سے شادی کرنے والی عورت کو یوں بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا، کجا ایک شادی شدہ عورت اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی دوسرے مرد سے شادی کا مطالبہ کرے۔ ایسی عورت کی کم سے کم سزا یہ ہو سکتی ہے، کہ اس کو طوائف کہا جانے لگے، جو ایک کے بعد دوسرے مرد کی خواہش رکھتی ہے؛ زیادہ سے زیادہ سزا تو کچھ بھی ہو سکتی ہے، ایسی باتوں پر خون ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے کوئی کسی کی جائداد پر قبضہ کر لے، تو بندوقیں نکل آتی ہیں۔

رشتے کو تازہ دم رکھنے کے لیے ضروری ہے، کہ اپنے آپ کو نیا رکھیں۔ عاشق اور معشوق بنے رہیں۔ شادی کے کچھ عرصے بعد، میاں بیوی تبھی سجتے سنورتے ہیں، جب انھیں گھر سے باہر جانا ہو۔ گھر میں ایسی حالت بنائے رکھتے ہیں، کہ آئنے میں اپنی صورت نہ تکیں۔ اپنے ایک دوست کے منہ سے سنا تھا، کہ شادی کے کچھ عرصے بعد میاں بیوی کی عادتیں ایک سی ہو جاتی ہیں۔ حتا کہ شادی کے دس سال بعد وہ ان کی شکلیں بھی اتنی ملنے لگتی ہیں، کہ وہ ایک دوسرے کے بہن بھائی لگنے لگتے ہیں۔ ایسے میں فریقین کو کوئی تیسرا اچھا نہ لگے تو تعجب کی بات ہے۔

13.8.2017