کیا میاں بیوی طلاق کے بعد بھی دوست رہ سکتے ہیں؟


مصنف: ڈاکٹر خالد سہیل۔ ۔ ۔ ثنا بتول درانی

ثنا بتول کا خط۔

ڈاکٹر صاحب!
آپ کی تحریر اور اپنے موضوع نفسیات پہ گرفت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ کا ہر کالم میرے لیے سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ مجھے خود بھی کافی حد تک انسانی نفسیات اور رویوں کو پڑھنے، سمجھنے اور سلجھانے کی کافی دلچسپی ہے۔ انسانی تعلق جو ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، ریلیشن شپ یا شادی کا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے اپیل کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تعلق بنتے ہوئے کافی وقت لیتا ہے لیکن جب اسے توڑا جاتا ہے تو عموماً ایک تلخی کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے جیسے اس میں کبھی محبت اور مٹھاس نہ رہی ہو۔ ایک طرح کی تلخی اور نفرت کے جذبے سے تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

اس میں بھی دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اس تعلق کو ختم کرنے کے بعد جلدی سے کہیں اور ہُک اپ کرتے ہیں کہ اسے بھلا دیں لیکن چونکہ وہ اپنے اندر تلخی لیے ہوتے ہیں اس لیے نئے بننے والے پارٹنر پہ اپنے سابقہ تجربے کا اطلاق کر کے نئے تعلق کو بھی اسی کانٹیکسٹ میں دیکھتے رہتے ہیں اور نتیجتاً ایک اور برے اور تلخ تجربے کو جنم دیتے ہیں۔

دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے تعلق سے نکل ہی نہیں پاتے۔ شدید صدمے کا شکار ہوتے ہیں محبوب کو یاد کرتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی ایک۔ ہی جگہ جامد ہو جاتی ہے وہ ہر کسی میں اپنے سابقہ پارٹنر کو ڈھونڈتے ہیں اور نہ ملنے پہ تنہا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میری نظر میں دونوں طرح کے لوگ ایک ایموشنل کرائسس کا شکار ہوتے ہیں انہیں اس سچوایشن سے نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ تمام عمر اسی گومگو میں رہتے ہیں اور صحت مند ریلیشن شپ قائم نہیں کر سکتے۔ میں آپ سے جاننا چاہتی ہوں کہ کس طرح سے محبوب یا پارٹنر کو خدا حافظ کہا جائے کہ یہ تلخی جنم نہ لے جو کم از کم ہمارے سماج کا ایک حصہ بن چکی ہے؟

جواب کی منتظر
آپ کی دوست۔ ۔ ۔ ثنا بتول درانی

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

ڈیر ثنا بتول صاحبہ!

آپ عمر میں کتنی چھوٹی لیکن ذہانت اور دانائی میں کتنی بڑی ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے۔ ۔ ۔ بزرگی بعقل است نہ بہ سال

میں ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم بھی پڑھتا ہوں اور کمنٹ بھی اور دونوں سے متاثر ہوتا ہوں۔
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ایک اہم موضوع پر مجھے خط لکھا اور میری رائے مانگی۔
ہم سب کتنے ہی ایسے جوڑوں کو جانتے ہیں جو

ایک دوسرے سے ملے۔
فون پر گھنٹوں باتیں ہوئیں۔
ساحل سمندر پر سیر کرنے گئے۔
کبھی اکٹھے لنچ کبھی ڈنر کھانے گئے۔
کبھی فلم دیکھنے اور کبھی آئس کریم کھانے گئے۔
ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔

پھر شادی کی اور بچے پیدا کیے۔
شادی اور بچوں کے چند ہفتوں مہینوں یا سالوں بعد۔
دلوں میں محبت کی آگ سرد پڑنے لگی ذہنوں پر راکھ جمنے لگی اور پھر چاہت کا شعلہ بجھ گیا۔
اور چاروں طرف مسائل کا دھواں پھیل گیا۔
بچوں کے مسائل سسرال کے مسائل۔
معاشی مسائل جنسی مسائل سماجی مسائل۔

ہنی مون کا دور ختم ہو گیا۔
وہ قریب رہ کر بھی دور ہونے لگے۔
ایک گھر میں رہ کر بھی دو دنیاؤں میں رہنے لگے۔
محبت آہستہ آہستہ نفرت تلخی اور غصے میں بدلنے لگی۔
لڑنے جھگڑنے لگے ایک دوسرے کو بچوں کے سامنے ذلیل و خوار کرنے لگے۔

بعض گالم گلوچ اور بعض ہاتھا پائی کرنے لگے۔
مستقبل کے سہانے خواب ڈراؤنے خواب بننے لگے۔
آخر ایک دن یا شوہر نے طلاق دے دی یا بیوہ نے خلع لے لیا۔
طلاق کے بعد بھی ساری عمر غصہ نفرت تلخی کا رشتہ قائم رہا۔
اور وہ غصہ نفرت تلخی دوسری اور پھر تیسری شادی میں گل کھلانے لگا۔

ڈیر ثنا بتول! آپ نے پوچھا ہے کہ میاں بیوی کے اس غصے نفرت تلخی کو کیسے روکا جائے۔
میں اپنے کلینک میں میاں بیوی کے سامنے دو حل پیش کرتا ہوں۔

پہلا حل یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے دوستانہ تعلقات قائم کریں۔ وہ میاں بیوی جو ایک دوسرے کے دوست بھی ہوتے ہیں وہ طلاق اور خلع میں بھی ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں اور احترام سے جدا ہوتے ہیں۔

دوسرا حل اپنے مسائل اور تضادات کا خوش اسلوبی سے حل تلاش کرنا ہے لیکن اس کے لیے دونوں اطراف کی خواہش ہونی چاہیے۔ اگر خواہش دو طرفہ نہیں ہے تو وہ مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکتے۔

میں میاں بیوی سے کہتا ہوں کہ شادی عارضی رشتہ ہو سکتا ہے لیکن ماں باپ اور بچوں کا رشتہ دائمی ہے اس لیے ماں باپ کو طلاق کے بعد بھی دوست رہنا چاہیے تا کہ اگر ان دونوں کو بچوں کی یونیورسٹی کی گریجوایشن یا شادی میں شریک ہونا پڑے تو وہ اپنی ذمہ داری مسکرا کر سرانجام دیں۔

اگر وہ ایک دوسرے کی زیادتیوں کو دل کی گہرائیوں سے معاف بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم بچوں کی خاطر ایک دوسرے سے عزت اور احترام سے پیش آئیں۔ افتی نسیم کا شعر ہے

؎ ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

ڈیر ثنا بتول!

میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ”بیٹے ڈیوس“ میری پچیس سال دوست تھیں پھر وہ پندرہ سال محبوبہ رہیں اور ہم اپنی منہ بولی بیٹی ایڈرئینا کے ساتھ ایک گھر میں رہے۔

تین سال پیشتر جب ہم جدا ہونے لگے تو میں نے ایڈرئینا سے کہا کہ بٹیا تمہاری امی اور میں جدا ہو رہے ہیں اور یہ گھر بیچ رہے ہیں تم کہاں رہنا چاہو گی؟ اپنی امی کے ساتھ یا میرے ساتھ؟

اس نے میری طرف دیکھا اور کہا ’آپ کے ساتھ‘ ۔
بے ٹی نے کہا ’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ ۔
بے ٹی ڈیوس اور میری جدائی میں نہ کوئی غصہ تھا نہ تلخی۔

ہم اب بھی دوست ہیں۔ وہ چھ مہینے کیلی فورنیا میں رہتی ہیں اور چھ مہینے کینیڈا میں۔ وہ کلینک چلانے میں اب بھی میری مدد کرتی ہیں۔

میرا موقف یہ ہے کہ میاں بیوی اگر چاہیں اور محنت کریں تو اپنے لیے اور بچوں کے مستقبل کی خاطر طلاق کے بعد بھی ایک دوسرے کے دوست رہ سکتے ہیں۔ بلکہ بعض کو تو حیرانی ہوتی ہے کہ طلاق کے بعد بہتر دوست بن جاتے ہیں۔
؎ دیر آید درست آید